منشیات کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا‘نشہ مکت’ مہم کو عوامی تحریک بنانا لازمی

منشیات کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا‘نشہ مکت’ مہم کو عوامی تحریک بنانا لازمی

منشیات کے نیٹ ورکس کو توڑنا اور متاثرہ افراد کی بحالی کو یقینی بنانا ضروری// لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا

سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک یونین ٹیریٹری کو منشیات کی لعنت سے مکمل طور پر نجات نہیں دلائی جاتی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار جمعرات کو سرینگر میں منعقدہ خواتین کسانوں کی ایک بڑی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں انہوں نے منشیات کے خلاف جاری مہم کو ایک ہمہ گیر عوامی تحریک بنانے پر زور دیا۔یو این ایس کے مطابق ایل جی نے کہا کہ منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے بلکہ پورے سماج کی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو ایک’’سماجی وبا‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت تمام سرکاری محکمے سرگرم عمل ہیں، جن میں سوشل ویلفیئر، صحت، تعلیم اور پولیس شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 11 اپریل کو جموں میں ‘نشہ مکت’ مہم کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد عوام میں بیداری پیدا کرنا، منشیات کے نیٹ ورکس کو توڑنا اور متاثرہ افراد کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم کو محض سرکاری پروگرام نہیں بلکہ ایک عوامی مشن کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ایل جی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودیکی جانب سے 2020 میں شروع کیے گئے ‘نشہ مکت بھارت ابھیان’ کے تحت جموں و کشمیر میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سرگرمی سے کارروائیاں انجام دے رہے ہیں، منشیات کی بڑی مقدار ضبط کی جا رہی ہے، اسمگلروں کے خلاف شکنجہ کسا جا رہا ہے اور مقدمات کے اندراج میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں اس مہم کا باقاعدہ آغاز 3 مئی کو کیا جائے گا، جس کے ذریعے دیہی و شہری علاقوں میں بیداری مہمات، اسکولوں اور کالجوں میں آگاہی پروگرام، اور کمیونٹی سطح پر شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔ ایل جی نے خواتین سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ وہ خاندان اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی سب سے بڑی قوت ہیں۔منوج سنہا نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت تنہا اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے ہر فرد، خاص طور پر والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما اور سماجی کارکنان کو اس جدوجہد میں شامل ہونا ہوگا۔ انہوں نے ان خاندانوں کا ذکر بھی کیا جو منشیات کے باعث اپنے بچوں کو کھو چکے ہیں یا شدید مشکلات کا شکار ہوئے ہیں، اور کہا کہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسلوں کو اس خطرے سے محفوظ رکھا جائے۔اپنے خطاب میں ایل جی نے خواتین کسانوں کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں خواتین کا کردار ناقابلِ فراموش ہے اور وہ نہ صرف کھیتی باڑی میں اہم حصہ ڈالتی ہیں بلکہ مویشی پروری، باغبانی اور دیگر ذیلی شعبوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا، ‘‘اگر خواتین کسان نہ ہوں تو ہر دسترخوان خالی رہ جائے۔ وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ محنت کرتی ہیں اور اپنی لگن سے خوراکی تحفظ کو یقینی بناتی ہیں۔ ان کی محنت سے ہی گھروں اور معاشرے میں خوشحالی آتی ہے۔ایل جی نے خواتین کو ایگری بزنس اور خود روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مختلف اسکیموں کے ذریعے انہیں مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری نہ صرف خاندانوں بلکہ پورے خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔تقریب میں بڑی تعداد میں خواتین کسانوں، ماہرین زراعت اور سرکاری افسران نے شرکت کی، جہاں زراعت میں جدید تکنیک، مارکیٹ تک رسائی، اور خواتین کو درپیش چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔