بھارت کو ڈرون مینوفیکچرنگ کے میدان میں مضبوط اور خود کفیل نظام قائم کرنا ہوگا

دہشت گردی کے پورے ایکو سسٹم کو مضبوط اور اجتماعی کوششوں سے ختم کرنا ہوگا

منشیات کےخلاف تعاون بھی علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کیلئے انتہائی اہم / راجناتھ سنگھ

سرینگر /این این بی // دہشت گردی کے خلاف اجتماعی اور فیصلہ کن کارروائی پر زور دیتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے پورے ”ایکو سسٹم“ کو مضبوط اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے، ان کی مدد کرنے یا انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی امن اور ترقی کے لیے دنیا کو درپیش ”سنگین ترین خطرات“ میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نہ صرف بے گناہ لوگوں کی جانیں لیتی ہے بلکہ سرمایہ کاری اور تجارت کو بھی متاثر کرتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی معاشروں میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کو فروغ دیتی ہے اور نوجوانوں کو ان مواقع سے محروم کرتی ہے جن کے وہ حقدار ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کو کسی بھی قسم کے دوہرے معیار سے گریز کرتے ہوئے متحد ہو کر کارروائی کرنا ہوگی۔راج ناتھ سنگھ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گردی کے لیے کوئی جواز نہیں ہوسکتا اور اس سے نمٹنے میں کسی قسم کے دوہرے معیار کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جو عناصر دہشت گردوں کو مالی وسائل فراہم کرتے ہیں، ان کی حمایت کرتے ہیں یا انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں، انہیں بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا پورا ماحولیاتی نظام اجتماعی طور پر ختم کیا جانا چاہیے تاکہ دہشت گرد تنظیموں کو وسائل، پناہ، معاونت اور دیگر سہولیات حاصل نہ ہوسکیں۔راج ناتھ سنگھ نے 15 اکتوبر کو نئی دہلی میں دیے گئے اپنے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان سے شروع ہونے والی کسی بھی آئندہ دہشت گردانہ کارروائی کا جواب اس سے بھی زیادہ سخت انداز میں دیا جائے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ 2014 کے بعد سے زیادہ تر دہشت گردوں کی ”شیلف لائف“ ایک سال سے بھی کم رہ گئی ہے اور سکیورٹی فورسز نے ایسے متعدد دہشت گردوں کو ان کے ہتھیار اٹھانے کے ایک سال کے اندر ہی غیر مو ¿ثر بنا دیا ہے۔ایس سی او اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر دفاع نے دہشت گردی کے ساتھ ساتھ علاقائی اقتصادی تعاون کے حوالے سے بھی بھارت کا موقف پیش کیا۔انہوں نے 2026سے 2030 تک کثیرالجہتی تجارتی و اقتصادی تعاون کے پروگرام کے ایکشن پلان کو اپنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایس سی او رکن ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے حق میں ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اقتصادی تعاون نہ صرف جامع ہونا چاہیے بلکہ ہر رکن ملک کے لیے فائدہ مند بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کو زیادہ مضبوط اور لچکدار سپلائی چینز کی تعمیر، تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو شفاف، قابل پیش گوئی اور مستحکم حالات پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ مختلف شعبوں میں باہمی روابط کو فروغ دیا جاسکے۔ایس سی او کا کثیرالجہتی تجارتی و اقتصادی تعاون پروگرام رکن ممالک کے درمیان تجارت، اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے روابط کو جامع انداز میں فروغ دینے کا مقصد رکھتا ہے۔اس پروگرام کے تحت باہمی تجارت کے حجم میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا جاتا ہے تاکہ تنظیم کے رکن ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود میں بہتری لائی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف تعاون بھی علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بھارت ایس سی او کے پلیٹ فارم کو دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات اور دیگر مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کے مو ¿ثر ذریعہ کے طور پر دیکھتا ہے۔راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی اور اس سے جڑے معاون نیٹ ورک کے خلاف اجتماعی کارروائی کے ساتھ ساتھ رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں روابط کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔