سوپور//پولیس چیف دلباغ سنگھ نے سنیچر کے روز کہاکہ جمعہ کوبانڈی پورہ میں پولیس پارٹی پر ہوئے حملے میں ملوث افرادکی شناخت ہوگئی ہے ۔ساتھ ہی انہوںنے کہاکہ شمالی کشمیرمیں غیر ملکی جنگجوئوںکی تعدادزیادہ نہیں ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے سنیچر کے روز بانڈی پورہ حملے میں جاں بحق ہوئے ایک پولیس اہلکارکے گھرجاکر وہاں اُنکے اہل خانہ کیساتھ تعزیت اورہمدردی کااظہارکیا۔ڈی جی پی کے ہمراہ آئی جی پی کشمیر وجئے کمار،ڈی آئی جی پی شمالی کشمیراورایس پی سوپور سدھانشوورمابھی تھے ۔ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے مہلوک پولیس اہلکارکے غمزدہ اہل خانہ کواسبات کی یقین دہانی کرائی کہ جموں وکشمیرپولیس اس نازک اورالمناک گھڑی میں اُن کیساتھ ہے ۔انہوںنے سوگوار کنبے کوہرممکنہ تعاون اورامداد کایقین بھی دلایا۔بعدازاں کچھ میڈیانمائندوںکیساتھ بات کرتے ہوئے جموں وکشمیرپولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے کہاکہ پولیس کو بانڈی پورہ میں کل ایک پولیس پارٹی پر کل ہوئے حملے کے بارے میں سراغ مل گیا ہے جس میں 2 پولیس اہلکارسلیکشن گریڈکانسٹیبل محمد سلطان اور کانسٹیبل فیاض احمد مارے گئے تھے۔ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ پولیس کو حملے کے حوالے سے ابتدائی سراغ مل گئے ہیں اور وہ ملوث جنگجوئوں کی شناخت کے لئے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ سیکورٹی فورسز کے تعاون سے پولیس لوگوں کی حفاظت کر رہی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنا رہی ہے، جوجنگجوئوں کے لئے اچھایا مناسب نہیں ہے، اسی وجہ سے وہ پولیس فورس پر حملہ کر رہے ہیں۔پولیس چیف دلباغ سنگھ نے مزید کہا کہ شمالی کشمیر میںصرف چندغیر ملکی عسکریت پسند سرگرم ہیں اور یہ کہ جنگجولوگوں کی حفاظت کیلئے مامور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔شمالی کشمیر میں سرگرم غیر ملکی عسکریت پسندوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے جانے پر پولیس چیف دلباغ سنگھ نے کہا کہ یہ تعداد بہت زیادہ نہیں ہے لیکن حالیہ دراندازی میں کچھ جنگجوؤں نے دراندازی کی ہے۔انہوںنے کہاکہ پولیس ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ دراندازی کرکے یہاں پہنچے جنگجوئوںمیں سے کچھ مارے گئے ہیں جبکہ باقی کو جلد ہی ہلاک کر دیا جائے گا۔










