نئی دہلی //بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی میونسپل کارپوریشن (این ڈی ایم سی) کی جانب سے پارلیمنٹ کے قریب واقع تاریخی سنہری باغ مسجد کے مجوزہ انہدام کے سلسلے میں عوام سے تجاویز و اعتراضات طلب کیے جا رہے ہیں۔ جس پر مسلمانوں اور مسلم تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مسلمانوں کے متحدہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سمیت تقریباً دو درجن مسلم تنظیموں اور جماعتوں کے وفاق ’آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت‘ اور ’جمعیت علماء ہند‘ نے ریاستی و مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کو منہدم کر کے فرقہ وارانہ صورتِ حال کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔
دہلی میں مسلمانو ں کی جانب سے وقف شدہ املاک کی دیکھ بھال کے ادارے ’دہلی وقف بورڈ‘ نے مسجد کے انہدام کے اندیشے کے پیشِ نظر عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا تھا جسے این ڈی ایم سی کی اس یقین دہانی کے بعد واپس لے لیا تھا کہ مسجد کو منہدم نہیں کیا جائے گا۔ دہلی وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ مسجد اس کی ملکیت ہے۔ جب کہ نیو دہلی میونسپل کارپوریشن نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد حکومت کی زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔
دہلی حکومت کے 2009کے نوٹی فکیشن کے مطابق مذکورہ مسجد ’ہیریٹج پراپرٹیز‘ کے گریڈ III میں شامل ہے۔ ایسی املاک کے بارے میں ’ہیریٹج کنزرویشن کمیٹی‘ کی ہدایت ہے کہ یہ عمارتیں سماجی اور فن تعمیر و جمالیاتی حسن کے لحاظ سے مخصوص اہمیت کی حامل ہیں۔ سنہری باغ مسجد دہلی وقف بورڈ کی ان 123 اراضیوں میں شامل ہے جن کے بارے میں عدالت نے کسی بھی قسم کی کارروائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
نیو دہلی میونسپل کارپوریشن نے اتوار کو ایک نوٹس جاری کر کے اس کے انہدام کے سلسلے میں یکم جنوری تک عوامی تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں۔
اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق کارپوریشن کو 300 جواب بذریعہ ای میل موصول ہوئے ہیں جن میں اکثریت نے مسجد کے ممکنہ انہدام کی مخالفت کی ہے۔
این ڈی ایم سی کا دعویٰ ہے کہ اس مسجد کی وجہ سے وہاں ٹریفک جام رہتا ہے لہٰذا اس کا انہدام ضروری ہو گیا ہے جب کہ مسجد کے امام مولانا عبد العزیز کے مطابق یہ مسجد سنہری باغ روڈ کے چوراہے پر واقع ہے اور اس کی وجہ سے کبھی ٹریفک کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔
تاریخ داں رعنا صفوی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس مسجد کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کو مولانا حسرت موہانی نے قائم کیا تھا اور اسی مسجد سے وہ یا تو بذریعہ سائیکل یا تانگہ پارلیمانی اجلاس میں شرکت کے لیے جاتے تھے۔
ان کے بقول، مولانا حسرت موہانی نے سب سے پہلے 1921 میں کانگریس اجلاس میں مکمل سوراجیہ یعنی مکمل آزادی کا نعرہ بلند کیا تھا۔ اگر یہ مسجد منہدم کی گئی تو جنگِ آزادی اور قوم پرستی سے متعلق ایک تاریخی ورثے کی تباہی ہوگی۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کا کہنا ہے کہ پہلے دہلی میں مسجدوں اور مزاروں کا انہدام نہیں ہوتا تھا مگر اب یہاں بھی شروع ہو گیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مرکزی حکومت ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس قسم کی کارروائی کرے گی تاکہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں تمام تر ذمہ داری وزیرِ داخلہ امت شاہ کی ہے۔ دہلی کے ’لیفٹننٹ گورنر‘ (ایل جی) ان کے ماتحت ہیں اور دہلی حکومت کا کوئی بھی کام ان کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق دہلی کی کیجری وال حکومت بالکل بے بس ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک بیان میں مسجد کے انہدام کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کارپویشن ٹریفک کا بہانہ بنا کر سنہری مسجد کو منہدم کرنا چاہتی ہے۔بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مسجد کے انہدام کے اندیشے کے پیشِ نظر دہلی وقف بورڈ نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اگر این ڈی ایم سی مسجد کے انہدام کی کوئی کارروائی کرتی ہے تو یہ توہینِ عدالت ہوگی۔انہوں نے این ڈی ایم سی کے نوٹس کو مبہم قرار دیا اور کہا کہ نوٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہلی ٹریفک کمشنر نے مسجد کے اردگرد ٹریفک کے باآسانی گزرنے میں پریشانی کا اظہار کرتے ہو ئے این ڈی ایم سی سے اس مسجد کو ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ جس پر این ڈی ایم سی نے مسجد کا مشترکہ معائنہ کیا اور اس معاملے کو مذہبی کمیٹی کے سپرد کیا۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ مذہبی کمیٹی نے اتفاق رائے سے مسجد کے انہدام کی بات کہی ہے۔










