ڈل اور ولر سمیت بڑی جھیلوں کی ماحولیاتی نگرانی، انسدادِ تجاوزات مہم جاری
سرینگر//یو این ایس//جموں و کشمیر میں میں مجموعی طور پر 1,810 آبی ذخائر کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں بڑے اور چھوٹے ویٹ لینڈز شامل ہیں۔ حکومت نے بتایا کہ ان قدرتی وسائل کے تحفظ، بحالی اور ماحولیاتی نظم و نسق کو مستحکم بنانے کے لیے اقدامات میں تیزی لائی جا رہی ہے۔حکام نے وضاحت کی کہ 1,810 آبی ذخائر میں سے 554 ایسے ہیں جن کا رقبہ ایک ہیکٹر سے زیادہ ہے، جبکہ 1,256 چھوٹے آبی ذخائر بھی موجود ہیں۔ ان میں ڈل جھیل، ولر جھیل، آنچار جھیل، خوشحال سر اور ہوکرسر ویٹ لینڈ جیسے ماحولیاتی لحاظ سے اہم ذخائر شامل ہیں، جو نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے مراکز ہیں بلکہ مقامی معیشت اور آبی نظام کے لیے بھی نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ حکومت کے مطابق جموں و کشمیر کے پانچ ویٹ لینڈز کو عالمی سطح پر اہمیت کے حامل رامسر سائٹس کا درجہ حاصل ہے، جن کے تحفظ اور بحالی کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ یو این ایس کے مطابق اس ضمن میں ویٹ لینڈز کی صفائی (ڈی ویڈنگ)، بند باندھوں کی مضبوطی، آبی گزرگاہوں کی بحالی، کچرا روکنے کے لیے بیریئرز کی تنصیب اور آبی پودوں کی باقاعدہ صفائی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ غیر قانونی قبضوں اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے نگرانی کے نظام کو بھی مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ ان حساس ماحولیاتی نظاموں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ولر جھیل کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ ولر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جھیل کی ماحولیاتی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں غیر قانونی ڈمپنگ سائٹس کا خاتمہ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، عوامی بیداری مہم، حد بندی، ڈریجنگ، ولو درختوں کی کٹائی اور پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی شامل ہے۔محکمہ ماحولیات، ایکولوجی اور ریموٹ سینسنگ نے ایک ہیکٹر سے زائد رقبے والے ویٹ لینڈز کی جدید جی آئی ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے میپنگ اور سروے کا عمل بھی شروع کیا ہے۔ اس کے تحت اب تک 170 ویٹ لینڈز کی حد بندی کی تصدیق کر کے انہیں نیشنل ویٹ لینڈ پورٹل پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔حکومت نے مزید بتایا کہ6 اہم ویٹ لینڈز،احنسر،واسکرسر، سنسر، خوشحال سر،گل سر، آنچار،رکھِ کجار، مانسبل اور نرکارا،کی تفصیلی دستاویزات تیار کی گئی ہیں، جن میں سے چار کو نوٹیفکیشن کے لیے پیش کیا جا چکا ہے جبکہ دو کا تکنیکی جائزہ جاری ہے۔ماحولیاتی بگاڑ کو روکنے کے لیے مٹی اور پانی کے تحفظ، شجرکاری، چیک ڈیمز کی تعمیر اور پائیدار زمین کے استعمال کو فروغ دینے جیسے اقدامات بھی عمل میں لائے جا رہے ہیں، جن میں مقامی کمیونٹی کی فعال شمولیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔حکومت کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ولر جھیل کے تحفظ کے لیے 146.47 کروڑ روپے یو ٹی کیپیکس بجٹ کے تحت جبکہ 9 کروڑ روپے مرکزی اسکیم کے تحت منظور کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 10.73 کروڑ روپے مٹی اور پانی کے تحفظ کے منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ ان جامع اقدامات کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کے آبی ذخائر کو ماحولیاتی خطرات سے محفوظ رکھنا اور ان کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ قدرتی وسائل برقرار رہ سکیں۔










