oom birla

پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں 12ویں برکس پارلیمانی فورم کا اجلا س شروع

ہندوستان ”جمہوریت کی ماں“ ،اختلاف رائے کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کے اصولوں پر قائم /اوم برلا

سرینگر / این این بی // عالمی تنازعات اور پیچیدہ چیلنجوں کے پ ±رامن حل کیلئے پارلیمانی سفارت کاری، باہمی مذاکرات اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا ہے کہ پارلیمان مختلف ممالک کے درمیان اعتماد اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق 12ویں برکس پارلیمانی فورم کا نئی دہلی میں آغاز ہو گیا ۔ پارلیمنٹ ہاو ¿س کمپلیکس کے اندر واقع سمودھن سدن کے مرکزی ہال میں شروع ہونے والے 12ویں برکس پارلیمانی فورم سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اجلاس کی صدارت کی اور برکس کے رکن ممالک کی نمائندگی کرنے والے مندوبین کا خیرمقدم کیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے عالمی سطح پر درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کو ایسے مسائل کا سامنا ہے جن کے اثرات کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری عالمی برادری ان سے متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعات، جنگیں، معاشی بے یقینی، تجارت سے متعلق کشیدگی، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ان چیلنجوں کا مو ¿ثر حل اسی صورت ممکن ہے جب مختلف ممالک ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے، اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے دور کرنے اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے تیار ہوں۔اوم برلا نے بین الاقوامی معاملات میں پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانیں مختلف ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط بنانے، اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے اور بین الاقوامی کشیدگی کم کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی ادارے صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ وہ عالمی سطح پر مکالمے، تعاون اور مسائل کے پ ±رامن حل کو فروغ دینے میں بھی مو ¿ثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق منتخب نمائندوں کے درمیان مسلسل رابطہ اور تبادلہ خیال مختلف ممالک کے درمیان اختلافات کو کم کرنے اور مشترکہ مفادات کے لیے مل کر کام کرنے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔لوک سبھا کے اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی ماحول میں محاذ آرائی کے بجائے بات چیت اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے، تاکہ عالمی مسائل کا ایسا حل تلاش کیا جاسکے جو تمام متعلقہ فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔اپنے خطاب کے دوران اوم برلا نے ہندوستان کی جمہوری روایات اور پارلیمانی نظام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے ہندوستان کو ”جمہوریت کی ماں“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی جمہوری طاقت مکالمے، خیالات کے تنوع اور اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کے اصولوں پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت میں مختلف نظریات اور نقط نظر کو جگہ دی جاتی ہے اور بات چیت کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہی جمہوری اقدار ملک کی ترقی اور استحکام کی بنیاد رہی ہیں۔12ویں برکس پارلیمانی فورم کا بنیادی مقصد رکن اور شراکت دار ممالک کے پارلیمانی رہنماو ¿ں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرکے تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا اور عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ہے۔