سرینگر//کمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے سول سیکرٹریٹ میں ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر کے یو ٹی کی سرکاری عمارتوں پر سولر روف ٹاپ سے متعلق حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ۔ میٹنگ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر این ایچ پی سی ، منیجنگ ڈائریکٹر جے پی ڈی سی ایل ، منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ڈی سی ایل ، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایس پی ڈی سی ، ای ای او جے اے کے ای ڈی اے ، منیجنگ ڈائریکٹر ریجنل الیکٹریفکیشن کارپوریشن جے اینڈ کے ، انتظامی محکموں کے نامزد کردہ تمام نوڈل افسران اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ۔ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں شمسی توانائی کو زیادہ سے زیادہ اپنانے اور استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کو اس فلیگ شپ پروگرام کے نفاذ میں مکمل تعاون فراہم کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکموں کو اس اقدام میں مکمل طور پر شامل ہونا ہو گا اور امکانات کو تلاش کرنا ہو گا اور ہر سرکاری عمارت کی فزیبلٹی اور صلاحیت کا جائیزہ لینا ہو گا ۔ کمشنر سیکرٹری نے مزید کہا کہ شمسی توانائی ، صاف اور سستی دونوں طرح سے جموں و کشمیر کے توانائی کے اہداف کے ساتھ بالکل مطابقت رکھتی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت کی عمارتوں کا سروے دونوں ڈویژنوں میں فوری طور پر شروع کیا جائے اور ڈیٹا کو این ایچ پی سی کے ساتھ شئیر کیا جائے ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ یہ تصور کیا گیا ہے کہ یو ٹی میں صد فیصد سرکاری عمارتوں کو چھتوں کے شمسی پروگرام کے تحت کوور کیا جانا ہے ۔ میٹنگ کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ یو ٹی میں 28700 سرکاری عمارتیں ہیں اور 3274 کرائے پر ہیں ۔










