سرکاری دفاتر کیلئے پری پیڈ اسمارٹ میٹروں کی تنصیب لازمی قرار

بجلی اخراجات کی پیشگی ادائیگی، بقایاجات کی کلیئرنس اور استعمال کی سخت نگرانی کی ہدایات

سرینگر//یو این ایس// محکمہ خزانہ نے تمام انتظامی محکموں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سرکاری دفاتر، کارپوریشنوں، پبلک سیکٹر اداروں مقامی بلدیاتی اداروں، یونیورسٹیوں اور سرکاری رہائشی عمارتوں میں پری پیڈ اسمارٹ بجلی میٹرز کی تنصیب کے عمل کو فوری طور پر تیز کریں۔یو این ایس کے مطابق سرکاری سرکولر کے مطابق یہ اقدام روایتی بجلی بلنگ نظام سے جدید پری پیڈ اسمارٹ میٹرنگ نظام کی جانب منتقلی کو یقینی بنانے کیلئے اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت بجلی کے اخراجات پیشگی ادا کیے جائیں گے۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ تمام دفاتر میں اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔حکام نے ہدایت دی ہے کہ زیر التوا بجلی بلوں کو دستیاب فنڈس سے فوری طور پر صاف کیا جائے اور ساتھ ہی اسمارٹ میٹروںکی تنصیب کا عمل بھی جاری رکھا جائے۔ میٹروںکی تنصیب کے بعد بجلی کی ادائیگی متعلقہ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز کی جانب سے دستیاب بجٹ میں سے ہی کی جائے گی۔سرکولر میں کہا گیا ہے کہ تمام محکمے اس نظام کے نفاذ کے بعد ایک سے دو ماہ تک بجلی کے استعمال اور ادائیگی کا جائزہ لیں اور اگر اضافی فنڈز کی ضرورت پیش آئے تو اس کی معقول تجویز محکمہ خزانہ کو پیش کریں۔مزید ہدایت دی گئی ہے کہ محکموں کے سربراہان بجلی کے استعمال پر کڑی نظر رکھیں تاکہ اخراجات مختص بجٹ کے اندر رہیں۔ تاہم، اہم اور بنیادی خدمات فراہم کرنے والے محکموں کے لیے ضرورت پڑنے پر اضافی فنڈز فراہم کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بجلی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائے گا بلکہ مالی نظم و ضبط کو بھی فروغ دے گا اور سرکاری اداروں میں توانائی کے بہتر انتظام کی راہ ہموار کرے گا۔