دو روزہ قومی کانفرنس میں شواہد پر مبنی علاج، امراض کی جلد تشخیص، احتیاطی نگہداشت، طبی تحقیق اور نوجوان ڈاکٹروں کی عملی تربیت پر خصوصی زور
نعیم الحق
سری نگر//ملک بھر کے ممتاز طبی ماہرین، معروف معالجین، محققین اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں نے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (SKICC) سری نگر میں منعقدہ دو روزہ قومی کانفرنس KASHMEDCON 2026 میں شرکت کرتے ہوئے جدید طبی تحقیق، شواہد پر مبنی علاج، امراض کی بروقت تشخیص اور مریضوں کی بہتر نگہداشت سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ کانفرنس میں جدید طب کے بدلتے ہوئے تقاضوں، پیچیدہ بیماریوں کے علاج اور صحت عامہ کے شعبے میں احتیاطی تدابیر کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
گورنمنٹ میڈیکل کالج (GMC) سری نگر کے شعبۂ جنرل میڈیسن کے زیرِ اہتمام 14 اور 15 اکتوبر کو منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں جموں و کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے طبی ماہرین، محققین اور میڈیکل طلبہ نے شرکت کی۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد اندرونی امراض کے شعبے میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت سے طبی برادری کو روشناس کرانا، سائنسی علم کے تبادلے کو فروغ دینا اور مریضوں کے علاج کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کرنا تھا۔

کانفرنس کا افتتاح اسوسی ایشن آف فزیشنز آف انڈیا (API) کے صدر پروفیسر جی نرسمولو نے کیا۔ اس موقع پر GMC سری نگر، شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS)، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) نئی دہلی، GMC جموں، AIIMS جموں اور دیگر معروف طبی اداروں کے فیکلٹی ممبران اور مندوبین نے سائنسی مباحثوں میں حصہ لیا۔
کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید طبی تحقیق سے حاصل ہونے والے شواہد کو روزمرہ علاج میں مؤثر انداز میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق بیماریوں کی بروقت شناخت، درست تشخیص، مناسب ادویات کا استعمال اور مریض کی انفرادی ضروریات کے مطابق علاج نہ صرف صحت یابی کے امکانات بڑھاتے ہیں بلکہ پیچیدگیوں اور طویل مدتی معذوری کے خطرات کو بھی کم کر سکتے ہیں۔
جی ایم سی سری نگر کے شعبۂ جنرل میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل نے آرگنائزنگ چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جبکہ ڈاکٹر اسحق حسین پرے آرگنائزنگ سیکریٹری رہے۔ ڈاکٹر بشارت احمد نے بھی آرگنائزنگ سیکریٹری کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں، جبکہ ڈاکٹر حیدر حامد لون نے آرگنائزنگ کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے کانفرنس کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

جدید امراض اور علاج کے نئے طریقوں پر سائنسی مباحث
کانفرنس کے سائنسی پروگرام میں اندرونی طب سے متعلق مختلف بیماریوں اور طبی چیلنجوں کا احاطہ کیا گیا۔ ان میں متعدی امراض، قلبی ہنگامی حالات، ذیابیطس، موٹاپا، خودکار مدافعتی بیماریاں، جگر کے امراض اور پیچیدہ گردوں کی بیماریوں سمیت متعدد اہم موضوعات شامل تھے۔
پہلے روز کے سیشنوں میں اینٹی مائیکروبیل اسٹیورڈشپ، اینٹی بایوٹکس کا دانشمندانہ استعمال، انفلوئنزا سے بچاؤ، موٹاپے اور ذیابیطس کے علاج میں پیش رفت، قلبی ہنگامی صورتحال، سیپسس، سسٹمک اسکلروسیس اور کیڑے مار ادویات کے زہریلے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ماہرین نے اینٹی بایوٹکس کے غیر ضروری اور غیر مناسب استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کا غلط استعمال جراثیم میں مزاحمت پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عام انفیکشن کا علاج بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اینٹی بایوٹکس کا استعمال مستند طبی مشورے اور مناسب تشخیص کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اینٹی مائیکروبیل مزاحمت سے نمٹنے کے لیے ڈاکٹروں کو علاج کے دوران سائنسی شواہد، مریض کی طبی کیفیت اور متعلقہ رہنما اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اینٹی بایوٹکس کا محتاط استعمال نہ صرف موجودہ مریضوں کے بہتر علاج کے لیے ضروری ہے بلکہ مستقبل میں ان ادویات کی افادیت برقرار رکھنے کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
کانفرنس میں کیڑے مار ادویات کے زہریلے اثرات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ماہرین نے کہا کہ زرعی سرگرمیوں سے وابستہ افراد میں ان ادویات کے غیر محفوظ استعمال، حفاظتی آلات کی عدم دستیابی اور کیمیائی مادوں کو نامناسب طریقے سے ذخیرہ کرنے کے باعث صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں کسانوں اور زرعی مزدوروں میں بیداری پیدا کرنے، چھڑکاؤ کے دوران حفاظتی لباس اور دیگر ضروری آلات استعمال کرنے اور زہریلے کیمیکلز کو بچوں کی پہنچ سے دور محفوظ مقامات پر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
امراض سے بچاؤ اور بروقت تشخیص پر زور
کانفرنس کے دوران ماہرین نے اس بات کو نمایاں کیا کہ متعدد سنگین بیماریوں میں بروقت تشخیص اور فوری طبی مداخلت مریض کی زندگی بچانے اور پیچیدگیوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انفلوئنزا سے بچاؤ کے حوالے سے مقررین نے خصوصاً بزرگ افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے ویکسینیشن کی اہمیت اجاگر کی۔ ماہرین کے مطابق سردیوں کے موسم میں انفیکشن کے خطرات بڑھنے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر، بروقت طبی مشورہ اور مناسب ویکسینیشن صحت کے تحفظ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

فالج سے متعلق سیشن میں ماہرین نے عوامی سطح پر آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چہرے کا اچانک ایک طرف جھک جانا، جسم کے ایک حصے میں کمزوری اور بولنے میں دشواری فالج کی اہم علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں مریض کو فوری طور پر اسپتال پہنچانا ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فالج کے علاج میں تاخیر سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مریض کو طویل مدتی معذوری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے علامات کی فوری شناخت، ہنگامی طبی خدمات تک بروقت رسائی اور علاج میں تاخیر سے گریز ناگزیر ہے۔ نوجوانوں میں کمر کے مسلسل درد اور ریڑھ کی ہڈی کی سوزش سے متعلق بیماری اینکائیلوزنگ اسپونڈیلائٹس کی جلد تشخیص پر بھی زور دیا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ اگر کسی نوجوان کو مسلسل کمر درد کے ساتھ صبح کے وقت اکڑن محسوس ہو اور جسمانی سرگرمی سے درد میں بہتری آئے تو اسے معمولی تکلیف سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی علامات کی صورت میں مناسب طبی معائنہ ضروری ہے تاکہ بیماری کی بروقت شناخت اور علاج ممکن ہو سکے۔ تپِ دق (ٹی بی) کے حوالے سے مقررین نے کہا کہ دو ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی کھانسی کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور اس کی مناسب طبی جانچ کرائی جانی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تپِ دق قابلِ علاج بیماری ہے اور اہل مریض سرکاری صحت مراکز کے ذریعے علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔

ذیابیطس، موٹاپے اور جگر کی بیماریوں پر توجہ
کانفرنس میں ذیابیطس، موٹاپے اور جگر کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ غیر متوازن طرزِ زندگی، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور وزن میں غیر ضروری اضافے کے باعث متعدد میٹابولک بیماریوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ مقررین نے متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی ورزش، وزن کو مناسب حد میں رکھنے اور وقتاً فوقتاً طبی معائنے کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کے مطابق احتیاطی تدابیر اور بروقت تشخیص کے ذریعے ذیابیطس اور موٹاپے سے متعلق پیچیدگیوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
میٹابولک ڈس فنکشن سے وابستہ اسٹیٹو ٹک لیور ڈیزیز (MASLD) پر ہونے والی گفتگو میں جگر کی صحت، میٹابولک مسائل اور طویل مدتی نگہداشت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ جگر کی بیماریوں کی بروقت شناخت اور مریض کی مجموعی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔
دوسرے روز خودکار مدافعتی امراض اور پیچیدہ طبی مسائل زیرِ بحث

کانفرنس کے دوسرے روز خودکار مدافعتی امراض، اینکائیلوزنگ اسپونڈیلائٹس کی ابتدائی تشخیص، حمل کے دوران گٹھیا، MASLD، امیون تھرومبوسائٹوپینیا (ITP)، مونوکلونل پروٹینز سے وابستہ گردوں کی خرابی اور تپِ دق کے علاج سے متعلق تازہ ترین رہنما اصولوں پر گفتگو کی گئی۔
ان سیشنوں میں پیچیدہ طبی معاملات کی تشخیص، جدید سائنسی شواہد کی روشنی میں علاج کے انتخاب اور مریضوں کی نگہداشت کے بہتر طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے طبی منظرنامے میں ڈاکٹروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید تحقیق اور علاج کے تازہ ترین رہنما اصولوں سے باخبر رہیں۔ کانفرنس میں پروفیسر جی نرسمولو، پروفیسر پرویز کول، AIIMS نئی دہلی کے پروفیسر نیر جمشید، ڈاکٹر اجے گپتا اور ڈاکٹر بملیش دھر سمیت متعدد قومی اور علاقائی طبی ماہرین نے شرکت کی اور اپنے تجربات و علمی معلومات سے مندوبین کو مستفید کیا۔

نوجوان ڈاکٹروں کے لیے تحقیق اور عملی تربیت کے مواقع
KASHMEDCON 2026 کی ایک اہم خصوصیت نوجوان ڈاکٹروں اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو تحقیق اور علمی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ شرکاء نے سائنسی مقالوں اور پوسٹر پریزنٹیشنز کے ذریعے اپنے تحقیقی کام پیش کیے، جن پر ماہرین کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوان طبی پیشہ ور افراد میں تحقیقی رجحان کو فروغ دینا، سائنسی شواہد کے تنقیدی جائزے کی صلاحیت پیدا کرنا اور طبی مسائل کے حل کے لیے علمی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

کانفرنس کے دوران پوائنٹ آف کیئر الٹراساؤنڈ (POCUS) اور ایکوکارڈیوگرافی پر ایک خصوصی عملی ورکشاپ بھی منعقد کی گئی۔ اس ورکشاپ میں بسترِ مریض پر تشخیص کے جدید طریقوں اور فوری طبی جائزے میں ان کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق جدید تشخیصی آلات سے متعلق عملی تربیت ڈاکٹروں کو مریضوں کی طبی کیفیت کا فوری جائزہ لینے اور علاج سے متعلق فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ورکشاپ نے نوجوان ڈاکٹروں کو جدید تشخیصی طریقوں سے واقف ہونے اور اپنی عملی مہارتوں کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کیا۔
منتظمین نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد طبی اداروں کے درمیان تعلیمی تعاون کو فروغ دینا اور ڈاکٹروں کو معمول کی طبی نگہداشت میں شواہد پر مبنی طریقۂ علاج اپنانے کی ترغیب دینا تھا۔
مرحوم پروفیسر محمد یوسف بھٹ کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ

کانفرنس کا ایک اہم اور قابلِ ذکر لمحہ مرحوم پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف بھٹ کے اہلِ خانہ کو پروفیسر ڈاکٹر سید نصیر احمد شاہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اِن میڈیسن پیش کرنا تھا۔

یہ اعزاز طب کے شعبے میں مرحوم پروفیسر کی خدمات، طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی نگہداشت کے لیے ان کی وابستگی کے اعتراف میں دیا گیا۔ اس موقع پر طبی تعلیم اور صحت عامہ کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دینے والے معالجین اور اساتذہ کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

کانفرنس کا اختتام بہترین سائنسی مقالوں اور پوسٹر پریزنٹیشنز میں حصہ لینے والوں کی حوصلہ افزائی اور اعزازات کے ساتھ ہوا، جس کے بعد باضابطہ طور پر اظہارِ تشکر کیا گیا۔
منتظمین نے کانفرنس کی کامیابی میں فیکلٹی ممبران، پوسٹ گریجویٹ طلبہ، سینئر ریزیڈنٹس، مندوبین، شعبہ جاتی عملے اور آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان کے تعاون کو سراہا۔

جموں و کشمیر میں طبی تحقیق کے لیے اہم پیش رفت
KASHMEDCON 2026کو جموں و کشمیر میں اندرونی طب کے شعبے کے لیے ایک اہم علمی پلیٹ فارم کے طور پر فروغ دینے کی کوشش قرار دیا گیا، جس کا مقصد طبی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا اور نوجوان ڈاکٹروں کو جدید طبی پیش رفت سے باخبر رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں پیچیدہ بیماریوں، علاج کے بدلتے ہوئے طریقوں اور احتیاطی نگہداشت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر ایسی کانفرنسیں طبی برادری کو اپنے علم اور تجربات کا تبادلہ کرنے کا مؤثر موقع فراہم کرتی ہیں۔

کانفرنس میں ہونے والی گفتگو نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ بہتر طبی نتائج کے لیے صرف جدید ادویات اور تشخیصی سہولیات کافی نہیں، بلکہ ان کا بروقت، ذمہ دارانہ اور سائنسی بنیادوں پر استعمال بھی ضروری ہے۔
منتظمین نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی علمی سرگرمیوں کے تسلسل سے جموں و کشمیر میں طبی تحقیق کو فروغ ملے گا، نوجوان ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور خطے میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔










