دہشت گردی اور تباہ کن ہتھیاروں کا گٹھ جوڑ عالمی خطرہ

دہشت گردی اور تباہ کن ہتھیاروں کا گٹھ جوڑ عالمی خطرہ

دہشت گردوں تک حساس ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کی منتقلی روکنے کیلئے عالمی چوکسی ناگزیر/بھارت

سرینگر /این این بی // بھارت نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں اور غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار لگنے کا خطرہ بدستور موجود ہے، جس سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوںنے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ حساس اور ’دوہرے استعمال‘ والی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاملے میں انتہائی محتاط اور چوکس رہیں، بالخصوص ان عناصر کے حوالے سے جن کا ماضی میں ہتھیاروں کے پھیلاو ¿ سے تعلق رہا ہو یا جو دہشت گردی سے وابستہ ہوں۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی میں بھارت کا موقف پیش کرتے ہوئے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ آلوک کمار سمن نے کہا کہ دہشت گردی آج بھی عالمی امن اور بین الاقوامی سلامتی کیلئے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار دہشت گردوں اور دیگر غیر ریاستی عناصر کی دسترس میں آ سکتے ہیں۔آلوک کمار سمن نے رکن ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ حساس ٹیکنالوجی اور ایسے آلات یا مواد جو پرامن مقاصد کے ساتھ ساتھ فوجی اور تباہ کن مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں، ان کی منتقلی میں غیر معمولی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ’دوہرے استعمال‘ والی اور حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے چوکس رہیں، خاص طور پر ایسے عناصر کے معاملے میں جن کا ہتھیاروں کے پھیلاو ¿ کا سابقہ ریکارڈ رہا ہو یا جن کے دہشت گردی سے روابط موجود ہوں۔بھارتی نمائندے کے بیان کو بظاہر پاکستان اور پاکستانی جوہری سائنس دان ڈاکٹر اے کیو خان سے منسلک ماضی کے جوہری پھیلاو ¿ کے نیٹ ورک کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔بھارتی موقف میں بالواسطہ طور پر اے کیو خان کے مبینہ عالمی جوہری پھیلاو ¿ کے نیٹ ورک کی جانب اشارہ کیا گیا، جس کے بارے میں ماضی میں متعدد بین الاقوامی رپورٹس اور امریکی حکام کی جانب سے تشویش ظاہر کی جا چکی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے ماضی میں اے کیو خان کے نیٹ ورک کو ان ممالک کے لیے ایک طرح کی ’ون اسٹاپ شاپنگ‘ سہولت قرار دیا تھا جو جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتے تھے۔بھارت نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ماضی میں ہتھیاروں کے پھیلاو ¿ سے وابستہ نیٹ ورکس اور عناصر سے متعلق تجربات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور مستقبل میں حساس ٹیکنالوجی کے غلط ہاتھوں میں جانے کے امکانات کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر مضبوط نگرانی ضروری ہے۔آلوک کمار سمن نے اس موقع پر نشاندہی کی کہ بھارت سال 2002 سے اقوام متحدہ میں ’دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے اقدامات‘ کے عنوان سے قرارداد پیش کرتا آ رہا ہے۔بھارت کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کی تیاری سے متعلق مواد اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہونے کی صورت میں اس کے نتائج کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔بھارتی موقف کے مطابق بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاو ¿ کو روکنے کے لیے عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کا مو ¿ثر نفاذ ضروری ہے۔ بھارت نے اس بات پر زور دیا کہ ان معاہدوں کے نفاذ میں کسی قسم کی امتیازی پالیسی نہیں ہونی چاہیے اور تمام ممالک کو یکساں اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے۔بھارت نے اپنے موقف میں واضح کیا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے جہاں پرامن اور سائنسی مقاصد کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں بعض ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔بھارتی نمائندے کے مطابق ’دوہرے استعمال‘ والی ٹیکنالوجی کو دہشت گرد گروہوں یا ہتھیاروں کے پھیلاو ¿ سے وابستہ عناصر تک پہنچنے سے روکنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے برآمدی کنٹرول، حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی کی نگرانی اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مو ¿ثر بنانا ضروری ہے۔بھارت نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ممکنہ امتزاج کو روکنے کیلئے عالمی سطح پر بروقت اقدامات ہی مستقبل میں کسی بڑے سانحے سے بچنے کا مو ¿ثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔