9اگست تاریخ کشمیر کا سیاہ ترین دن

جب جموں و کشمیر کو خودمختاری سے محروم کرنے کی ابتداء ہوئی: نیشنل کانفرنس

سرینگر//جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ جب بھی کوئی کشمیری اپنے وطن کی تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہوئے 9؍اگست 1953ء کے خونین اور جمہور کش اقدام کے واقعات پڑھ لیتا ہے، تو اُس کو اپنے وطن عزیز کی آج کی تباہی و بربادی کی تمام تر جڑیں اِسی دن کی قیادت خیزی میں پیوست نظرآتی ہیں۔ سی این آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر ، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال ، سینئر لیڈران ایڈوکیٹ عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، شریف الدین شارق، میاں الطاف احمد، پیرزادہ احمد شاہ، قمر علی آخان، رتن لعل گپتا، چودھری محمد رمضان، اجے سدھوترا، محمد اکبر لون ، خالد نجیب سہروردی اور حسنین مسعودی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ 9؍اگست 1953تک ہماری ریاست تین معاملات کو چھوڑ کر ہر لحاظ میں آزاد اور خودمختار تھی، لیکن ایک گہری سازش کے تحت اس دن رات کی تاریکی میں شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کو دیگر سینکڑوں حامیوں کے ہمراہ جمہوری اور دستوری قدروں کی بیخ کنی کرتے ہوئے فوجی نرغے میں لیا گیا اور انہیں کشمیر کی وادیوں سے دور تپتے ریگستانوں میں ایسر زندان بنایا گیا۔ فقط ایک دن میں 3100بے گناہ شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی روز بخشی غلام محمد کو جموں وکشمیر کا کٹھ پتلی وزیر اعظم بنایا گیا اور اُن کے اقتدار کو تحفظ دینے کی غرض سے دہلی اور دیگر ملحقہ ریاستوں سے پہلی مرتبہ پولیس اور فوج منگوا کر جموں وکشمیر کے طول و عرض میں تعینات کردی گئی۔ تب سے اب تک ریاست پر فورسز کا غلبہ مستحکم کرنے اور جمہوری اقتدار کی وقعت گٹھانے کے کئی اقدام ہوتے رہے ہیں۔ لیکن 9؍اگست کو یہ جمہور کش اقدامات مستحکم بنانے کے لئے ایک دروازہ کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ریاست بھر کے تمام شہروں اور قصبوں میں بھی خون کی ہولی کھیلی گئی۔ پٹن اور راجپورہ جیسے علاقوں میں مشین گنوں کے دھانے کھول کر معصوم کشمیریوں کے سینے گولیوں سے چھلنے کئے گئے۔خون میں لت پت لاشوں کو کھیتوں اور تالابوں میں پھینکا گیا۔ راجپورہ پلوامہ کے ایک تالاب میں ایک عمر رسیدہ بیوہ کی 3بیٹوں کی لاشیں 3دن تک پڑی رہیں۔ اور ریاست دشمن کشمیری عوام کو زیر کرنے کیلئے سازشوں کے جال بچھائے جاتے رہے۔ لیڈران نے کہا کہ 9؍اگست1953کو جمہور کش اقدامات کے لئے دروازہ کھول کر جمہوریت کے دعویداروں نے ریاست کی خودمختاری کا قلع قمع کرنے کے لئے وزیر اعظم اور صدرِ ریاست کے عہدوں کا تنزل کیا۔ ریاست کی اپنی جوڈیشری کا خاتمہ کردیا۔ ریاست کو مرکزی قوانین کے دائرے میں لایا گیا۔انہوں نے کہا کہ شیر کشمیر کی بحیثیت وزیر اعظم گرفتاری نے کشمیریوں کے دلوں پر ایک زخم دیا جو وہ کبھی بھول نہیں پائیں گے۔ اسی روز ریاست جموںوکشمیر کے عوام کا دلی والوں پر سے بھروسہ اٹھ گیا اور جو کچھ تھوڑا بہت اعتماد بچا تھا وہ بھی 5اگست2019 کو خاک میں مل گیا۔ انہوں نے کہا کہ 1975میں نیشنل کانفرنس نے ریاست کا نظام سنبھالا اور جموں و کشمیر کی بچی کچی خصوصیات، جن میں دفعہ370،35اے ( سٹیٹ سبجیکٹ) جیسے قوانین شامل تھے، کو تحفظ بخشنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن 2015میں نیشنل کانفرنس کی مخلوط حکومت کے بعد قائم ہوئے حکومتی اتحاد اور بھاجپا کے حکومت میں آنے سے یہاں کی خصوصی پوزیشن خطرے میں پڑگئی ، جس کی پیشگوائی نیشنل کانفرنس کی لیڈران نے الیکشن کے دوران ہی کی تھی اور بالآخر ہمارے خدشات سچ ثابت ہوئے اور 9اگست2019کے سیاہ دن یہاں کی خصوصی پوزیشن پر غیر جمہوری اور غیر آئینی طور پر ڈاکہ زنی کی۔پارٹی لیڈران نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہر ایک کشمیری اپنے آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر جموںوکشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی کیلئے آگے آئیں اور متحدہ ہوکر جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 9اگست 2019کو چھینے گئے حقوق کی بحالی کیساتھ ساتھ ریاست جموں وکشمیر میں1953سے قبل کی پوزیشن کی بحالی کے عزم کو دہراتی ہے اور یہاں کے عوام کی یہ آبائی جماعت اس خطہ ارض کی اندرونی خودمختاری کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھے گی۔