آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو قانونی ثابت کرنا امریکہ کیلئے مشکل

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو قانونی ثابت کرنا امریکہ کیلئے مشکل

واشنگٹن/یو این آئی// جنوبی کوریا آرکٹک شپنگ ایسوسی ایشن کے سکریٹری جنرل سوبوم چوئی نے ’’ریا نووستی‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کے لیے آبنائے ہرمز پر بحری ناکہ بندی کی قانونی حیثیت ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا۔چوئی نے کہا کہ بحری ناکہ بندی سے متعلق روایتی قوانین کے تحت کلیدی تقاضوں میں پیشگی اطلاع، تاثیر، غیر جانبدارانہ نفاذ اور انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کا خیال رکھنا شامل ہے ۔ چنانچہ ایرانی بندرگاہوں کی یکطرفہ ناکہ بندی کا قانونی دفاع انتہائی مشکوک ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بحری ناکہ بندیوں کو عام طور پر بحری فوجی تصادم کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی پابندیوں کے مطابق نافذ کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے یہ اقدام سنگین قانونی تنازعہ کا شکار ہو سکتا ہے۔ واضح رہیکہ 13اپریل کو امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی تمام بحری ٹریفک کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔