ملک کا کروڑوں عوام مناب وقت پر اپنا فیصلہ سنائے گا / راجناتھ سنگھ
سرینگر / این این بی // کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف دیے گئے متنازعہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھر گے کے ریمارکس سے ملک کے کروڑوں لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کانگریس کو محض سیاسی زوال ہی نہیں بلکہ نظریاتی پستی کا بھی سامنا ہے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق نئی دہلی میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جمہوریت میں حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا اور سیاسی اختلافات کا اظہار کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، تاہم سیاسی مخالفت کو ذاتی توہین اور نازیبا زبان تک لے جانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا۔واضح رہے کہ پٹنہ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران سامعین میں سے ایک شخص نے تبصرہ کیا کہ وزیر اعظم مودی کہیں نہیں جائیں گے، جس کے جواب میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا، ”مودی کا باپ بھی جائے گا“۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کسی سیاسی رہنما کے ساتھ نظریاتی اختلاف کو ذاتی حملوں میں تبدیل کرنا اور سیاسی اختلاف کو توہین آمیز زبان کے ذریعے ظاہر کرنا کانگریس کی مایوسی اور نظریاتی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کے اہل خانہ کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنا بھی مناسب طرز عمل نہیں ہے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں یہ معاملہ صرف کسی ایک فرد یا خاندان کی توہین تک محدود نہیں بلکہ ہندوستانی سیاست کے وقار پر بھی حملہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود عوامی زندگی میں شائستگی، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملکارجن کھرگے کانگریس کے قومی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں، اس لیے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے عہدے کے وقار کے مطابق سنجیدگی، ضبط و تحمل اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کا قومی صدر خود اس طرح کی زبان استعمال کرتا ہے تو اس سے نہ صرف اس کے عہدے کے وقار پر سوالات اٹھتے ہیں بلکہ پارٹی کی سیاسی ثقافت پر بھی سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کی سیاست کا معیار روز بروز گرتا جا رہا ہے اور کھڑگے کے بیان نے پارٹی کے نظریاتی زوال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں سیاسی مخالفت کا مطلب یہ نہیں کہ ذاتی حدود کو پامال کیا جائے یا کسی رہنما کے خاندان کو نشانہ بنایا جائے۔وزیر دفاع نے کانگریس کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی اختلافات کے اظہار میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کی جا سکتی ہے، سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں اور تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن اس دوران زبان اور طرزِ عمل کا معیار برقرار رکھنا ضروری ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اس طرح کے بیانات وزیر اعظم نریندر مودی کو نہ تو ان کے مقصد سے ہٹا سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کی خدمت کے لیے ان کے عزم کو کمزور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مودی عوام کی خدمت کے اپنے عزم پر قائم رہیں گے اور اس نوعیت کے ریمارکس ان کے حوصلے کو متاثر نہیں کر سکتے۔وزیر دفاع نے کانگریس کی جانب سے کھڑگے کے بیان کو درست ثابت کرنے اور ان کے دفاع کی کوششوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو غلطی کا جواز پیش کرنے کے بجائے اسے تسلیم کرنا اور افسوس کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کانگریس کو یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت میں عوام ہر بات کا حساب رکھتے ہیں اور مناسب وقت آنے پر اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماو ¿ں کو عوامی زندگی میں اپنے بیانات اور طرزِ عمل کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔










