باجراصدیوں سے زرعی منظر نامے کا لازم ملزوم حصہ رہاہے،لیفٹیننٹ گورنر نے ان کی کاشت میں جدت لانے پر زور دیا
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ( ایس کے یو اے ایس ٹی) جموں میں ’’صحت کے لئے باجرے سے متعلق گفت شنید: صحت مند ماحولیاتی نظام، موسمیاتی لچکدار زراعت اوردیرپا غذائی نظام‘‘ کا اِفتتاح کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے پدم شری ڈاکٹر خاداروالی جو عوام میں’’ مِلٹ مین آف اِنڈیا‘‘ کے نام سے مشہور ہیں اور کھیتی وراثت مشن کے اومیندر دَت کا شکریہ اَدا کرتے ہوئے یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر میں مِلٹس مشن کے ذریعے نئی بیداری پیدا کرنے کی ان کی کوششوں کی سراہنا کی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ موقع صرف ایک سمینار نہیں بلکہ ایک انقلاب کا جشن تھا جو ہندوستان کے دیہاتوں میں جڑ پکڑ چکا ہے۔اُنہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا قائدانہ اور پیش قدم کردار تاریخ میں یاد رکھا جائے گا جنہوں نے 2018 میں باجرے کو ’’غذائیت سے بھرپور اناج ‘‘قرار دیا اور اسے ’’شری انا‘‘ کا نام دیا۔ وزیر اعظم کی ان کاوشوں کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے 2023 کو’’جوار کا بین الاقوامی ‘‘قرار دیاجس سے ہندوستان کی روایتی دانشمندی کو عالمی سطح پر پہچان ملی۔لیفٹیننٹ گورنر نے باجرے کے ورثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جوار، موتی باجرا، فنگرملیٹس ، کوڈوملیٹس، فاکس ٹیل اور بارن یارڈملیٹ نے نسل در نسل کسانوں اورکنبوں کی پرورش کی ہے۔ ایک بار ’’غریبوں کی خوراک‘‘کے طور پر نظرانداز کئے جانے والے باجرا اَب روایت اور جدید سائنس کے سنگم پر اَپنا مقام دوبارہ حاصل کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے قدیم حکمت ’’اَنم برہما‘‘کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند غذا صحت مند شہریوں، مضبوط معاشروں اور مستحکم قوموں کی تعمیر کرتی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’آج سائنس اس روایتی حکمت کو نئے تحقیق اور شواہد کے ذریعے سمجھ رہی ہے۔ دُنیا کے وہ ممالک جو ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں، یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ مستقبل کا کھانا صرف وہ نہیں ہوگا جو بڑی مقدار میں پیدا کیا جا سکے۔ اسے غذائیت سے بھرپور، کسانوں کے لئے منافع بخش اور زمین کے لئے دیرپا ہونا ضروری ہوگا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لئے باجرے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے 80 فیصد سے زائد کسان چھوٹے اور پسماندہ ہیں اور غیر یقینی موسم پر انحصار کرتے ہیں۔ کم پانی اور کم وسائل کی ضرورت والے ملیٹس انہیںاعتماد اور دیرپائی فراہم کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ خود انحصاری اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مضبوطی کے لئے جوار کی کاشت کو اَپنائیں۔اُنہوں نے کہا،’’میںمِلٹس مشن کو ہمارے دیہاتوں کے سب سے چھوٹے کسان کے لئے سب سے بڑی اُمید سمجھتا ہوں۔ہم نے جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی) کے تحت تین ، چار سال قبل آنے والی نسلوں کی صحت، کسانوں کی خوشحالی اور اَپنی زمین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ایک حکمت عملی تیار کی تھی۔مجھے یقین ہے کہ باجرے کی کاشت جموں و کشمیر کے پسماندہ کسانوں کو ایک نیا اعتماد دے سکتی ہے اور کاشتکاری سے وابستہ خطرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اِس موقعہ پر میں اَپنے تمام پسماندہ کسانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی زمین کا رقبہ اگرچہ چھوٹا ہو لیکن ایک خود کفیل جموں و کشمیر کی تعمیر میں آپ کا حصہ کبھی چھوٹا نہیں ہو سکتا۔‘‘اُنہوںنے جوار کے صحت سے متعلق فوائد پر بھی زور دیا اور ان میں موجود غذائی ریشے، کم گلائسیمک انڈیکس اور آئرن، کیلشیم، میگنیشیم اور زنک جیسے غذائی اجزأ کا ذکر کیا۔ اُنہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ذیابیطس، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر جیسی طرزِ زِندگی کی بیماریوں سے نمٹنے کے لئے باجرے کی روٹی، راگی کے پکوان اور سانواں چاول جیسی ملیٹ پر مبنی غذاؤں کو اَپنے دسترخوان پر واپس لائیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اِقتصادی محاذ پر کھیت سے منڈی تک جوار کی معیشت بنانے کے وزیر اعظم کے ویژن کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے کہا،’’2024-25 میں ہندوستان نے 18 ملین ٹن جوار کی پیداوار کی اور وہ عالمی پیداوار کا 38 فیصد ہے۔ اس لئے جوار کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ہمیں جموں و کشمیر میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں اورجموںوکشمیر کے نوجوان کاروبای اَفرادکو باجرا پر مبنی کاروبار ، پیکیجنگ اور برانڈنگ کے ساتھ اختراعات کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جیسا کہ’ وَن ڈِسٹرکٹ، وَن پروڈکٹ ‘جیسی پہل کاریاں ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کسانوں، محققین، ڈاکٹروں، کاروباریوں اور شہریوں سمیت تمام شراکت داروںپر زور دیا کہ وہ غذائی نظام کو متنوع، غذائیت بخش،دیرپا اور مضبوط بنائیں۔اُنہوں نے کہا،’’میں ہر گھرانے سے اپیل کرتا ہوں کہ ملیٹ کی مصنوعات کو اپنے دسترخوان پر جگہ دیں، کسانوں کو مضبوط کریں، خواتین کو بااِختیار بنائیں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک صحت مند مستقبل کو یقینی بنائیں۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ آپ سب یہ پیغام دیہاتوں تک پہنچائیں کہ ملیٹس محض ماضی کی وراثت نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے مستقبل کی حکمتِ عملی ہیں۔ آئیے مل کر کام کریں تاکہ ہر گاؤں میں مواقع موجود ہوں۔‘‘اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے کئی اِشاعتیں جاری کیں جن میں ’اے لیبارٹری مینوئل آن سوئیل مائیکروبائیولوجی‘، ’فنڈامنٹلز آف جیوگرافیکل اِنفارمیشن سسٹمز اینڈ ریموٹ سنسنگ‘ اور ’پیکیج آف پریکٹسز فار مائنر مِلٹس‘شامل ہیں۔اِفتتاحی تقریب میں پدم شری ڈاکٹرخادار والی، وائس چانسلرسکاسٹ جموں پروفیسر بی این ترپاٹھی،،ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کھیتی وراثت مشن شری اومیندر دَت،آئی ایف پی آر آئی ڈاکٹر انجنی کمار،ڈائریکٹر ریسرچ سکاسٹ جموں پروفیسر ایس کے گپتا، ماہرین، پالیسی ساز، محققین،سینئر اَفسران، ترقی پسند کسان، زرعی کاروباری اَفراد، سیلف ہیلپ گروپوںکے اراکین، اَساتذہ اور طلبأ نے شرکت کی۔










