ماحولیاتی کمیٹی نے آنچار جھیل کے تحفظ کا جائزہ لیااور سکمز کے ویسٹ مینجمنٹ کا معائینہ کیا

ماحولیاتی کمیٹی نے آنچار جھیل کے تحفظ کا جائزہ لیااور سکمز کے ویسٹ مینجمنٹ کا معائینہ کیا

مقررہ وقت میں اِصلاحی اَقداما ت کرنے کی ہدایت دِی

سری نگر//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ماحولیاتی کمیٹی نے رُکن قانون ساز اسمبلی محمد یوسف تاریگامی کی صدارت میں آنچار جھیل اور اس سے ملحقہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا تاکہ جھیل کے تحفظ، بحالی اور آلودگی پر قابو پانے کے لئے حکومت کی جانب سے کئے جا رہے اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے کہ اس کی مؤثر حفاظت اور دیرپا انتظام کے لئے مزید کون سے اقدامات درکار ہیں۔دورکے دوران چیئرمین کے ہمراہ کمیٹی کے ارکان جن میںممبران اسمبلی دلیپ سنگھ پریہار، شوکت حسین گنائی، جاوید احمد مرچال، ڈاکٹر سجاد شفیع، سلمان ساگر اور جاوید ریاض بیدار شامل ہیں کے علاوہ ممبر اسمبلی مُبارک گل بھی موجود تھے۔کمیٹی نے معائینے کے دوران آنچار جھیل اور اس کے ارد گرد بڑے پیمانے پر ہوئی تجاوزات پر شدید تشویش کا اِظہا رکیا ۔ کمیٹی نے کہا کہ قانون کے مطابق ان غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے او رقبضہ کی گئی ازمین کو واگزار کرنے کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات کئے جائیں۔ کمیٹی نے زور دیا کہ جھیل اور اس سے ملحقہ علاقوں پر مزید کسی بھی قسم کے تجاوزات کو سخت نفاذِ قانون، باقاعدہ نگرانی اور متعلقہ محکموں کی مربوط کارروائی کے ذریعے روکا جانا چاہیے۔چیئرمین نے وائس چیئرمین لیکس کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اَتھارٹی ( ایل سی ایم اے) کو ہدایت دی کہ وہ آنچار جھیل کے ارد گرد غیر قانونی تجاوزات کی نوعیت اور وسعت ، زمین کی بازیابی کی موجود صورتحال اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کی گئی کاروائی کے بارے میں ایک تفصیلی رِپورٹ پیش کریں۔ اُنہوں نے نئے تجاوزات کو روکنے اور ماحولیاتی تحفظ و اراضی کے تحفظ سے متعلق قوانین کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے واضح ٹائم لائن اور مجوزہ اَقدامات کی تفصیلات بھی طلب کیں۔اُنہوں نے جھیل کی بگڑتی ہوئی ماحولیاتی حالت پر تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنچار جھیل کو تجاوزات، آلودگی، تلچھٹ اور دیگر انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والے دیگر ماحولیاتی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ جھیل کے تحفظ اور بحالی کے لئے مسلسل ادارہ جاتی کوششوں، ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات پر مؤثر عمل درآمد اور تمام متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک جامع اور مقررہ وقت پر مبنی تحفظ کی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا جس میں غیرصاف شدہ سیوریج اور فضلہ کے اخراج کی روکتھام جہاں ضرورت ہو وہاں سائنسی طور پر نکاسی، جھیل کے قدرتی واٹر چینلز کی بحالی، اس کے کیچمنٹ ائیریاز کی حفاظت اور پانی کے معیار کی باقاعدہ نگرانی شامل ہے۔ اُنہوں نے مزید زور دیا کہ جھیل کی طویل مدتی دیرپائی کو یقینی بنانے کے لئے تمام مداخلتوں کی رہنمائی سائنسی جائزوں اور ماحولیاتی تحفظات سے ہونی چاہیے۔چیئرمین نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ آنچار جھیل کا تحفظ حکومت اور عوام کی مشترکہ ذِمہ داری ہے۔ اُنہوں نے کمیونٹی کی زیادہ سے زیادہ شرکت، عوامی بیداری اور ماحولیاتی اصولوں کی سختی سے پاسداری کی اپیل کی جبکہ متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ جھیل کو مزیدتنزلی سے بچانے کے لیے فعال انداز اَپنائے۔کمیٹی نے دورے کے ایک حصے کے طور پر شیرکشمیر اِنسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس کے آئی ایم ایس) کا بھی معائینہ کیا تاکہ ہسپتال کے ویسٹ مینجمنٹ اور تلفی سے متعلق خدشات اور آنچار جھیل پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ جھیل اور اس کے آس پاس کے ماحولیاتی نظام کو آلودہ ہونے سے روکنے کے لئے بائیو میڈیکل ویسٹ اور ہسپتال کے دیگر فضلے کو ہینڈل، ٹریٹمنٹ اور ٹھکانے لگانے کے لئے مقررہ ماحولیاتی اور بائیو میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ اصولوں کے مطابق سختی سے ٹھکانے لگایا جانا چاہیے۔کمیٹی نے متعلقہ حکام پر زور دیاکہ وہ فضلے کے ٹریٹمنٹ اور ویٹ مینجمنٹ سسٹم کے مناسب کام کو یقینی بنائیں، باقاعدگی سے معائینہ کریں اور مانیٹرنگ کے مؤثر طریقہ کار برقرار رکھیں تاکہ آبی ذخائر میں بغیر ٹریٹ کئے جانے والے فضلہ کے اخراج کو روکا جاسکے۔ اس نے جوابدہی اور بین المحکمہ رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نشاندہی کی گئی کسی بھی کمی کو دور کیا جا سکے اور ماحولیاتی معیارات کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے اِس بات کا عادہ کیا کہ آنچار جھیل کے تحفظ کو مناسب ترجیح دی جانی چاہیے اور تمام متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ وہ آلودگی کو روکنے، تجاوزات ہٹانے، جھیل کے ماحولیاتی توازن کی بحالی اور اس اہم قدرتی اثاثے کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ رکھنے کے لئے ٹھوس، قابل پیمائش اور مقررہ وقت پر مبنی اقدامات کریں۔چیئرمین جے کے پی سی سی واسو یادو،ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اکشے لابرو، کمشنرایس ایم سی ڈاکٹر بشارت قیوم، وائس چیئرمین ایل سی ایم اے خورشید احمد شاہ کے علاوہ متعلقہ محکموں کے سینئر افسران دورے کے دوران کمیٹی کے ہمراہ تھے۔