کہا، ہماری ثقافت میں اعضا کا عطیہ سب سے اعلیٰ اور مقدس ترین عمل میں شمار کیا جاتا ہے
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نےاعضاء عطیہ کرنے والوں اور اُن کے اہل خانہ کو اعزاز دینے کے لئے ایک تقریب ’ نمن دیوس‘ میں شرکت کی۔ لیفٹیننٹ گورنر نے عطیہ دہندگان اور ان کے اہلِ خانہ کا شکریہ اَدا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان گنت زندگیوں میں خوشی لائے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’آپ کی وجہ سے آج کوئی پڑھنے کے قابل ہے۔ آپ کی وجہ سے کوئی پہلی بار دُنیا کے رنگ دیکھ رہا ہے۔ آپ کی وجہ سے کوئی امید، آزادی اور خوشی کو دوبارہ محسوس کر رہا ہے۔ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت یا کسی بھی ادارے کا کوئی انعام آپ کے اس عظیم تحفے کی حقیقی قدر کو بیان نہیں کرسکتا ۔‘‘ لیفٹیننٹ گورنر نے قرنیہ عطیہ کرنے والوں کے اہلِ خانہ اور گردہ عطیہ کرنے والوں کے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اعزازاعضا ٔکے عطیے کی اَصل قدر کو ظاہر نہیں کر سکتا اور قرنیہ و گردہ عطیہ کرنے والے ہمارے معاشرے کے حقیقی رول ماڈل اور ہیرو ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’زِندگی میں ہم اکثر پوچھتے ہیں کہ اِنسانیت کا سب سے بڑا تحفہ کیا ہے؟ صدیوں سے فلسفیوں، شاعروں اور مفکرین اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زِندگی کی اصل قدر اس میں نہیں کہ ہم کیا جمع کرتے ہیں بلکہ اس میں ہے کہ ہم کیا دیتے ہیں۔ آج ہم جن اَفراد کی عزت کرتے ہیں انہوں نے سب سے قیمتی تحفہ دیا ہے،اعضا کا تحفہ ،وہ تحفہ جو زِندگی کو برقرار رکھتا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ ہماری ثقافت میں اعضا کا عطیہ سب سے اعلیٰ اور مقدس ترین عمل سمجھا جاتا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’میں ہر شہری سے اپیل کرتا ہوں کہ آج ہی اعضا کے عطیے کا عہد کریں۔ معاشرے کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم میں سے ہر ایک ممکنہ ڈونرہے۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس یہ غیر معمولی طاقت ہے کہ ہم اپنی وفات کے بعد بھی زندگیوں کو بچا سکتے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے سٹیٹ آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن جموں و کشمیر (جے اینڈ کے ایس او ٹی ٹی او) کے کام کی ستائش کی اور کہا کہ ٹیم نے عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لئے خلوص اور لگن سے کام کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سٹیٹ آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن جموں و کشمیر (جے اینڈ کے ایس او ٹی ٹی او) نے اپنی مہمات، ہسپتالوں کے ساتھ شراکت داری، این جی اوز کے ساتھ اِشتراک اور طبی پیشہ وراَفراد کی تربیت کے ذریعے برین ڈیڈ ڈونرز کے معاملات کو حساس انداز میں سنبھالنے کا عمل ایک اِنسانی ہمدردی کی تحریک میں بدل دیا ہے۔ اُنہوں نے ٹیم سے کہا کہ وہ مکالمے اور بیداری کے ذریعے رجسٹریشن اور عہد کی تعداد میں اِضافہ کریں۔اُنہوںنے سٹیٹ آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن جموں و کشمیر (جے اینڈ کے ایس او ٹی ٹی او) کے نمائندوں سے یہ بھی کہا کہ وہ اعضا کے عطیے کا پیغام ہر سماجی پلیٹ فارم، ہر کمیونٹی میٹنگ، ہر سکول اور کالج، ہر عبادت گاہ اور ہر کام کی جگہ تک پہنچائیں۔ اُنہوں نے کہا،’’جو لوگ ثقافتی یا مذہبی خدشات کی وجہ سے ہچکچاتے ہیں، میں انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری روایات زندگی کے تقدس اور بے لوث خدمت کی قدر کو تسلیم کرتی ہیں۔ کسی بھی روحانی رہنما، کنبے کے افراد یا کمیونٹی کے بزرگوں سے بات کریں، آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ زندگی کا تحفہ نہ صرف تمام مذاہب میں قابلِ احترام ہے بلکہ اسے ایک نعمت سمجھا جاتا ہے۔تاریخ کے ہر دور میں، اعضا کا عطیہ انسانی ہمدردی کے سب سے عظیم اظہار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ایک شخص جس کا دنیاوی سفر ختم ہو چکا ہو، وہ بھی نئی زندگی دے سکتا ہے۔ قرنیہ کے عطیے کے ذریعے وہی شخص بینائی، وقار اور کسی بچے کی مسکراہٹ یا طلوعِ آفتاب دیکھنے کی سادہ خوشی واپس لا سکتا ہے۔‘‘










