Narendar Modi

فوجی تصادم مسائل کا حل نہیں، دنیا کوپائیدار و دیرپا امن کی ضرورت

بھارت عالمی کشیدگی کے بیچ امن، ترقی اور اصلاحات کے ایجنڈے پر گامزن// وزیر اعظم نریندر مودی

سرینگر// یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر فوجی تصادم کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور دنیا کو پائیدار، مستحکم اور دیرپا امن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یوکرین اور مغربی ایشیا کے جاری تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت ہمیشہ پرامن حل کا حامی رہا ہے۔یہ بات انہوں نے آسٹریا کے چانسلر کرسٹن کے ساتھ نئی دہلی میں ملاقات اور مشترکہ پریس بیان کے دوران کہی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج پوری دنیا ایک نہایت سنگین اور کشیدہ صورتحال سے گزر رہی ہے اور اس کے اثرات ہم سب محسوس کر رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ بھارت اور آسٹریا اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی تنازعے کا حل جنگ کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ بات چیت، تعاون اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔انہوں نے کہاہم یوکرین اور مغربی ایشیا میں مستحکم، پائیدار اور دیرپا امن کی حمایت کرتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے چانسلر اسٹاکر کے دورہ بھارت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی توانائی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان حالیہ فری ٹریڈ معاہدے کے بعد تعلقات میں ایک ‘‘نیا سنہرا باب’’ شروع ہوا ہے، اور آسٹریا کے ساتھ شراکت داری اس کو مزید مضبوط کرے گی۔انہوں نے انفراسٹرکچر، انوویشن، صاف توانائی اور شہری ترقی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے دیرینہ تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریا کی تکنیکی مہارت اور بھارت کی وسعت مل کر عالمی سطح پر قابلِ اعتماد سپلائی چین اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے سکتی ہے۔ دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بائیوٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔تعلیمی میدان میں تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انڈئن انستی چیوٹ آف تیکنالوجی دہلی اور یونیورسٹی مونٹان لیوبن کے درمیان مفاہمتی معاہدہ علمی تبادلے کی ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے تبادلے اور ‘‘ورکنگ ہالیڈے پروگرام’’ کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔وزیر اعظم نے عالمی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ عالمی عزم ضروری ہے۔ادھر داخلی محاذ پر وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے آغاز سے قبل خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک ایک تاریخی قدم اٹھانے جا رہا ہے جس کا مقصد خواتین کو سیاسی نمائندگی میں مناسب حصہ دینا ہے۔ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں ناری شکتی وندن کے نفاذ کے لیے آئینی ترمیمی بل پیش کیا جا رہا ہے، جس کے تحت لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کر کے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو عملی شکل دی جائے گی۔مجوزہ قانون کے مطابق لوک سبھا کی مجموعی نشستیں موجودہ 543 سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 تک کی جا سکتی ہیں، جبکہ ریاستی اور یونین ٹیریٹری اسمبلیوں میں بھی خواتین کے لیے مخصوص نشستیں رکھی جائیں گی۔ یہ نشستیں مختلف حلقوں میں باری باری (روٹیشن) کی بنیاد پر مختص کی جائیں گی۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایک طرف بھارت عالمی سطح پر امن اور سفارتکاری کا پیغام دے رہا ہے، وہیں اندرون ملک خواتین بااختیاری اور جمہوری اصلاحات کے بڑے اقدامات کی طرف بھی تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے جمعرات کو اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین ریزرویشن قانون کے نفاذ سے متعلق بلوں کو سیاسی رنگ نہ دیں، اور خبردار کیا کہ ماضی میں اس کی مخالفت کرنے والوں کو انتخابات میں نقصان اٹھانا پڑا تھا۔لوک سبھا میں بحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ حد بندی (ڈیلمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، چاہے وہ مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب۔انہوں نے کہا کہ اگر تمام جماعتیں ان بلوں کی حمایت کریں تو اس سے کسی ایک پارٹی کو نہیں بلکہ پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو فیصلہ سازی کا حصہ بنانا ملک کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔وزیر اعظم نے کہا، ’’ماضی میں جن لوگوں نے خواتین ریزرویشن کی مخالفت کی، انہیں ملک کی خواتین نے معاف نہیں کیا اور انہیں انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘ایوان میں آئینی(131ویں ترمیمی) بل پیش کیا گیا، جس کا مقصد خواتین کوٹہ قانون میں ترمیم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ دو دیگر بل حد بندی بل اور مرکزی زیر انتظام قوانین (ترمیمی) بل بھی پیش کیے گئے تاکہ دہلی، پڈوچیری اور جموں و کشمیر سمیت مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اس قانون کا نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔زیر اعظم نے ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کریں اور خواتین کو ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی چشمے سے نہ دیکھا جائے بلکہ قومی مفاد میں فیصلہ کیا جائے۔اس سے قبل تقریباً 40 منٹ تک جاری رہنے والی گرما گرم بحث کے بعد اپوزیشن نے ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں آئینی ترمیمی بل کو 251 ووٹوں کی حمایت اور 185 ووٹوں کی مخالفت کے ساتھ پیش کیا گیا۔