معروف اِداروں کو نئے پرائیویٹ یونیورسٹی ایکٹ کے تحت سرمایہ کاری کی دعوت، شفاف اور سرمایہ کار دوست ماحول کی یقین دہانی کی
بنگلورو// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بنگلورو میں تعلیمی شعبے کے نمائندوں کے ایک وفد سے ملاقات کی اور حال ہی میں نوٹیفائی کئے گئے جموں و کشمیر پرائیویٹ یونیورسٹی ایکٹ کے تحت دستیاب مواقع کو اُجاگر کیا۔اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، رُکن اسمبلی زڈی بل تنویر صادق، سینئر اَفسران اور متعدد تعلیمی نمائندے بھی موجود تھے۔دورانِ ملاقات وزیر اعلیٰ نے اِداروں کو اعلیٰ تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور جموں و کشمیر کو ایک متحرک تعلیمی مرکز بنانے میں شراکت داری کی اپیل کی۔جموں و کشمیر پرائیویٹ یونیورسٹیز بِل 2026 کو جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی نے حالیہ بجٹ سیشن کے دوران منظور کیا تھا۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اس قانون کو جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کی تاریخ میں ایک سنگ میل قر ار دے کر وسیع پیمانے پر سراہا ۔ اِس کے بعد اِس بِل کو لیفٹیننٹ گورنر سے منظوری مل گئی ہے اور یہ ایک ایکٹ بن گیاہے۔وزیراعلیٰ نے نئے فریم ورک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ معروف اِداروں کے لئے جموں و کشمیر میں کیمپس قائم کرنے کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے جس سے ایک جدید، جامع اور عالمی معیار کا اعلیٰ تعلیمی نظام فروغ پائے گا۔اُنہوں نے تعلیمی شعبے میں معیاری سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سرکردہ اِداروں کو خطے کے تعلیمی مستقبل کی تشکیل میں شراکت دار بننے کی دعوت دی۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اِنتظامیہ ایک شفاف، سازگار اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے جس کا مقصد ملک اور باہر سے طلبأ، سکالروں اور تحقیقی تعاون کو متوجہ کرنا ہے۔










