سرینگر / /وادی اقتصادی بحران کی شکارہے ۔جس کے نتیجے کئی برسوں سے تجارتی سرگرمیاں بُری طرح متاثر ہیں ۔کیونکہ دکان کھلے ہیں اور بازاروں میں کاریگر ،دکاندار ،پٹری والے اور چھاپڑی فروش خریداروں کی راہیں دن بھر تکتے رہتے ہیں ۔ لیکن خریداری نہ ہونے کے برابر ہے ۔اگر چہ بازاروں میں لوگوں کی گہماگہمی رہتی ہے اور عام لوگوں کا یہ تاثر ہے کہ بازاروں میں اس رش کے بیچ خریداری بھی اچھی ہے لیکن ان کا یہ گمان صرف ایک دھوکہ ہے جبکہ حالات اس کے بالکل برعکس ہیں ۔ان حالات سے تاجر اور کاریگر کافی پریشان حال ہیں ۔کیونکہ یہی تجارت ان کی آمدنی کاواحد ذریعہ ہوتا ہے اور ان کے خرچات کا پورا بجٹ دکانات یاان کے اپنے ٹھکانوں سے حاصل ہوتا تھا لیکن حالات نے کروٹ بدلی اور وہ قرضداروں کے قرضہ جات چکانے سے بھی اب قاصر ہیں ۔جہاں وہ اپنے اہل وعیال کو عیش وآرام کی زندگی فراہم کرتے ہیں وہیں اب نہ وہ گھریلو خرچات پورا کرسکتے ہیں اور نہ دکانوں یا پٹریوں کا کرایہ ادا کرسکتے ہیں ۔کیونکہ وہ جو دن میں کماتے ہیں اس سے اس مہنگائی کے دور میں دو وقت کی روٹی بھی میسر رکھنے میں ناکام ہوجاتے ہیں ۔اس سنجیدہ اور کشیدہ صورتحال کے سلسلے میں کشمیر پریس سروس نمائندہ نے سرینگر کے بتہ مالو،مہاراج بازار اور گونی کھن میں کئی دکانداروں ،پٹری والوں اور کاریگروں سے بات کی تو مجموعی طور انہوں نے حالات کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف دن گذاری کیلئے اپنی دکانیں یا پٹریاں کھولتے ہیں ۔اس دوران نائی کی دکان میں کئی دیر تک ٹھہرنے کے بعد معلوم ہوا کہ جہاں ایک گھنٹے میں اس دکان میں درجنوں لوگ بال وریش کٹائی کرکے نکلتے تھے وہیں نمائندہ کے سوا وہاں پر کسی ایک خریدار کو نہیں دیکھا گیا ۔نمائندہ نے جب نائی سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ وہ آجکل کسمپرسی کی حالت میں ہیں کیونکہ خریداری نہ ہونے کے برابر ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کے دکان میں چار کاریگر ہوتے تھے اور کٹائی کیلئے گھنٹوں ہا خریدار کو انتظار کرنا پڑتا تھا اور ہمیں کھانے کیلئے بھی فرصت نہیں ملتی تھی اور کم ازکم پانچ چھ ہزار روپے یومیہ بنیادوں پر کماتے تھے ۔لیکن اب حالات یہاں تک پہنچے ہیں کہ نہ ہم کرایہ ادا کرسکتے ہیں اور نہ ہی کام کرنے والے کاریگروں کی تنخواہیں اور کہا کہ وہ دکان چھوڑ کر ہی چلے گئے اور بے روزی گاری سے ذہنی کوفت کے شکار ہیں جبکہ بجلی فیس کی ادائیگی سے قاصر ہیں کیونکہ جب ان کے پاس آمدنی کے ذرایعے ہی محدود ہوگئے تو وہ کہاں سے لائیں گے ؟اس دوران ان بازاروں میں پٹری والوں سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ لوگوں کی دن بھر گہماگہمی رہتی ہے اور لوگ چیزوں ،ملبوسات اور اجناس کو خوب دیکھتے ہیں اور قیمتیں بھی معلوم کرتے ہیں لیکن خریداری نہیں کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک حالات میں وہ روزانہ بنیادوں پر چیزوں کے ڈائزین تبدیل کرتے تھے اور لوگوں کی مند پسند چیزیں دستیاب رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور خریداری بھی خوب رہتی تھی ۔انہوں نے کہا کہ پٹریوں پر وہ بیٹھ کر ٹھیک ڈھنگ سے اپنا گذارا چلارہے تھے اور گھریلو اخراجات کے علاوہ شادی بیاہ ودیگر تقریبات پر خرچ ہونے والے اخراجات بھی پورا کرسکتے تھے لیکن اب خدا ہی حافظ ہے ۔دکانداروں نے پہلے سے غذائی اجناس کو چھوڑ کر دوسرے چیزوں بشمول ملبوسات ،ہوزری وغیرہ کی قیمتوں میں کمی لائی ہے اور وہ کم سے کم منافع پر ہی فروخت کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی خریداری نہیں ہوتی ہے ۔ان تمام طبقوں سے تجارت کا اس طرح متاثر ہونے کے بارے میں جب پوچھا گیا تو انہوں نے بیک زبان ایک ہی بات کہی کہ لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہے ۔جس کے پاس ملبوسات ہیں وہ چاہتا ہے کہ وہی استعمال کرکے اپنی زندگی چلائے گا دوسرے لانے کی سکت باقی نہیں رہی ہے کیونکہ گذشتہ دو برسوں کے دوران کو ئی فرد بشر اقتصادی بحران کا شکار ہوا ۔اس طرح سے مجموعی طورلوگوں کی معاشی حالت ابتر ہے ۔اس ضمن میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برسوں کے نقصان کی بھرپائی کرنے کیلئے ٹھوس اقدام اٹھاتے ہوئے خاص پیکیج فراہم کیا جائے اور بجلی ،پانی ودیگر سہولیات کے فیس میں کمی لائی جائے اور ٹیکسیز کو کم کیا جائے ۔دکانداروں کے بنک قرضوں میںرعایت دی جائے اور تجارت کو پٹری پر لانے کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ تجارت وکاروباری سرگرمیاں ایک بار پھر سے بحال ہوسکیں گے ۔










