پلوامہ//جموں وکشمیر اور لداخ یوٹیوں میں اَپنے رَسائی پروگراموں کے سلسلے میں تیسرے دِن ٹیکس دہندگان کی بیداری مہم ، ’’ ملاقات ‘‘ صوبہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں جاری رکھی گئی۔اِس کاررِوائی کی صدارت پرنسپل کمشنر انکم ٹیکس سری نگر( پی سی آئی ٹی) ایم پی سنگھ نے کی ۔اِس موقعہ پر پلوامہ کے ضلع مجسٹریٹ بصیر الحق چودھری اور محکمہ سی جی ایس ٹی کے افسران بھی موجود تھے۔یہ تبادلہ خیال مقامی نوجوانوں کے نمائندوں ، تاجر برادری کے نمائندوں ، مقامی نوجوانوں ، صنعت کاروں ، زعفران کے کاشت کاروں ، چھوٹے دکانداروں اور بڑی تعداد میں تاجروں کے ساتھ ہوا۔ پی سی آئی ٹی نے ٹیکس دہندگان میں اِنکم ٹیکس سلیب کی شرح کے بارے میں بیداری پھیلانے کیلئے سامعین پر زور دیا کہ وہ ایماندار اور قابل فخر ٹیکس دہندگان کے طور پر نیشن بلڈنگ کے عمل میں اَپنا حصہ اَدا کریں۔پرنسپل کمشنر آف اِنکم ٹیکس نے مزید زور دیا کہ وہ مالی نظم و ضبط کے بغیر معاشی ترقی لوگوں میں نہیں لائی جاسکتی ۔اُنہوں نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ وہ اَپنے واجب الادا ٹیکس اَدا کریں او راَپنا آئی ٹی آر فائل کریں جو کہ ایک بہتر ضروری عمل ہے ۔ محکمہ 99فیصد معاملات میں آئی ٹی آرز کو قبول کرتا ہے اور جے اینڈ کے جیسے خطوں میں 0.2 سے کم ریٹرن کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے او روہ بھی اعلیٰ ترین حکام کی نگرانی میں ۔اُنہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نئے شفاف اور جواب دہ ٹیکس نظام کے تحت اَب کسی قسم کی تعصب یا ہراساں کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔اُنہوں نے فیس لیس سکیم کے بارے میں مزید کہا کہ جس کے تحت تمام جانچ پڑتال کی کارروائی آن لائن کی جائے گی تاکہ کارروائی کی بہتر تعمیل اور شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ایم پی سنگھ نے اِس بات پر زور دیا کہ ٹیکس دہندگان کی جائز شکایات کے ازالے کے لئے اَفسران کو اِضافی میل طے کرنے ، دیر تک بیٹھنے اور درحقیقت ایسا کرنے کا عزم کیا جاتا ہے۔اِس کے علاوہ لوگوں سے ٹیکس کے مسائل او ریونین بجٹ سے ان کی خواہشات کے بارے میں رائے لی گئی ۔ مقامی تاجروں اور چھوٹے دکانداروں کو اِنکم ٹیکس ایکٹ 1961 کے سیکشنز کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جس کے تحت وہ اِس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ٹیکسیشن سکیم جس کے تحت اکائونٹس کی کسی کتاب کو برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔مرکزی بجٹ کے حوالے سے مقامی لوگوں نے اَپنے خیالات اور تجاویز پیش کیں جو پلوامہ ضلع پر مرکوز ہیں۔مقامی لوگوں نے پلوامہ کی صنعت کاری پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے ٹیکس فوائد کو بھی اُجاگر کیا۔ اِس سلسلے میں پلوامہ کے ضلع مجسٹریٹ نے مطلع کیا کہ مختلف سبسڈیزمیں صنعتی شعبے کو 3600 کروڑ روپے دئیے گئے ہیں جس سے زائد اَز 37,000 لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔پلوامہ کے مقامی نوجوانوں نے سی اے ( کنٹرولڈ ایٹمو سفیئر ) کولڈ سٹوروں ، ڈیری فارمروں ، کورو گیٹیڈ بکس فیکٹریوں سے متعلق مسائل اُٹھائے ، جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کی اپیل کی اور جی ایس ٹی سے متعلق مسائل کو اُجاگر کیا۔ضلع میں ٹیکس دہندگان کی بیداری اور سہولیت کاری کیمپ کا بھی اِنعقاد کیا گیا ۔ مجموعی طور پر یہ ایک اِنتہائی تعمیری اور نتیجہ خیز اِستفساری سیشن تھا ۔










