جموں و کشمیر میں 30 ہزار چنار درختوں کی جیو ٹیگنگ مکمل ، ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار
سرینگر / / این این بی // چنار کے درختوں کے سائنسی تحفظ، ان کی مسلسل نگرانی اور ان سے متعلق مستند معلومات کو ڈیجیٹل ریکارڈ میں محفوظ کرنے کے مقصد سے جموں و کشمیر میں 30 ہزار چنار درختوں کی جیو ٹیگنگ ہوئی جبکہ ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق جموں و کشمیر حکومت نے ماحولیاتی ورثے اور تاریخی اہمیت کے حامل چنار کے تقریباً 30 ہزار درختوں کی جیو ٹیگنگ مکمل کرکے ان کے تحفظ، نگرانی اور انتظام کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کیا ہے۔حکام کے مطابق یہ اہم اقدام چنار کے درختوں کے سائنسی تحفظ، ان کی مسلسل نگرانی اور ان سے متعلق مستند معلومات کو ڈیجیٹل ریکارڈ میں محفوظ کرنے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بارے میں تفصیلات وزیر جنگلات، ماحولیات و ماحولیاتِی امور الطاف احمد وانی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سامنے آئیں۔ اجلاس میں حکام نے بتایا کہ کشمیر میں موجود 10ہزار نمایاں چنار درختوں پر کیو آر کوڈ سے مزین دھاتی پلیٹیں نصب کی جاچکی ہیں۔ اسی طرح جموں خطے میں 3500پیپل اور برگد کے درختوں کو بھی کیو آر کوڈ والی دھاتی پلیٹوں کے ذریعے ڈیجیٹل شناخت فراہم کی گئی ہے۔حکام کے مطابق باقی ماندہ چنار، برگد اور پیپل کے درختوں کی جیو ٹیگنگ کا عمل دوسرے مرحلے میں مکمل کیا جائے گا۔جیو ٹیگنگ اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی مدد سے درختوں کے مقام، شناخت اور دیگر متعلقہ معلومات کو منظم انداز میں محفوظ کیا جاسکے گا، جس سے مستقبل میں ان کی نگرانی اور تحفظ کے اقدامات کو مزید مو ¿ثر بنانے میں مدد ملے گی۔ادھر وزیر جنگلات الطاف احمد وانی نے جنگلات اور قدرتی وسائل کے تحفظ میں سائنسی تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سائنس تحفظ کی کوششوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیق صرف فائلوں اور لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے نتائج عملی طور پر جنگلات، کسانوں اور عام لوگوں تک پہنچنے چاہئیں۔وزیر نے کہا کہ جنگلاتی تحقیق کا اصل مقصد صرف علمی مواد تیار کرنا نہیں بلکہ اس کے فوائد کو زمینی سطح تک پہنچانا بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے محکمہ جنگلات اور تحقیقی اداروں پر زور دیا کہ کسانوں اور مقامی آبادی کو تحقیق کے نتائج سے جوڑا جائے تاکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں۔حکومت کی جانب سے چنار سمیت اہم درختوں کی جیو ٹیگنگ، ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کی تیاری، ادویاتی پودوں کی نقشہ بندی اور جنگلاتی بیجوں کے تحفظ کے اقدامات کو جموں و کشمیر کے قدرتی اور نباتاتی ورثے کے سائنسی تحفظ کی جانب اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔










