جاوید رانا نے محکمہ جل شکتی میں ’’ نالج شیئرنگ اینڈ آئیڈیشن ‘‘ ورکشاپ سیریز کا آغاز کیا

جاوید رانا نے محکمہ جل شکتی میں ’’ نالج شیئرنگ اینڈ آئیڈیشن ‘‘ ورکشاپ سیریز کا آغاز کیا

افسران کے درمیان مسلسل سیکھنے اور موثر سروس ڈیلیوری کیلئے مقامی اداروں کو بااختیار بنانے پر زور دیا

جموں//وزیر برائے جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور مسٹر جاوید احمد رانا نے سول سیکرٹریٹ جموں میں محکمہ جل شکتی میں ’’ نالج شئیرنگ اینڈ آئیڈیشن ‘‘ ورکشاپ سیریز کا افتتاح اور دوبارہ آغاز کیا ۔ ورکشاپ کا افتتاح ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ جل شکتی مسٹر شالین کابرا کی موجودگی میں کیا گیا جبکہ محکمہ کے دیگر سینئر افسران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی موجود تھے ۔ یہ ورکشاپ سیریز محکمہ کے افسران اور عملے کیلئے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے تا کہ وہ فیلڈ تجربات ، تکنیکی علم اور بہترین طریقے شئیر کریں اور محکمہ کے کام کاج اور عوامی سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے اقدامات پر غور و خوض کریں ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسٹر رانا نے کہا کہ محکمے کے کام کو بہتر بنانے اور عوام تک خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کیلئے افسران کے درمیان مسلسل سیکھنے اور علم کے تبادلے کا عمل انتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سطحوں کے افسران کو ورکشاپ سیریز میں فعال طور پر حصہ لینا چاہئیے اور محکمے کے مجموعی فائدے کیلئے اپنے فیلڈ تجربات کا حصہ ڈالنا چاہئیے ۔ وزیر موصوف نے ورکشاپ سیریز کے کلیدی موضوعاتی شعبوں جیسے تکنیکی علم کی تازہ کاری ، محکمے کے اندر جدتیں ، فیلڈ تجربات اور بہترین طریقے ، محکمانہ طریقہ کار اور کام کی اخلاقیات ۔ عوامی خدمت کی فراہمی ، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال ، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی نشاندہی کی ۔ ورکشاپ میں افسران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا گیا تا کہ فیلڈ لیول کے فنکشنریز بشمول گرام پنچائت کے نمائندوں کیلئے تیار کردہ صلاحیت سازی کے ماڈیولز کا جائیزہ لیا جا سکے اور ان پر غور و خوض کیا جا سکے۔ مسٹر جاوید رانا نے یقین ظاہر کیا کہ دوبارہ شروع کی گئی سیریز محکمے کے اندر تکنیکی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گی اور افسران و فیلڈ فنکشنریز کے درمیان جدت طرازی اور مسلسل بہتری کی ثقافت کو فروغ دے گی ۔ اس موقع پر مسٹر شالین کابرا نے محکمے میں علم بانٹنے کے طریقوں کو ادارہ جاتی بنانے میں اس اقدام کی اہمیت کے بارے میں بھی بات کی ۔ انہوں نے پائیداری ، پانی کے معیار ، آپریشن اور دیکھ بھال ، مالیاتی انتظام اور کمیونٹی کی شرکت سمیت عملی اور اطلاق پر مبنی صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا ۔