amit shah

لداخ صدیوں سے دھرم کی زندہ سرزمین، کشمیر بدھ مت، مہایان فلسفہ کا ایک عظیم مرکز

شاہراہِ ابریشم کشمیر سے تبت تک تجارت کے ساتھ علم، ثقافت اورفنون کی ترسیل کا عظیم ذریعہ// وزیر داخلہ امیت شاہ

سرینگر//یو این ایس// وزیر داخلہ امیت شاہ نے لداخ کو صدیوں سے ’’دھرم کی زندہ سرزمین‘‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطہ بدھ مت کی تعلیمات، روحانیت اور ثقافتی ورثے کا ایک اہم مرکز رہا ہے، جہاں نہ صرف ان تعلیمات کو محفوظ رکھا گیا بلکہ انہیں دنیا کے مختلف حصوں تک پھیلانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا گیا۔اپنے دو روزہ دورہ لداخ کے دوران لیہہ میں بدھ پورنیما کی 2569ویں تقریبات اور تاتھاگت بدھ کے مقدس آثار کی پہلی بین الاقوامی نمائش کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بدھ کے مقدس آثار کی 75 برس بعد واپسی کو ایک تاریخی ملاپ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی لمحہ ہے جو پورے خطے کے لوگوں کو ایک نئی توانائی فراہم کرے گا۔یو این ایس کے مطابقانہوں نے کہا، جب دلائی لامہ یہاں آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ لداخ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ بدھ مت کی ثقافت اور ہمدردی کی ایک زندہ تجربہ گاہ ہے۔’’ ان کے مطابق لداخ صدیوں سے امن، رواداری اور روحانی اقدار کا گہوارہ رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر داخلہ نے بدھ مت کی تعلیمات کی موجودہ دور میں اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 2500 برس قبل دیا گیا امن، ہمدردی اور اعتدال (مڈل پاتھ) کا پیغام آج کے دور میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور بے چینی کے ماحول میں صرف امن اور ہمدردی ہی مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں۔انہوں نے فلسفیانہ انداز میں کہا کہ صرف علم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اسے اپنی ذات کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ ‘‘علم کے بغیر روحانیت نامکمل ہے اور روحانیت کے بغیر علم اندھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں کا امتزاج ہی درست راستہ ہے، اور اگر اس کے ساتھ اخلاقی نظم و ضبط نہ ہو تو انسان حقیقی دانشمندانہ زندگی نہیں گزار سکتا۔ وزیر داخلہ نے لداخ کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کشمیر قدیم دور میں بدھ مت، مہایان فلسفہ اور فنون کا ایک عظیم مرکز تھا، جہاں سے لداخ میں بدھ مت کا اثر و رسوخ بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ شہنشاہ اشوک کے ایلچیوں نے کشمیر اور گندھارا کے ذریعے اس خطے میں بدھ مت کی بنیاد رکھی، جبکہ پہلی سے تیسری صدی عیسوی کے درمیان کشان دور میں مہایان بدھ مت کو فروغ ملا۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر، لیہہ، یارقند، ختن اور تبت کو ملانے والی شاہراہِ ریشم صرف تجارت کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ اس کے ذریعے خیالات، راہب، مخطوطات اور فنون بھی ایک خطے سے دوسرے خطے تک منتقل ہوئے۔ بعد ازاں ساتویں سے دسویں صدی کے دوران تبتی اثرات نے لداخ میں مہایان اور وجریانا بدھ مت کی روایات کو مزید تقویت دی۔انہوں نے کہا کہ بدھ پورنیما کے موقع پر مقدس آثار کی واپسی نے اس تہوار کی اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔یہ ایسے ہے جیسے خود بدھ آج یہاں موجود ہوں۔ انہوں نے کہا، اور اس امید کا اظہار کیا کہ لداخ اور کرگل کے عوام سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی ان آثار سے روحانی فیض حاصل کریں گے۔انہوں نے لداخ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ زائرین کے لیے مکمل انتظامات کو یقینی بنائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان مقدس آثار کی زیارت کر سکیں۔اس موقع پر وزیر داخلہ نے لداخ کے سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنماؤں سے ملاقات بھی کی اور مقدس آثار کی زیارت کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کے انتظامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ سال 2019 کے بعد لداخ میں ترقیاتی عمل میں نمایاں تیزی آئی ہے اور یہ خطہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ایک بیان میں امت شاہ نے کہا کہ لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یو ٹی) کا درجہ ملنے کے بعد یہاں بنیادی ڈھانچے، رابطہ سڑکوں، سیاحت اور عوامی سہولیات کے شعبوں میں غیر معمولی پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خطے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت لداخ کے عوام کو بہتر طرزِ زندگی فراہم کرنے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور دور دراز علاقوں تک سہولیات پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق مختلف اسکیموں کے تحت تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔امت شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا مقصد لداخ کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تاکہ یہاں کے عوام کو دیگر علاقوں کے برابر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں بھی لداخ کی ترقی کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، اور لداخ اس پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔یو این ایس کے مطابق اس دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے کرگل میں 10 ہزار لیٹر یومیہ صلاحیت کے حامل ایک جدید ڈیری پروسیسنگ پلانٹ کا سنگِ بنیاد رکھا اور لداخ میں ڈیری ترقی سے متعلق متعدد منصوبوں کا بھی آغاز کیا۔حکام کے مطابق یہ منصوبہ تقریباً 25 کروڑ روپے کی لاگت سے نیشنل ڈائری ڈیولپمنٹ بورڈ کی ذیلی کمپنی انڈین ڈیری مشینری کمپنی کے ذریعے قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوب نیشنل پروگرام فار ڈیری ڈیولپمنٹ کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے، جس میں مرکزی حکومت، این ڈی ڈی بی اور دیگر اداروں کی مالی معاونت شامل ہے۔یہ جدید ڈیری پلانٹ 350 کلوواٹ شمسی توانائی سے چلایا جائے گا، جو نہ صرف ماحول دوست ہوگا بلکہ بلند پہاڑی علاقے میں توانائی کے مسائل کا بھی پائیدار حل فراہم کرے گا۔منصوبے کے تحت موبائل ملک کولیکشن اینڈ کولنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے کسانوں سے براہ راست دودھ جمع کیا جائے گا، اس کے معیار کو برقرار رکھا جائے گا اور انہیں بروقت ادائیگی ممکن بنائی جائے گی۔حکام نے بتایا کہ ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت اے آئی پر مبنی نگرانی نظام، آٹومیٹڈ ملک کولیکشن سسٹم اور جدید کولڈ چین نیٹ ورک بھی متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 1700 کسان اس پروگرام سے جڑ چکے ہیں، جبکہ روزانہ دودھ کی پیداوار 7000 لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ کسانوں کو اب تک 15 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، جبکہ آنے والا منصوبہ ہزاروں کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچائے گا۔مزید برآں، مقامی سطح پر پنیر، دہی اور دیگر دودھ سے بنی اشیاء کی تیاری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ مدر ڈائری، سفل اور ڈارا جیسے برانڈز کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے معیاری مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔حکام نے کہا کہ یہ اقدامات لداخ میں دیہی معیشت کو مضبوط بنانے، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے اور خطے کو خود کفیل بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہیں، جو آتم نربھر بھارت کے وڑن کی تکمیل میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔