amit shah

ملک کی طویل ساحلی پٹی کی سلامتی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل

مغربی خطے نئے فوجداری قوانین پر مؤثر عمل درآمد کامیاب بنانے میں قائدانہ کردار ادا کرے/ امیت شاہ

سرینگر / این این بی // ملک کی طویل ساحلی پٹی کی سلامتی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ حکومت آئندہ دو برسوں کے دوران ملک کی ساحلی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ’’انتہائی سنجیدگی‘‘ کے ساتھ اقدامات کرے گی۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ دو برسوں کے دوران ملک کی ساحلی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ’’انتہائی سنجیدگی‘‘ کے ساتھ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طویل ساحلی پٹی کی سلامتی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔گوا کے دارالحکومت پنجی میں مغربی زونل کونسل کے 28ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ وزارت داخلہ آئندہ دو برسوں میں ساحلی سلامتی کے معاملے پر انتہائی سنجیدگی سے آگے بڑھے گی۔انہوں نے مغربی خطے سے اپیل کی کہ وہ ملک میں نافذ کیے گئے نئے فوجداری قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور منشیات کے خلاف جاری جنگ کو کامیاب بنانے میں بھی قائدانہ کردار ادا کرے۔ملک میں تین نئے فوجداری قوانین، بھارتیہ نیائے سنہتا، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا اور بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم، یکم جولائی 2024 سے نافذ العمل ہیں۔ ان قوانین نے بالترتیب انڈین پینل کوڈ، ضابط فوجداری اور انڈین ایویڈنس ایکٹ کی جگہ لی ہے۔ساحلی سلامتی پر حکومت کی توجہ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امت شاہ نے ایک روز قبل گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ریاست کی امن و امان اور سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔ اس اجلاس میں ساحلی سلامتی کے علاوہ نئے فوجداری قوانین کے نفاذ، منشیات، مفرور ملزمان، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور پولیس کی جدید کاری جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر داخلہ نے 2014 کے بعد زونل کونسلوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2004 سے 2014 کے درمیان زونل کونسلوں اور ان کی قائمہ کمیٹیوں کے صرف 25 اجلاس ہوئے، جبکہ 2014 کے بعد اب تک 71 اجلاس منعقد ہوچکے ہیں، جو تقریباً تین گنا اضافہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان اجلاسوں میں مجموعی طور پر 1,893 معاملات زیر بحث آئے، جن میں سے 1,445 معاملات کو حل کیا جاچکا ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ مغربی خطے کی ریاستوں کے درمیان اب کوئی تنازع باقی نہیں رہا، جسے انہوں نے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ زونل کونسلیں اب محض بین ریاستی تنازعات کے حل کا فورم نہیں رہیں بلکہ عوامی فلاحی اسکیموں پر عمل درآمد کی نگرانی کا مؤثر ذریعہ بھی بن چکی ہیں۔