سیاحتی سرگرمیوں کا مقصد مقامی آبادی کیلئے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے / ناظم سیاحت کشمیر
سرینگر /این این بی // کشمیر کا سیاحتی شعبہ گزشتہ سال کے دھچکے کے بعد بتدریج مستحکم ہو رہا ہے کی بات کرتے ہوئے ناظم سیاحت کشمیر سید قمر سجاد نے کہا کہ آئندہ موسم سرما کے دوران سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر موسم سازگار رہا، مناسب برفباری ہوئی اور سڑکوں سمیت دیگر سفری راستے قابل رسائی رہے تو وادی کشمیر میں رواں سرمائی سیزن کے دوران بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔نیشنل نیوز بیورو( این این بی ) کے مطابق ناظم سیاحت کشمیر سید قمر سجاد نے کہا کہ کشمیر کی سیاحت کا مجموعی گراف ایک مرتبہ پھر اوپر کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ سیاحوں کی آمد ابھی 2023 کی سطح تک نہیں پہنچ سکی ہے، تاہم شعبے میں استحکام کے واضح آثار دکھائی دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نومبر، دسمبر اور جنوری کے دوران کشمیر میں سیاحت بڑی حد تک موسمی حالات، خصوصاً برفباری سے منسلک رہتی ہے۔ مناسب برفباری اور سڑکوں کی مسلسل دستیابی کی صورت میں رواں موسم سرما کشمیر کیلئے ایک اچھا سیاحتی سیزن ثابت ہو سکتا ہے۔سید قمر سجاد نے کہا کہ محکمہ سیاحت اس سال موسم سرما کی سرگرمیوں کو صرف گلمرگ تک محدود رکھنے کے بجائے وادی کے دیگر سیاحتی مقامات تک وسعت دینے کا منصوبہ رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ ہر سال نئے سال کے موقع پر گلمرگ میں سات روزہ سرمائی میلے کا انعقاد کرتا ہے، تاہم اس سال دیگر مقامات پر بھی چھوٹے دورانیے کے میلے منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مختلف مقامات پر دو سے تین روزہ کارنیوال منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جس کا مقصد مقامی سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ موسم سرما میں سیاحوں کو مختلف مقامات کی جانب راغب کرنا ہے۔ناظم سیاحت نے کہا کہ محکمہ گزشتہ سال شروع کیے گئے مربوط اسکیئنگ تربیتی پروگرام کو اس سال بھی جاری رکھے گا۔ اس پروگرام کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو سرمائی کھیلوں بالخصوص اسکیئنگ کی جانب راغب کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ گلمرگ، سونمرگ اور پہلگام کے علاوہ دودھ پتھری میں بھی اسکیئنگ کی تربیت اور سرگرمیوں کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے، تاہم دودھ پتھری میں یہ سرگرمیاں وہاں کی رسائی اور موسمی حالات سے مشروط ہوں گی۔سید قمر سجاد نے اعتراف کیا کہ وادی میں آنے والے سیاحوں کی درست تعداد معلوم کرنے کے لیے فی الحال کوئی مکمل اور فل پروف نظام موجود نہیں، جس کے باعث حتمی اعداد و شمار فراہم کرنا مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سیاحت شعبے کی مجموعی صورتحال کا اندازہ بڑی حد تک ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹروں، ٹریول ایجنسیوں اور دیگر سیاحتی اسٹیک ہولڈرس سے حاصل ہونے والی معلومات اور فیڈ بیک کی بنیاد پر لگاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت جموں و کشمیر میں زراعت اور باغبانی کے بعد روزگار فراہم کرنے والے اہم شعبوں میں شامل ہے۔ اس شعبے سے صرف ہوٹل مالکان یا ٹرانسپورٹر ہی وابستہ نہیں بلکہ گھوڑا بان، پونی آپریٹرز، گائیڈز، ریستوران مالکان، ٹریول ایجنٹس اور دستکاری سے وابستہ کاریگر بھی براہِ راست یا بالواسطہ روزگار حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپر ماشی سمیت مختلف روایتی دستکاریوں سے وابستہ افراد کی آمدنی بھی سیاحت سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق آنے والے برسوں میں سیاحت نوجوانوں کے لیے روزگار کے اہم ترین ذرائع میں سے ایک بن سکتی ہے۔قمر سجاد نے کہا کہ سیاحت کو فروغ دیتے ہوئے ماحولیات اور قدرتی وسائل کا تحفظ محکمہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاحتی سرگرمیوں کو اس انداز میں انجام دینا ہوگا کہ وادی کے قدرتی ماحول، جنگلی حیات اور قدرتی مساکن پر منفی اثر نہ پڑے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ موجودہ سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ جہاں ضروری ہو وہاں اس کے آپریشنز کو آو ¿ٹ سورس کرنے پر بھی غور کر رہا ہے، تاکہ خدمات کا معیار بہتر ہو، مقامی سطح پر روزگار پیدا ہو اور سیاحوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔سید قمر سجاد نے کہا کہ آج کے دور میں سیاح کسی بھی مقام کا سفر کرنے سے قبل موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں اور وہاں پہنچنے کے بعد خدمات کے معیار کی بنیاد پر اپنے تجربے کا جائزہ لیتے ہیں۔انہوں نے ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹروں، ریستوران مالکان اور ٹریول سروس فراہم کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ مو ¿ثر شکایتی نظام قائم کریں اور سیاحوں کی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے ساتھ رویہ، خدمات کی دستیابی اور شکایات کے ازالے کا طریقہ کشمیر کی سیاحتی ساکھ پر برا ہ راست اثر ڈالتا ہے۔ڈائریکٹر ٹورازم نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے کشمیر آنے والے سیاحوں کی غذائی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے سیاحتی کاروبار سے وابستہ افراد کو اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ مقامی ہوٹل اور ریستوران اپنے عملے کو مختلف علاقائی کھانوں کی تیاری کے حوالے سے تربیت دیں یا ایسے باورچیوں کی خدمات حاصل کریں جو ملک کے مختلف خطوں کے روایتی کھانوں سے واقف ہوں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مقامی کھانوں، دستکاری اور ثقافتی روایات کو فروغ دینا اپنی جگہ اہم ہے، تاہم سیاحوں کی بنیادی غذائی ضروریات اور ترجیحات کو پورا کرنا بھی ان کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔سید قمر سجاد نے بتایا کہ گلمرگ میں ایک نئی اسکی شاپ قائم کی گئی ہے جسے رواں موسم سرما میں فعال بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ موجودہ اسکی شاپ کو بھی اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جبکہ محکمہ نے نئی اسکیز بھی خریدی ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ پہلگام اور دودھ پتھری میں بھی اسکیئنگ کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتا ہے، بشرطیکہ وہاں موسمی اور دیگر حالات سازگار ہوں۔محکمہ رواں سرمائی سیزن کے دوران کم از کم ایک یا دو اسکیئنگ ٹورنامنٹ منعقد کرنے کے علاوہ ایک یا دو قومی سطح کے سرمائی کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنے کے امکانات بھی تلاش کر رہا ہے۔ڈائریکٹر ٹورازم نے کہا کہ عالمی حدت کے باعث برفباری میں کمی کا چیلنج بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر محکمہ مصنوعی برف باری سمیت متبادل سہولیات پر غور کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گلمرگ کے کونگڈوری میں مصنوعی برف باری کی سہولت قائم کرنے کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کرنے کا کام کنسلٹنٹس کے ذریعے جاری ہے۔ان کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد برف باری میں کمی کے باوجود اسکیئنگ کے سیزن کو برقرار رکھنے میں مدد دینا ہے تاکہ گلمرگ کی سرمائی سیاحتی حیثیت کو مستقبل میں بھی مستحکم رکھا جا سکے۔اس کے علاوہ محکمہ متبادل سرمائی سرگرمیوں کے لیے اسکیٹنگ رنک سمیت دیگر سہولیات کے قیام کے امکانات بھی تلاش کر رہا ہے۔سید قمر سجاد نے کہا کہ محکمہ کشمیر میں گالف سیاحت کو بھی فروغ دینے کا منصوبہ رکھتا ہے اور گالف ٹورنامنٹس کو دوبارہ سیاحتی کلینڈرکا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں تقریباً پانچ سے چھ گالف کورسز موجود ہیں، جو ملک کے دیگر حصوں سے سیاحوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد کو راغب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گالف سیاحت کے فروغ سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن، انسانی وسائل کی تربیت اور مختلف سیاحتی سرگرمیوں کا فروغ محکمہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ناظم سیاحت نے کہا کہ محکمہ دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کشمیر کے ثقافتی ورثے، روایتی طرز زندگی اور مقامی روزگار سے وابستہ سرگرمیوں کو سیاحوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ زبرون پارک میں پانچ روزہ میلے کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی کھانے اور کشمیر کی غذائی ثقافت کو اجاگر کیا گیا۔ اسی طرح محکمہ دستکاری کی جانب سے سیاحوں کو ڈاو ¿ن ٹاو ¿ن سری نگر کا مفت دورہ کرانے کی سہولت بھی فراہم کی گئی تاکہ وہ مقامی کاریگروں، روایتی دستکاری اور قدیم شہری ثقافت سے براہِ راست واقف ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں کا مقصد صرف کشمیر کی ثقافتی شناخت کو فروغ دینا نہیں بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔سید قمر سجاد نے امید ظاہر کی کہ بہتر موسم، مناسب برف باری، سڑکوں کی دستیابی، بہتر بنیادی ڈھانچے اور سیاحتی خدمات کے معیار میں بہتری کے ساتھ کشمیر آنے والے موسم سرما میں ایک بار پھر ملک اور بیرون ملک کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر ابھرے گا۔










