books

کتابیں اب صرف رسم رونمائی تک محدود ،’کتاب‘ تخلیق کار کاسرمایہ

منظر عام پر آنے کے بعد عوام کی جاگیر ،تقریبات میں مطالعہ اور خریدنے کیلئے قارئین کوابھارنے کی ضرورت

سرینگر / /عالمی منظر نامے پر یہ دیکھا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے جہاں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی جانب لوگوں کا رجحان کم ہونے لگا ہے ۔ وہیںکتابوں کو خریدنے اور ان کا بغور مطالعہ کرنے کا ذوق بھی کم ہوتا جارہا ہے جبکہ دنیا بھر میں کتابوں کی رسم رونمائی کی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس حوالے سے وادی کشمیر میں آئے روز کسی نہ کسی تخلیق کار کی کتاب منظر عام پر لانے کیلئے باضابط طور تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے اور ان ضخیم کتابوں پر پُر مغز تبصرے بھی پڑھے جاتے ہیں اور ان تقریبات میں موجود مقررین اپنے تاثرات بھی پیش کرتے ہیں ۔لیکن یہ کتابیں اب صرف رونمائی کی تقریبات تک ہی محدود رہتی ہیں ۔کیونکہ وہاںپر موجود شرکاء بھی کتاب کا مطالعہ کرنے کیلئے اس کو خریدنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں ۔یہاں مختلف زبانوں میں کتابیں اجراء کی جارہی ہیں تاہم کشمیری زبان میں شعری مجموعہ جات اور افسانوی مجموعہ جات کی رسم اجرائی کیلئے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔اس طرح کی کوششوں سے زبان وادب کی خدمت ہورہی ہے لیکن جس مقصد کیلئے ان کتابوں کو منظر عام پر لایاجارہا ہے وہ وقتی طور فوت ہوجاتاہے کیونکہ ان کتابوں کو خریدنا لوگوں پر بارگراں گذرتا ہے اور مفت میں حاصل کرنے والے افراد بھی اپنی لائبرریوں میں ان کو سجاتے ہیں اور اپنی زینت بڑھاتے ہیں جبکہ مفت میں ہاتھ میں آنے کے باجودبھی اس کا مطالعہ نہیں کرتے ہیں ۔کیونکہ ایک تو لوگ مصروف عمل ہیں اور عدیم الفرصت ہونے کی وجہ سے کتابوں کا مطالعہ نہیں کرسکتے ہیں اور اب لوگوں میں مطالعہ کرنے کا زوق ہی ختم ہورہا ہے جبکہ تخلیق کار اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں جو سماج کے تعلیم یافتہ افراد کیلئے یہ کتابوں کا مطالعہ لازمی اور ان کو خریدنے کی بھی ضرورت ہے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے جدیدتقاضوں اور نئی ٹرینڈ کو دیکھتے ہی تخلیق کاروں نے سوشل میڈیا کا سہارا لینا شروع کیا ہے اور سوشل میڈیا کو بروئے کار لاکر اپنی غزلیں ،نظمیں ،افسانے یا نثری تخلیقات کو منظر عام پر لانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے ان کی تشنگی ختم تو ہوجاتی ہے اور ان کی تخلیقات پر لوگ مطالعہ کئے بغیر ہی کمنٹ یالائیک کرتے ہیں اور کئی لوگ ان تحریروں پر تنقید کرتے ہیں جو نقادکہلاتے ہیں لیکن اس کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا ہے ۔کیونکہ ایک تخلیق کار سماج کو کچھ دینا چاہتا ہے اور سماجی ،سیاسی ،اخلاقی ،مذہبی اور فلاحی بیداری تخلیق کار کا ہد ف ہوتا ہے ۔رسم رونمائی کی تقریبات میں اگرچہ کتابوں کو خریدنے کی اپیل بھی کی جاتی ہیں لیکن ایک کان سے سنا جاتا ہے اور دوسرے کان سے چھوڑا جاتا ہے ۔یہی حال اخبارات کا بھی ہے ۔اخبارات ہر روز شائع ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ اخبارات رات میں ہی انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس پر دیکھے جاتے ہیں جس سے ان کے خریدنے کا رجحان کم ہوگیا ہے ۔قارئین کا کہنا ہے کہ جو اطمینان اخبار خرید کر پڑھنے میں ہے وہ انٹرنیٹ کے ذریعے حاصل نہیں ہوتا ہے ۔اس لحاظ سے یہ معاملہ غور طلب ہے کہ اس رجحان کو تبدیل کیا جائے اور اخبارات وکتابوں کو خرید کر ان کا بغور مطالعہ کیاجائے تاکہ سماج میں روایات برقرار رہ سکتی ہیں اور کتابوں میں تخلیق کار کی تخلیقات سے سبق حاصل کیا جاسکے ۔