جموں،سرینگر وندے بھارت ٹرین ’فیصلہ کن پیشرفت‘ قرار

جموں،سرینگر وندے بھارت ٹرین ’فیصلہ کن پیشرفت‘ قرار

کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ متوقع، ہوٹل انڈسٹری اوردستکاری شعبے بھی مستفید ہوں گے

سرینگر//یو این ایس//جموں و کشمیر میں جموں اور سری نگر کے درمیان براہِ راست وندے بھارت ٹرین سروس کے آغاز کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جسے عوام، تاجروں، طلبہ اور سرکاری ملازمین سمیت مختلف طبقوں نے زبردست سراہا ہے۔ اس جدید ریلوے سروس کو خطے میں سفری سہولیات، معاشی سرگرمیوں اور سیاحت کے فروغ کیلئے ایک’گیم چینجر‘کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابقاس سروس کے آغاز کے ساتھ ہی جموں اور سری نگر کے درمیان سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہو کر چار گھنٹے سے بھی کم رہ گیا ہے، جس سے روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے افراد، خاص طور پر سرکاری ملازمین اور کاروباری حضرات کو بڑی سہولت میسر آئے گی۔ ماضی میں یہی سفر سڑک کے ذریعے کئی گھنٹوں بلکہ بعض اوقات پورے دن پر محیط ہوتا تھا، جبکہ خراب موسم، ٹریفک جام اور لینڈ سلائیڈز جیسی رکاوٹیں بھی درپیش رہتی تھیں۔افتتاحی سفر میں شامل ایک ٹریول ایجنٹ نے اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف وقت اور اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ وادی کشمیر کو سال بھر قابلِ اعتماد رابطہ بھی حاصل ہوگا۔ ان کے مطابق خاص طور پر سیاحوں کو اب سڑک کے خطرناک اور غیر یقینی سفر پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ وہ آسانی سے ٹرین کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ اس ٹرین سروس سے اشیائے ضروریہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک مقامی تاجر بھوشن چند کے مطابق پہلے ٹرکوں کے ذریعے مال کی ترسیل نہ صرف مہنگی بلکہ وقت طلب بھی تھی، جبکہ اب ریل کے ذریعے لاگت میں کمی اور تیزی ممکن ہوگی، جس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔سری نگر واپس جانے والے ایک سرکاری ملازم مشتاق احمد نے کہا کہ یہ سروس دونوں دارالحکومتوں کے درمیان کام کرنے والے ملازمین کیلئے ایک بڑی سہولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک ہی دن میں جموں جا کر واپس آنا ممکن ہو گیا ہے، جو پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔طلبہ نے بھی اس پیش رفت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے انہیں کٹرہ تک سفر کر کے ٹرین پکڑنی پڑتی تھی، جبکہ اب براہِ راست جموں سے ٹرین دستیاب ہونے سے ان کی مشکلات کم ہو گئی ہیں۔ ایک طالبہ وینتا کے مطابق یہ سہولت تعلیمی اور ذاتی سفر دونوں کیلئے نہایت مفید ثابت ہوگی۔ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے 20 کوچز پر مشتمل وندے بھارت ایکسپریس کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا، جو آج سے براہِ راست سری نگر تک چلے گی۔ یہ ٹرین پہلے سری نگر سے کٹرا تک محدود تھی، تاہم اب اس کی توسیع جموں تک کر دی گئی ہے، جو خطے کیلئے ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔یہ سروس 2 مئی سے باقاعدہ طور پر عوام کیلئے دستیاب ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے 6 جون 2025 کو کٹرا اور سری نگر کے درمیان پہلی براہِ راست ٹرین سروس کا افتتاح کیا تھا، جس کے بعد اب اسے جموں تک بڑھا دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف سیاحت کے شعبے میں نئی جان ڈالے گی بلکہ مقامی معیشت کو بھی مضبوط بنائے گی۔ کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے، جس سے ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور دیگر شعبے بھی مستفید ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ ٹرین سروس خطے میں ہمہ موسمی رابطہ کاری کو یقینی بناتے ہوئے برفباری، بارش اور دیگر موسمی رکاوٹوں کے اثرات کو کم کرے گی۔یاد رہے کہ کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والا یہ وسیع ریلوے منصوبہ تقریباً 43,780 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جا رہا ہے، جس پر 1990 کی دہائی کے اواخر میں کام شروع ہوا تھا، جبکہ وادی کشمیر میں پہلی ٹرین سروس اکتوبر 2008 میں شروع ہوئی تھی۔ ماہرین اسے جموں و کشمیر کی ترقی اور انضمام کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔