تاجربنکوں کے قرضوں پر سود در سودکا بوجھ اٹھانے پر مجبور ،انتظامیہ توجہ دیں
سرینگر / /جموںوکشمیر میںگذشتہ تقریباً تین برسوں سے تجارت اور کاروبار متاثر ہے اگر چہ ایک سال کے دوران کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں تاہم سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کے باوجود بھی تاجر اورکاروباری افراد میں تشویش پائی جارہی ہے ۔اس کے بنیادی محرکات یہ ہیں کہ تجارتی سرگرمیوں کے بیچ خرید وفروخت کیلئے پیسوں کی گردش لازمی ہے لیکن وہ محدود ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں بالخصوص خریداری کم ہوئی ہے اوراب کاروبار و تجارت کو دوبارہ مستحکم بنانے کیلئے کوئی سبیل ہاتھ نہیں آتی ہے ۔اس ضمن میں مقامی تاجروں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ کئی برسوں کاروبار وتجارتی سرگرمیاں متاثر ہوچکی ہیں جس کے نتیجے تاجر وں کی اقتصادی حالت ابتر ہونے لگی جبکہ خریداروں کے پاس اشیائے ضروریہ خریدنے کی سکت باقی نہیں رہی ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف کوڈ کی وجہ سے کاروبار ی سرگرمیاں متاثر ہوئیں ۔دوسری یہاں کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کیلئے میوہ صنعت جو ریڈ کی حیثیت رکھتی ہے بے حد کمزور پڑگئی ۔یہاں تک اس صنعت کے ساتھ جڑے افراد خسارے کے شکار ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ میوہ صنعت کا پیسہ ہی بازاروں میں سب زیادہ گردش کررہا تھا لیکن جب یہ صنعت متاثر ہوئی تو پیسوں کی گردش کی رُک گئی ۔انہوں نے کہا کہ اب صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ہی بازاروں میں محدود انداز میں گردش کررہی ہے لیکن ایک تناسب (Ratio)کے مطابق ملازمین کا پیسہ اقتصادی حالت بحال کرنے یا کاروبارکو مستحکم بنانے کیلئے ناکافی ہے کیونکہ یہ پیسہ محدود افراد کے ہاتھوں میں ہی رہتا ہے اور عام کاروباری شخص اس سے مستفید نہیں ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تجارت یا دوسری کئی صنعتوں سے وابستہ افراد قرضوں تلے دب چکے ہیں اوربنکوں کے قرضوں پر سود در سودکا بوجھ ان کے کاندھوں پر سوار ہوتا رہتا ہے جس سے کاروبار ی افراد اورتاجر ذہنی کوفت کے شکار ہوگئے ہیں اور اب کئی لوگ خودکشی کی گھناونی حرکت انجام دینے کی کوششیں کررہے ہیں اور اب تک ایسے کئی واقعات پیش آئے ۔انہوں نے کہا کہ بازاروں میں گہماگہمی رہتی ہے لیکن بقول دکاندار خریداری ندارد ہے کیونکہ صارفین کے پاس اشیائے ضروریہ کی سکت باقی نہیں رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دکاندار پہلے سے کم منافع پرہی چیزوں کو فروخت کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں لیکن پھر بھی خریدار مائل نہیں ہوتا ہے اور چیزوں کا الٹ پھیر کرنے کے بغیر کچھ نہیں کرتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے موجودہ انتظامیہ کی توجہ اس طرف مبذول کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کاروباراور تجارت کو ازسر نو مستحکم بنانے کیلئے فوری طور ٹھوس اور موثر لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ تاجر اورکاروباری افراد اپنی ٹانگوں پر ایک بار پھر کھڑا ہو جائیں گے جس سے اقتصادی بحالی بھی ممکن ہوگی۔










