سیکرٹری دیہی ترقیات محکمہ نے دیہی ترقی کی اہم سکیموں کا جائزہ لیا ، بروقت تکمیل او رجوابدہی پر زور دیا

سیکرٹری دیہی ترقیات محکمہ نے دیہی ترقی کی اہم سکیموں کا جائزہ لیا ، بروقت تکمیل او رجوابدہی پر زور دیا

سری نگر//سیکرٹری دیہی ترقیات محکمہ و پنچایتی راج رمیش کمار نے منگل کے روز یونین ٹیریٹری میں محکمہ کی جانب سے عملائی جا رہی مختلف سکیموں اور پروگراموں کی تفصیلی جائزہ میٹنگ منعقد کی جس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیراتی پیش رفت ، مالیاتی نظم و ضبط، فنڈز کے بروقت اِستعمال اور دیہی علاقوں میں خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔میٹنگ میں سیکرٹری دیہی ترقیاتی محکمہ رچنا شرما، مشن ڈائریکٹر این آر ایل ایم شبھرا شرما، سی او او ’حمایت‘ رفعت کوہلی، ڈائریکٹر دیہی ترقی محکمہ جموں شہناز اختر، ڈائریکٹرفائنانس عمر خان، سی اِی او آئی ڈبلیو ایم پی رجنیش کمار، جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ کمل کمار شرما، ایڈیشنل سیکرٹری دیہی ترقی وسیم راجا، جوائنٹ ڈائریکٹر دیہی ترقی منتشا بنت رشید، ڈپٹی ڈائریکٹر رورل سینی ٹیشن کشمیر شبیر احمد حکاک ، اَنڈر سیکرٹری ارشد نعمانی اور دیگر اَفسران نے شرکت کی۔سیکرٹری نے مختلف اہم پروگراموں کے تحت ہوئی پیش رفت کا جائزہ لیاجن میں وِکست بھارت ۔گارنٹی فار روزگار اینڈ اجیو یکامشن( گرامین)( وِی بی۔ جی آر اے ایم ۔جی) ، پردھان منتری آواس یوجنا ۔ گرامین (پی ایم اے وائی ۔جی)، سوچھ بھارت مشن ۔ گرامین (ایس بی ایم۔ جی)، جموں و کشمیر رورل لائیولی ہڈز مشن (جے کے آر ایل ایم)، راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آر جی ایس اے)، حمایت اور اِنٹگریٹیڈ واٹرشیڈ مینجمنٹ پروگرام (آئی ڈبلیو ایم پی) شامل ہیں۔سیکرٹری نے ’وِکست بھارت ۔گارنٹی فار روزگار اینڈ اجیو یکامشن( گرامین(وِی بی ۔ جی آر اے ایم ۔ جی)‘ کا جائزہ لیتے ہوئے روزگار کی فراہمی، ترقیاتی کاموں کی عمل آوری اور پروگرام کے تحت مالیاتی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اس پروگرام کے تحت 3.21 لاکھ اَفراد نے روزگار حاصل کیا جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 59.19 لاکھ اَفرادی ایام کار پیدا ہوئے۔اُنہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، اجرتوں اور تعمیراتی مواد کی اَدائیگیوں کی بروقت کارروائی، ترقیاتی کاموں کی مؤثر نگرانی اور ضلعی و بلاک سطح کے اہلکاروں کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا تاکہ تمام کام مقررہ وقت کے اندر مکمل ہوں اور فنڈز کا مؤثر اِستعمال یقینی بنایا جا سکے۔ سیکرٹری نے کہا کہ اگرچہ منصوبہ بندی کا عمل ڈیجیٹل ہے، تاہم حتمی شکل دیتے وقت اکثر غلطیاں اور تضادات سامنے آتے ہیں۔ اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ ٹائم لائنز پرعمل کریں، اِندراجات کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ گرام پنچایت سطح کے کارکنان جائز کاموں کی فہرست سے پوری طرح واقف ہوں۔اُنہوں نے پی ایم اے وائی ۔ جی کا جائزہ لیتے ہوئے ایس اِی سی سی اور آواس پلس زمروں کے تحت دیہی مکانات کی تعمیر میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق منظور شدہ 3,34,586 مکانات میں سے 3,27,210 مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جس سے مجموعی تکمیل کی شرح تقریباً 98 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔رمیش کمار نے ایس بی ایم ۔ جی کے دوسرے مرحلے کا جائزہ لیتے ہوئے جموں و کشمیر میں طویل المدتی کے نتائج کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل طرز عمل میں تبدیلی کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ توجہ صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ عوام میں صفائی، حفظانِ صحت اور صاف ستھرے ماحول کے تئیں مستقل احساسِ ذمہ داری اورملکیت کے دیرپااحساس کو فروغ دینا چاہیے۔اُنہوں نے این آر ایل ایم کے تحت جموں و کشمیر رورل لائیولی ہڈز مشن کا جائزہ لیتے ہوئے خواتین کیسیلف ہیلپ گروپس ( ایس ایچ جی)،ادارہ جاتی ڈھانچے کی مضبوطی، مالیاتی شمولیت، زرعی و غیر زرعی ذرائع معاش اور لکھ پتی دیدی پروگرام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا۔جائزہ میٹنگ میں کمیونٹی کے زیر انتظام تربیتی مراکز، صلاحیت سازی کی سرگرمیوں اور دیہی گھرانوں کے لئے ذریعہ معاش اور کاروباری مواقع کووسعت دینے کی غرض سے رورل لائیو لی ہڈز مشن کو مشن یووا کے ساتھ مربوط کرنے کے اقدامات پر بھی غور وخوض کیا گیا۔سیکرٹری نے کمیونٹی اداروں کو مضبوط بنانے، تربیت کے معیار کو بہتر کرنے اور ذریعہ معاش سے متعلق اقدامات کے ذریعے آمدنی کے دیرپامواقع پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے عمل آوری ایجنسیوں کے درمیان مؤثر تال میل، پروگراموں کے نتائج کی باقاعدہ نگرانی اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کی ہدایت دی تاکہ دستیاب وسائل مستفیدین تک پہنچ سکیں اور ذریعہ معاش کے مقررہ اہداف حاصل کئے جا سکیں۔اُنہوں نے دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیا یوجنا (ڈِی ڈِی یو۔ جی کے وائی) کے تحت ’حمایت‘ پروگرام کا جائزہ لیتے ہوئے بے روزگار نوجوانوں کے لئے ہنرمندی کی ترقی اور روزگار سے منسلک تربیت کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔سال 2025-28 کے ایکشن پلان کے تحت وزارتِ دیہی ترقی نے 32,480 اُمیدواروں کی تربیت کا ہدف منظور کیا ہے۔میش کمار نے’ پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا ‘کے ’واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ‘ جزو کے تحت’ اِنٹگریٹیڈ واٹرشیڈ مینجمنٹ پروگرام‘ کا جائزہ لیتے ہوئے آبی تحفظ، زمین کی صحت میں بہتری،دیرپا زراعت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا۔انہیں جانکاری دی گئی کہ مجموعی طور پر 194.58 کروڑ روپے کی لاگت سے 19 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے جو 69,493 ہیکٹر رقبے پر محیط ہیں۔ مرکز کی جانب سے جاری کردہ 155.47 کروڑ روپے کے مقابلے میں اب تک مجموعی اخراجات 137.65 کروڑ روپے رہے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے لئے 32.47 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے 16.07 کروڑ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔اُنہوں نے متعلقہ افسران کو زیرِ اِلتوأ کاموں میں تیزی لانے اور مجموعی عمل درآمد کی رفتار بہتر بنانے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے کہاکہ بعض علاقوں میں پیش رفت توقعات سے کم ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ہر آفیسر اپنے سپرد کردہ اہداف کے حصول کے لئے ذاتی طور پر ذمہ داری قبول کرے۔اُنہوں نے نگرانی اور تال میل کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ متعلقہ اَفسران اور ٹیموں کے ساتھ ماہانہ اور سہ ماہی جائزہ میٹنگیں باقاعدگی سے منعقد کئے جائیں گے۔سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ فیلڈ کی سطح پر کارکردگی کا جائزہ صرف رپورٹس اور پورٹل پر درج اندراجات پر انحصار کرنے کے بجائے حقیقی حقائق کی تصدیق کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔ اُنہوں نے ضلعی اور بلاک سطح کے افسران کو باقاعدگی سے فیلڈ دورے کرنے، ترقیاتی کاموں کی پیش رفت پر نظر رکھنے اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ محکمہ کے پورٹلز پر اَپ لوڈ کی گئی معلومات زمینی صورتحال کی درست عکاسی کرتی ہے ۔ اُنہوں نے ترقیاتی کاموں کے معیار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ مناسب تصدیق کے بغیر پیش رفت کی رپورٹ پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔سیکرٹری دیہی ترقیات محکمہ و پنچایتی راج رمیش کمار نے جوابدہی کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ تاخیر، ناقص کارکردگی اور مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کے لئے ہر سطح پر ذمہ داری طے کی جائے گی۔ ضلعی اور بلاک سطح کے کارکنوں کی کارکردگی کا جائزہ ان کی ذِمہ داریوں اور زمینی سطح پر حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر لیا جائے گا۔