سرینگر / /کرناہ کے جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوششیں بدھ یعنی چو تھے روز بھی جاری رہیں اور محکمہ نے اضافی عملہ طلب کیا ہے اور یہ عملہ شام دیر گئے تک آگ پر قابو پانے کی کوششیں کر رہا تھا۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق کپوارہ کے رامحال اورترہلگام رینج سے قریب 100ملازمین کرناہ پہنچے اور دن بھر جنگل میں آگ بجھانے کی کوششیں جاری رہیں۔بتایا جاتا ہے کہ جنگلات میں گذشتہ چار دنوں سے بھیانک آگ لگی ہوئی ہے جس کی زد میں ٹنگڈار ناڑ سے لیکر کلسوری کا جنگلات آیا ہے ۔آگ اس قدر شدید تھی کہ اس کے شعلے دور دور تک دکھائی دے رہے ہیںجبکہ پوراکرناہ دھواں ہی دھواں ہے،۔آگ کی وجہ سے جنگل میں درجنوں سرسبز درختان کونقصان ہوا ہے ۔گھاس اور دیگر جڑیء بوٹیاں بھی حاکستر ہو چکی ہیں۔ذرایع سے معلوم ہوا کہ بدھ کے صبح سے ہی فارسٹ پروٹیکشن فورسز ، فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کے مقامی نوجوا ن آگ پر قابو پانے کی کوشش میں تھے، جبکہ ترہگام سے رینج آفیسر ظہور احمدخان اور رامحال سے رینج افیسر بشیر احمد کی قیات میں ایک سو افراد پرمشتمل محکمہ جنگلات کا عملہ کرناہ پہنچا اور دن بھر آگ بجھانے کی کوشش کی۔ خشک موسم اور تیز ہوا چلنے کی وجہ سے آگ بجھانے میں پچھلے تین روز سے دقتیں پیش آرہی تھیںتاہم اضافی عملہ کی کوششوں اور مقامی پنچایتی اراکین اور مقامی لوگوں کی مدد سے آگ بجھانے کی کوششیں شام دیر گئے تک جاری تھیں۔ رینج افسر کرناہ شمس الرحمان اور ترہگام ظہور احمد خان نے بتایا کہ سوموار کو بعد دوپہر قریب اڑھائی بجے کمپارٹمنٹ نمبر 34میں اچانک آگ نمودار ہوئی اور محکمہ کا قلیل عملہ اس آگ پر قابو نہ پا سکا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کے اعلیٰ حکام کی مداخلت سے آج قریب100ملازمین کپوارہ سے کرناہ پہنچے ،جنہوں نے آگ بجھانے کی کوششیں شروع کیں اور شام دیر گئے تک 80فیصد جنگلات سے آگ بجھائی جا چکی ہے اور شام تک آگ پر قابو پایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے تین روز سے محکمہ کا عملہ جنگل میں ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جنگل کی حفاظت کریں اور خشک موسم میں جنگل میں سگریٹ کا ستعمال نہ کریں آگ نہ جلائیں۔










