دُور دراز علاقوں میں صحت سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے نئی تقرریاں اور عملے کی معقول تنظیم نو ۔ سکینہ ایتو

دُور دراز علاقوں میں صحت سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے نئی تقرریاں اور عملے کی معقول تنظیم نو ۔ سکینہ ایتو

وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ حکومت بھرتی، معقول تنظیمِ نو اور طبی و پیرا میڈیکل عملے میں اضافے کے ذریعے کرناہ سمیت دور دراز اور مشکل ترین علاقوں میں صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کیلئے مسلسل اقدامات کر رہی ہے ۔ وقفہ سوالات کے دوران اپنے حلقے میں عملے کی تعیناتی اور صحت کی سہولیات میں اضافے کے بارے میں ایم ایل اے جاوید احمد مرچل کے سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ 480 میڈیکل آفیسر ( ایلوپیتھک ) کی اسامیاں جے کے پی ایس سی کو بھیجی گئی تھیں جن میں سے 416 اُمیدواروں کو recommend کیا گیا ہے اور اب تک 335 کو تقرر کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئے مقرر کئے گئے ڈاکٹروں کو مناسب طور پر تعینات کیا جائے گا جس میں محیطی ، پسماندہ ، دور دراز اور مشکل ترین علاقوں کے صحت کے اداروں کو ترجیح دی جائے گی جن میں اے ایل سی علاقے بھی شامل ہیں ۔ وزیر نے ایوان کو مزید مطلع کیا کہ کرناہ حلقہ انتخاب میں اس وقت 73 این ایچ ایم اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز ، کشمیر کے تحت 466 غیر گزٹیڈ عہدوں کو بھی انتخاب کیلئے بھرتی ایجنسی کے پاس بھیج دیا گیا ہے جس کا مقصد صحت کے اداروں میں افرادی قوت کو مزید مضبوط بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ سی چتر کوٹ میں آیوش ڈاکٹرز تعینات ہیں جبکہ پی ایچ سی چتر کوٹ ، پی ایچ سی تیتروال ، پی ایچ سی پانزگام اور پی ایچ سی نچیان میں پیرا میڈیکل عملہ موجود ہے ۔ جہاں اس وقت باقاعدہ ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہیں وہاں صحت کی خدمات کو تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے ضروری انتظامات کئے جا رہے ہیں ۔ ایم ایل اے نے سوال پر ایک ضمنی سوال اٹھایا ۔