دنیا کے صرف 3.2 فیصد گلیشیئرز عالمی برفانی نقصان کے نصف سے زائد کے ذمہ دار/ تحقیق

دنیا کے صرف 3.2 فیصد گلیشیئرز عالمی برفانی نقصان کے نصف سے زائد کے ذمہ دار/ تحقیق

موسمیاتی تبدیلی کے دور میں گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنا انتہائی اہم/ماہرین

سرینگر//یو این ایس / ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کے صرف 3.2 فیصد گلیشیئرز عالمی سطح پر گلیشیئرز کی برف کے مجموعی نقصان کے نصف سے زائد حصے کے ذمہ دار ہیں۔ تحقیق کے مطابق، جھیلوں، سمندروں یا برفانی شیلف تک پہنچنے والے ان گلیشیئرز نے سال 2000 سے 2019 کے درمیان سالانہ اوسطاً 134 ارب ٹن برف کھوئی۔برطانیہ کی یونیورسٹی آف برمنگھم اور یونیورسٹی آف لیڈز کے سائنس دانوں کی قیادت میں کی گئی یہ تحقیق سائنسی جریدے ”نیچر کمیونیکیشنز (Nature Communications)“ میں شائع ہوئی ہے۔تحقیق کے مطابق، جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز عام طور پر خشکی پر ختم ہونے والے گلیشیئرز کے مقابلے میں زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔ جھیلوں، سمندروں اور برفانی شیلف تک پہنچنے والے گلیشیئرز مجموعی طور پر دنیا کے نصف سے زیادہ گلیشیئر رقبے پر محیط ہیں۔مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز اوسطاً خشکی پر ختم ہونے والے گلیشیئرز کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ تیزی سے حرکت کرتے ہیں، جبکہ سمندروں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز کی رفتار 44 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔تحقیق کے مطابق، اپنے حجم کے تناسب سے جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز خشکی پر ختم ہونے والے گلیشیئرز کے مقابلے میں تقریباً 57 فیصد زیادہ برف کھو رہے ہیں۔ جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز تیزی سے کیوں پگھل رہے ہیں؟تحقیق کے مصنف جوزف ماللیو کے مطابق، جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز غیر معمولی تیزی سے برف کھو رہے ہیں، تاہم اس کی اصل وجوہات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ اس کے پیچھے جھیلوں کی خصوصیات، گلیشیئرز کا حجم اور ان کی ساخت یا ان عوامل کا مشترکہ اثر ہوسکتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق، جھیلوں میں موجود گلیشیئرز کے برفانی حصے سے بڑے ٹکڑے الگ ہوکر برفانی تودوں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس عمل کو ’کیلفنگ‘ (Calving) کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، جھیل کا پانی سطحِ آب کے نیچے موجود برف کو پگھلانے میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے، جس سے برف کے نقصان کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کی اقسام بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ آرکٹک کے بعض علاقوں میں سمندروں میں ختم ہونے والے گلیشیئر پیچھے ہٹ کر خشکی پر ختم ہونے لگے ہیں، جبکہ دنیا کے کئی حصوں میں گلیشیئر جھیلوں کے پھیلاو ¿ کے باعث خشکی پر ختم ہونے والے گلیشیئر اب جھیلوں تک پہنچ رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق، ان تبدیلیوں کے مختلف اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ خشکی کی جانب پیچھے ہٹنے والے بعض گلیشیئرز میں برف کے نقصان کی رفتار کم ہوسکتی ہے، جبکہ جھیلوں تک پہنچنے والے گلیشیئرز میں برف کا نقصان تیز ہونے کا امکان ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کی تبدیلیوں کی درست پیش گوئی کے لیے موجودہ ماڈلز میں مزید بہتری کی ضرورت ہے، کیونکہ ان میں جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز کے اثرات کو ابھی مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا ہے۔تحقیق کے مطابق، گلیشیئرز کی اقسام اور ان کے ماحول اور ساخت کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے سے سمندر کی سطح میں اضافے، آبی وسائل کی دستیابی اور قدرتی خطرات سے متعلق پیش گوئیوں کو زیادہ درست بنایا جاسکتا ہے۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنا اور اس کی نگرانی کرنا مستقبل کی ماحولیاتی منصوبہ بندی کے لیے انتہائی اہم ہے۔