جموںوکشمیر کو سکین او رشیئر او پی ڈی ٹوکن بنانے میں ملک بھر میں دوسری پوزیشن حاصل

سری نگر//جموںوکشمیر نے اگست 2023ء میں 7,92.,641 سے زیادہ ٹوکن تیار کر کے ’ سکین اور شیئر او پی ڈی ‘ ٹوکن میں کرناٹک ریاست کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ملک بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔سکین اور شیئر قطار کم رجسٹریشن کے عمل نے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن جے اینڈ کے کے تحت نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے اور یہ جموں و کشمیر کے صحت اِداروں میں مریضوں کے لئے او پی ڈی رجسٹریشن میں آسانی کے لئے ایک گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔یہ سہولیت اپریل 2023 ء میں شروع کی گئی تھی اور اسے پورے جموں و کشمیر کے 71 صحت اِداروں تک بڑھا دیا گیا تھا۔تربیت یافتہ اَفرادی قوت کو آن گرائونڈ ہیومن ریسورس کی سہولیت کے لئے تعینات کیا گیا تھا اور اِس قطار سے کم ڈیجیٹل سروس سے فائدہ اُٹھانے کے لئے مریضوں کو ہاتھ میںگیا تھا۔ہسپتالوں تک پہنچنے والے عام لوگوں نے حکومت کے اِس اقدام کو بے حد سراہا ہے جس کے نتیجے میںفزیکلی ڈیجیٹل موڈ میں تقریباً 70سے90 فیصد تبدیلی آئی ہے۔اِس اَقدام سے نہ صرف ہسپتال میں لمبی قطاروں میں مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے وقت کی بچت ہوئی ہے بلکہ اُن کی رجسٹریشن میںمریضوں کی آبادی کی غلطیوں کو بھی کم کیا گیا ہے۔ تمام شہریوں کے لئے صحت کا کاغذ کے بغیر ریکارڈ رکھا جائے گا جو مریض کی رضامندی سے شراکت داروں کے لئے قابل رَسائی ہوگا۔ جموں و کشمیر میں صحت اِداروں نے 4 ماہ کے مختصر عرصے میں 7,92,641 ٹوکن بنائے ہیں۔سکین اور شیئر گیم کو تبدیل کر رہا ہے جس سے مریض کی رجسٹریشن زیادہ آسان اور مریض پر مرکوز ہے۔