amit shah

مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن غیر آئینی، مسلمانوں کو کوٹہ نہیں دیا جائے گا

مردم شماری کے ساتھ ذات پات کی گنتی بھی ہوگی// وزیر داخلہ امیت شاہ

سرینگر// یو این ایس//مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے واضح کیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی بھی طبقے، خصوصاً مسلمانوں کو ریزرویشن دینا آئین کے خلاف ہے اور حکومت اس طرح کا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن اور حد بندی سے متعلق بلوں پر بحث کے دوران ایک طویل اور جارحانہ خطاب میں شاہ نے کہا کہ ‘‘مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ ہمارا آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔’’ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ موقف واضح اور غیر متزلزل ہے کہ ایسا کوئی کوٹہ نہیں دیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق بحث کے دوران سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں، جن میں اکھلیش یادو بھی شامل تھے، نے مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کی حمایت کی، تاہم وزیر داخلہ نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔شاہ نے اس موقع پر ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مردم شماری کے دوران ذات پات (کاسٹ) کی گنتی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پہلے ہی اس کا فیصلہ کر چکی ہے اور یہ عمل جاری مردم شماری کے ساتھ ہی مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت گھروں کی گنتی (ہاؤس لسٹنگ) کا عمل جاری ہے، اور ذات پات کی تفصیلات بعد کے مرحلے میں شامل کی جائیں گی۔ شاہ نے کہا’’میں ذاتی طور پر چاہتا ہوں کہ ذات پات کی گنتی ہو، اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ مردم شماری کے ساتھ ہی یہ عمل مکمل ہو۔‘‘ایوان میں زیر بحث بلوں میں آئینی ترمیم، یونین ٹیریٹری قوانین میں ترمیم اور حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) سے متعلق قانون شامل ہیں، جن کا مقصد خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو عملی شکل دینا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کر کے ان میں خواتین کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی جائیں گی۔شاہ نے طنزیہ انداز میں اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی پارٹی اپنی تمام ٹکٹیں مسلم خواتین کو دینا چاہتی ہے تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، تاہم آئینی حدود کو عبور نہیں کیا جا سکتا۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر جاری بحث کو مزید تیز کرے گا بلکہ ملک میں ریزرویشن، مردم شماری اور انتخابی اصلاحات سے متعلق سیاسی بیانیے کو بھی نئی سمت دے سکتا ہے۔