اردو کو ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں، حکومت نے صرف عوامی رائے طلب کی

اردو کو ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں، حکومت نے صرف عوامی رائے طلب کی

اگر ووٹر فہرستوں میں تبدیلی سے نتائج متاثر ہوئے تو خطرناک روایت قائم ہوگی// عمر عبداللہ

سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اردو زبان کے حوالے سے جاری تنازعہ پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت نے اردو کو نصاب سے خارج کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً ڈی پی، پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے دانستہ طور پر غلط بیانی کی جا رہی ہے۔جمعہ کے روز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے محض ایک محکمہ جاتی تجویز پر عوامی رائے طلب کی ہے تاکہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا، ‘‘یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ اردو کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ہم نے صرف عوام سے تجاویز اور آرا مانگی ہیں، لیکن کچھ عناصر اسے غلط رنگ دے کر پیش کر رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے ناقدین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی کوئی ایسا فیصلہ لیا گیا ہوتا تو وہ اس کا سرکاری حکم نامہ پیش کریں۔ ‘‘اب تک کوئی بھی ایسا حکم نامہ سامنے نہیں آ سکا، کیونکہ ایسا کوئی فیصلہ ہوا ہی نہیں۔ انہوں نے مزید کہاصرف وہی دستاویز دکھائی جا رہی ہے جس میں عوامی رائے طلب کی گئی ہے، اور اسی کو بنیاد بنا کر افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت اپنی سیاسی زمین کھو چکی ہے اور اب جھوٹ اور پروپیگنڈے کے سہارے عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ایسے حساس معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا نہایت افسوسناک ہے اور اس سے عوام میں غیر ضروری بے چینی پیدا ہوتی ہے۔پی ڈی پی رہنما التجاء مفتی کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ وہ تعلیم یافتہ ہیں، لیکن انہیں شاید اب بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوامی رائے طلب کرنا اور کسی مضمون کو ختم کرنا دو بالکل مختلف امور ہیں۔ ‘‘انہوں نے واضح کیا یہ فائل ابھی میرے پاس ہے، نہ میں نے اسے منظور کیا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک جمہوری اور منتخب حکومت کے طور پر یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اہم فیصلوں سے قبل عوام کو اعتماد میں لے اور ان کی رائے حاصل کرے۔ ان کے مطابق، یہی جمہوری طرز حکمرانی کا تقاضا بھی ہے اور عوامی شمولیت کو یقینی بنانے کا واحد مؤثر طریقہ بھی۔وزیر اعلیٰ نے اس پورے معاملے کو ایک منظم سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض جماعتیں دیگر اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے تنازعات کو ہوا دیتی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ڈی پی ماضی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات پر اٹھنے والے سوالات سے بچنے کے لیے اردو کے مسئلے کو اچھال رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘‘یہ ایک جادوگر کا کھیل ہے، جہاں ایک ہاتھ سے کچھ دکھایا جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے کچھ اور کیا جاتا ہے۔ عوام کو گمراہ کرنے کی یہ کوشش زیادہ دیر تک کامیاب نہیں ہو سکتی۔آر ٹی آئی سے متعلق دعوؤں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان معاملات کو بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ایک مخصوص بیانیہ قائم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق، حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے ابھی تک کسی بھی تجویز کو حتمی شکل نہیں دی ہے اور تمام امور زیر غور ہیں۔اپنے بیان کے اختتام پر عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ اردو زبان جموں و کشمیر کی تہذیبی اور تاریخی شناخت کا اہم حصہ ہے اور اس کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ انتہائی سوچ بچار اور عوامی مشاورت کے بعد ہی لیا جائے گا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور عوام میں بے بنیاد خدشات پیدا کرنے سے گریز کریں۔یو این ایس کے مطابق عمر عبداللہ نے انتخابی عمل میں ممکنہ مداخلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کو متاثر کرتی ہے تو یہ ایک خطرناک روایت قائم کرے گی، جس کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کو محتاط رہنا ہوگا۔نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتخابات کے بعد ای وی ایمز کی حفاظت ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب بیلٹ باکس کا نظام تھا تب بھی سیاسی جماعتیں مضبوط کمروں (اسٹرونگ رومز) کے باہر اپنے نمائندے تعینات رکھتی تھیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نگرانی جمہوری عمل کا حصہ ہے اور اسے غیر معمولی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ ای وی ایمز کو براہ راست دھاندلی کا ذریعہ نہیں کہا جا سکتا، تاہم ووٹر فہرستوں کی درستگی انتخابی نظام کا سب سے کمزور پہلو ہے۔ ‘انہوں نے کہاآج کل ووٹ چوری ای وی ایم کے ذریعے نہیں بلکہ ووٹر لسٹ میں نام حذف کر کے کی جا رہی ہے، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایس آئی آر کے ذریعے نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف مغربی بنگال بلکہ ملک بھر کے انتخابی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال بن جائے گی۔ایگزٹ پولز کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اکثر حقیقت کے برعکس ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پانچ سال قبل مغربی بنگال کے انتخابات میں بھی بیشتر ایگزٹ پولز نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت کی پیش گوئی کی تھی، لیکن نتائج اس کے برعکس آئے تھے۔حج کے فضائی کرایوں میں اضافے اور دیگر مہنگائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انتخابات کے بعد قیمتوں میں اضافہ ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہااب دیکھیں کہ کمرشل گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، ایندھن مہنگا ہوگا تو ہر چیز مہنگی ہوگی۔انہوں نے عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 18 فیصد اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی مجبوری تھی کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست کرایوں کو متاثر کرتا ہے۔عالمی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس جنگ کا کوئی جواز نہیں تھا۔ انہوں نے عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ سے اپیل کی کہ وہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں تاکہ دنیا بھر کے عوام کو راحت مل سکے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ کشیدگی جلد ختم ہوگی اور عالمی سطح پر امن قائم ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے یہ باتیں سرینگر کے مضافاتی علاقے سمپورہ میں سرکاری ملازمین کے لیے تعمیر کیے گئے رہائشی کوارٹرز کے دو نئے بلاکس کے افتتاح کے بعد کہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو بہتر رہائش فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے سمپورہ کو ایک جدید رہائشی کالونی کے طور پر ترقی دینے کی تجویز بھی پیش کی، جسے نئی دہلی کے بابا کھڑک سنگھ مارگ یا نئی موتی باغ کی طرز پر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس اقدام سے شہر کے مرکزی علاقوں میں بھیڑ کم ہوگی اور ان علاقوں کو بہتر معاشی استعمال میں لایا جا سکے گا۔بے روزگاری کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کا ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم صرف سرکاری نوکریاں فراہم کر کے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ نجی شعبے کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔انہوں نے بتایا کہ ‘مشن یووا’ اسکیم کے تحت حکومت اب تک تقریباً 1000 کروڑ روپے نرم قرضوں اور گرانٹس کی صورت میں فراہم کر چکی ہے تاکہ نوجوان اپنے کاروبار شروع کر سکیں اور معاشی طور پر خود کفیل بن سکیں۔