manoj sinha

راج ترنگنی یونیسکو کے میموری آف دی ورلڈ رجسٹر میں شامل

قدیم علمی ذخیرے کی حفاظت اور نوجوان نسل کو اس سے روشناس کرانا بھی وقت کی ضرورت / منوج سنہا

سرینگر / این این بی // معروف تاریخی تصنیف ’راج ترنگنی‘ سمیت مہابھارت اور ارتھ شاسترکو یونیسکو کے ’میموری آف دی ورلڈ ایشیا پیسیفک ریجنل رجسٹر‘میں شامل کیاگیا جس پر جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ یہ نہ صرف ہندوستان بلکہ جموں و کشمیر کیلئے بھی باعث فخر ہے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس اہم پیش رفت پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قدیم ہندوستانی علمی اور تہذیبی ورثے کی ان اہم دستاویزات کو عالمی سطح پر ملنے والی یہ پذیرائی ہندوستان کی عظیم فکری اور تہذیبی روایات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔سنہا نے کہا کہ کلہن کی ’راج ترنگنی‘ کی یونیسکو کے رجسٹر میں شمولیت جموں و کشمیر کے بھرپور علمی، تاریخی اور فکری ورثے کا اعتراف ہے۔ راج ترنگنی کو کشمیر کی تاریخ کے ایک اہم اور بنیادی ماخذ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس میں خطے کے حکمرانوں، سیاسی حالات، سماجی زندگی اور مختلف تاریخی ادوار سے متعلق اہم معلومات محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ راج ترنگنی کی عالمی سطح پر شناخت جموں و کشمیر کی قدیم علمی روایت اور اس کی تاریخی اہمیت کو دنیا کے سامنے مزید نمایاں کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اعزاز اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کی سرزمین صدیوں سے علم، ادب، تاریخ اور دانش کے اہم مراکز میں شامل رہی ہے۔لیفٹنٹ گورنر نے مزید کہا کہ مہابھارت اور ارتھ شاستر جیسے قدیم ہندوستانی علمی ورثے کا بھی یونیسکو کے میموری آف دی ورلڈ ایشیا پیسیفک ریجنل رجسٹر میں شامل ہونا ہندوستان کی تہذیبی اور فکری روایت کے لیے ایک اہم عالمی اعتراف ہے۔انہوں نے کہا کہ اس عالمی شناخت سے ہندوستان کی قدیم تہذیبی روایات کی ہمہ گیر اور لازوال اہمیت ایک مرتبہ پھر اجاگر ہوئی ہے۔ یہ تصانیف نہ صرف ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں بلکہ انسانی فکر، علم، حکمرانی، معاشرت اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے بھی قیمتی بصیرت پیش کرتی ہیں۔سنہا نے کہا کہ یونیسکو کی جانب سے حاصل ہونے والی یہ عالمی پذیرائی اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ ہندوستان کی قدیم علمی روایات نے انسانی تہذیب کی تشکیل اور فکری ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ اس انمول علمی اور تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھنا، اس کی ترویج کرنا اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم علمی ذخیرے کی حفاظت کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو اس سے روشناس کرانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے شاندار ماضی اور تہذیبی ورثے سے واقف ہو سکیں۔