مستقبل قریب میں زراعت، پینے کے پانی، آبپاشی اور دیگر ضروریات متاثر ہونے کا خدشہ لاحق / محققین
سرینگر /این این بی // دنیا بھر میں غیر یقینی موسمی صورتحال کے بیچ اس بات کا انکشاف ہو گیا ہے کہ عالمی سطح پر گلیشیرممکنہ طور پر پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے اپنی برف کھو رہے ہیں جس سے مستقبل قریب میں پانی کی روانی میں کافی کمی آ سکتی ہے ۔ نیشنل نیوز بیورو کے مطابق روزانہ موسم میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گلیشیروں کے پگھلنے کا اندازہ لگایا جائے تو برف کے تیزی سے پگھلنے کی زیادہ حقیقت پسندانہ تصویر سامنے آسکتی ہے۔ ایک نئے سائنسی مطالعے میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے گلیشیرس ممکنہ طور پر پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے اپنی برف کھو رہے ہیں۔سوئٹزرلینڈ کے ای ٹی ایچ زیورخ اور بیلجیم کی کے محققین کی قیادت میں کیے گئے اس مطالعے میں گلیشیرس پگھلنے کے عمل کی زیادہ باریک بینی سے جانچ کی گئی۔ تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔محققین کے مطابق گلیشیرس کے پگھلنے کا عمل صرف ماہانہ اوسط درجہ حرارت اور موسمی حالات سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ روزانہ ہونے والی موسمی تبدیلیاں بھی اس پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں۔ خاص طور پر مختصر مدت کی شدید گرمی کی لہریں اور غیر معمولی طور پر زیادہ پگھلائو والے دن گلیشیروں سے بڑی مقدار میں برف کے ضیاع کا سبب بن سکتے ہیں۔مطالعے کے سرکردہ مصنف اور ای ٹی ایچ زیورخ سے وابستہ محقق لینڈر وان ٹرِخت نے کہا کہ گلیشیرس ماہانہ اوسط درجہ حرارت کے مطابق ردعمل ظاہر نہیں کرتے بلکہ وہ ہر روز پیش آنے والے موسمی حالات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق چند دنوں تک جاری رہنے والی شدید گرمی کی لہر بھی برف کے پگھلاو ¿ میں غیر معمولی اضافہ کر سکتی ہے، تاہم اگر پورے مہینے کے موسمی حالات کا اوسط نکالا جائے تو ایسے انتہائی واقعات کے اثرات کم دکھائی دے سکتے ہیں۔محققین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ شدید بارش یا برف باری گلیشیرس کے برفانی ذخیرے اور پانی کے بہاو ¿ پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہے۔ خاص طور پر جب درجہ حرارت نقط انجماد کے آس پاس ہو تو یہ فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے کہ بارش برف کی شکل میں ہوتی ہے یا پانی کی صورت میں گرتی ہے۔تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے گلوبل گلیشیرس ایوولوشن ماڈل کو مزید بہتر بناتے ہوئے اسے روزانہ کی بنیاد پر موسمی حالات اور گلیشیئر پگھلنے کے عمل کا تجزیہ کرنے کے قابل بنایا۔اس جدید ماڈل کو دنیا بھر کے 12500سے زائد گلیشیرس پر لاگو کیا گیا، جو مجموعی عالمی گلیشیرس برف کے حجم کا تقریباً 94فیصد بنتے ہیں۔محققین کے مطابق روزانہ کی سطح پر کام کرنے والے ماڈل نے روایتی ماہانہ ماڈل کے مقابلے میں گلیشیرس کے حقیقی برفانی نقصان کی زیادہ درست عکاسی کی، بالخصوص ان برسوں میں جب گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل غیر معمولی حد تک تیز رہا۔مطالعے میں 2022میں یورپی الپس میں ریکارڈ کیے گئے غیر معمولی پگھلاو ¿ کو بھی مثال کے طور پر شامل کیا گیا۔ محققین کے مطابق روزانہ موسمی حالات کو مدنظر رکھنے والا ماڈل ایسے انتہائی پگھلاو ¿ والے برسوں میں گلیشیرس کے بڑے پیمانے پر برفانی نقصان کو بہتر انداز میں ظاہر کرتا ہے۔تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزانہ موسمی تغیرات کے اثرات وقت گزرنے کے ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ مستقبل کے موسمی حالات کے تحت کیے گئے تخمینوں میں روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے ماڈل نے بڑی حد تک گلیشیرس کے زیادہ تیزی سے سکڑنے اور برف کے زیادہ نقصان کی پیش گوئی کی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں درجہ حرارت میں مختصر مدت کی تبدیلیاں گلیشیرس پگھلائو پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔محققین کے مطابق اس اضافی برفانی نقصان کا براہ راست اثر سمندر کی سطح میں اضافے پر بھی پڑے گا۔ مطالعے میں استعمال کیے گئے روزانہ ماڈل نے اندازہ لگایا کہ 21ویں صدی کے دوران گلیشیر س کی جانب سے عالمی سطح سمندر میں اضافے میں حصہ روایتی ماہانہ ماڈل کے مقابلے میں تقریباً 5 سے 10 فیصد زیادہ ہوسکتا ہے۔وان ٹرخت کے مطابق موجودہ عالمی تخمینوں میں عموماً ماہانہ موسمی اعداد و شمار کو بنیاد بنایا جاتا ہے، جس کے باعث گرم ہوتی دنیا میں گلیشیرس کے برف کھونے کی رفتار کو کم اندازہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہی اہم نہیں بلکہ شدید اور مختصر مدتی پگھلاو ¿ کے واقعات بھی گلیشیرس کے مستقبل پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں یورپی الپس اور دنیا کے دیگر گلیشیرس والے علاقوں میں ایسے انتہائی واقعات دیکھنے میں آئے ہیں، اس لیے مستقبل کے بہتر اندازوں کے لیے ان واقعات کو سائنسی ماڈلز میں شامل کرنا ضروری ہے۔محققین نے کہا کہ تحقیق کی اہمیت صرف گلیشیرس کے سکڑنے اور عالمی سطح سمندر میں اضافے تک محدود نہیں ہے۔ گلیشیرس پگھلاو ¿ کی رفتار اور وقت میں تبدیلیاں ان علاقوں میں پگھلے ہوئے پانی کے بہائو کو بھی متاثر کریں گی جہاں لاکھوں افراد زراعت، پینے کے پانی، آب پاشی اور دیگر ضروریات کے لیے گلیشیروں سے آنے والے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔










