کپواڑہ میں 29بستیوں اور 1,936 گھرانوں تک بجلی پہنچانے کا کام جاری۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ

کپواڑہ میں 29بستیوں اور 1,936 گھرانوں تک بجلی پہنچانے کا کام جاری۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ

کہا، آر ڈِی ایس ایس کے تحت کام منظورکئے گئے ہیں، 14.74 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں اور اکتوبر 2027ء تک تکمیل کا ہدف مقررکیا گیا ہے

جموں//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ جن کے پاس محکمہ بجلی کا قلمدان بھی ہے، نے آج قانون ساز اسمبلی کومطلع کیا کہ ضلع کپواڑہ میں 29بستیوں اور 1,936 گھرانوں کو بجلی فراہم کرنے کا کام ری ویمپڈ ڈِسٹری بیوشن سیکٹر سکیم (آر ڈِی ایس ایس ) کے تحت جاری ہیں۔وزیراعلیٰ نے وقفہ سوالات کے دوران رُکن اسمبلی میر محمد فیاض کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ضلع کپواڑہ کے 10 بلاکوں میں 14.74 کروڑ روپے کی لاگت والے کاموں کے لئے’ لیٹرز آف ایوارڈ (ایل او ایز) ‘پہلے ہی جاری کئے جا چکے ہیں۔اِن کاموں کا دائرہ کارموری، منیگاہ،کُمکڈی، ٹنگڈار، ریڈے چوکی بل، واو وورا، مژھل، کیرن، ہایہامہ، کاروس، ٹیٹوال، سوگام اور قادری آباد میں بجلی سے محروم نشاندہی شدہ بستیوں تک محیط ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ تمام نشاندہی شدہ تمام بستیوں کے لئے سروے، ڈرائنگز اور بلز آف کوانٹٹیز (بی او کیو ایس) کا عمل مکمل ہوچکا ہے جبکہ مطلوبہ سامان کی خریداری کا عمل جاری ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے ایوان کو مزید آگاہ کیا کہ پانچ بلاکوں میں پھیلی ہوئی 10بستیوںمیں کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اَب تک تقریباً 86 لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ باقی تمام غیر بجلی شدہ گھرانوں کو بجلی فراہم کرنے کے لئے ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے جو آر ڈِی ایس ایس کے تحت منظور شدہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈِی پی آر) کے کاموں کو ترجیح دی گئی ہے اور ان کی عمل آوری کی نگرانی کی جا رہی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ان کاموں کی تکمیل کی مدت اکتوبر 2027 تک ہے۔‘‘وزیراعلیٰ نے فنڈز کی دستیابی اور اِستعمال سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کاموں کے لئے منظور شدہ کوئی بھی رقم لیپس نہیں ہوئی۔ موجودہ مالی برس کے دوران کپواڑہ ضلع کے لئے 3.68 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔اُنہوںنے کہا کہ کشمیر پاور ڈِسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈِی سی ایل) بجلی کی فراہمی کے کاموں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے اور بجلی کی قابلِ اعتماد اور معیاری فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔