وزیر اعظم مودی نے خطے کی تعمیر وتیز رفتار ترقی کو ترجیح قرار دیا
سرینگر// یو این ایس / وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ورچوئل تقریب کے ذریعے لداخ میں تقریباً 3,350 کروڑ روپے کی لاگت والے پانچ ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ان منصوبوں میں آبی تحفظ، بجلی کے بنیادی ڈھانچے، تاریخی ورثے کے تحفظ، ہوائی اڈے کی سہولیات اور اہم سڑک رابطوں کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔پروجیکٹ ہِم سروور کے تحت 40 دیہات میں 40 آبی ذخائر تیار کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد لداخ میں پانی کو محفوظ کرنا اور ضرورت کے وقت اس کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پہل مشن امرت سروور کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔سرکاری بیان کے مطابق لداخ میں برف پگھلنے اور گلیشیئرز سے پانی دستیاب ہونے کے باوجود کسانوں کو فصلوں کی بوائی کے موسم میں اکثر پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے دستیاب پانی کو ذخیرہ کرکے ضرورت کے وقت استعمال میں لانے میں مدد ملے گی۔وزیر اعظم نے لیہہ کے سندھ ±و گھاٹ میں بھارت کے پہلے پیٹروگلف کنزرویشن پارک کا بھی افتتاح کیا۔ اس پارک کا مقصد لداخ کے قدیم آثارِ قدیمہ اور تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنا ہے۔لداخ میں قبل از تاریخ دور کے چٹانی فن پاروں کے سیکڑوں مقامات موجود ہیں، جہاں جانوروں، انسانی شکلوں اور مختلف علامتی نقوش کی صورت میں قدیم تاریخ کے آثار ملتے ہیں۔ یہ نقوش خطے میں ہزاروں سال سے انسانی زندگی اور تہذیب کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔بجلی کے شعبے میں وزیر اعظم نے 9 میگاواٹ کے ہانو چھوٹے پن بجلی منصوبے اور 66 کے وی کی ڈبل سرکٹ داہ، ہانو اور کھلتسی ٹرانسمیشن لائن کا افتتاح کیا۔ ان منصوبوں سے بجلی کی ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانے، سپلائی میں بہتری لانے اور لداخ میں پن بجلی کی صلاحیت سے استفادہ کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔اس موقع پر 298 کلومیٹر طویل نمّو، پدم اور درچہ سڑک کو بھی قوم کے نام وقف کیا گیا۔ بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کی جانب سے تعمیر کی گئی یہ سڑک زنسکار وادی کے راستے لیہہ کے نمّو کو ہماچل پردیش کے درچہ سے جوڑتی ہے۔سرکاری بیان کے مطابق یہ سڑک سری نگر۔لیہہ اور منالی۔لیہہ شاہراہوں کے علاوہ لداخ پہنچنے کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کرے گی۔ دشوار گزار ہمالیائی علاقے اور بلند پہاڑی درّے شنکون لا سے گزرنے والی اس سڑک سے مسلح افواج کی نقل و حرکت اور رسد کے نظام میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ زنسکار کے لوگوں کو صحت، تعلیم، بازاروں اور دیگر ضروری خدمات تک رسائی میں بھی سہولت ملے گی۔ترقیاتی منصوبوں میں لیہہ کے کشوک باکولا رنپوچے ہوائی اڈے پر 640 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا نیا مسافر ٹرمینل بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق 23,800 مربع میٹر رقبے پر پھیلے اس ٹرمینل میں سالانہ 35 لاکھ مسافروں کو سنبھالنے کی گنجائش ہے۔ٹرمینل میں درجہ حرارت کو بہتر انداز میں برقرار رکھنے اور توانائی کی کارکردگی بڑھانے کے لیے جیو تھرمل توانائی استعمال کی گئی ہے، جس سے کاربن اخراج میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس کی تعمیر میں جدید سفری سہولیات کے ساتھ لداخ کے مقامی فن اور ثقافتی ورثے کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ورچوئل افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان منصوبوں سے سفر آسان ہوگا، بعض علاقوں میں بجلی کی سہولیات بہتر ہوں گی، دیگر علاقوں میں پانی کی دستیابی بڑھے گی اور لداخ کے قدیم تاریخی ورثے کے تحفظ میں مدد ملے گی۔










