کہا، منشیات کے ناسور کے خلاف متحد ہو کر لڑنا ہوگا ، یہ بیداری ، جدوجہد او رکامیابی کا وقت ہے
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے پیر کے روز کہا ،’’ منشیات کے خلاف جنگ میں اتحاد ہمارا ڈھال اور عزم ہمارا ہتھیارہوگا۔ آئیے ہم ایک ایسے جموںوکشمیر کی تشکیل کا عہد کریں جہاں نوجوان آزادانہ اپنی تقدیر سنواریں، کنبے محفوظ اور متحد رہیں، معاشرے مضبوطی سے پھلیں پھولیں اور اُمنگیں نئے سرے سے روشن ہوں۔ ہم اَپنے نوجوانوں اور اَپنے مستقبل کے لئے اٹل کھڑے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ منشیات کے ناسور کے خلاف جنگ تمام تر اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد کا تقاضا کرتی ہے۔ جموںوکشمیر کے شہری ہونے کے ناطے ہمیں اَپنے نوجوانوں کی حفاظت، کنبوںکی مضبوطی اور خوشحالی کو محفوظ بنانے کے لئے اَپنے مشترکہ فرض کے پابند ہونے کا عہد کرنا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اودھمپور میں ’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان ‘کے تحت منعقدہ پدیاترا میں ہزاروں شہریوں کے ساتھ شرکت کی ۔اُنہوں نے اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’نشہ مُکت جموںوکشمیر ابھیان‘ منشیات کے خلاف ہماری مشترکہ جنگ ہے اور ہمیں مل کر اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی۔اُنہوں نے کہا ،’’جموں کشمیر اَب منشیات کا ناسور کو مسترد کرنے کے لئے نئی قوت کے ساتھ اُبھررہا ہے جو ہمارے معاشرے کو خراب اور کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم اَپنے نوجوانوں کو اس کی گرفت سے بچانے کا عہد کرتے ہیں۔ میں لوگوں کو یقین دِلاتا ہوں کہ ہماری سرزمین کی روح کو دبایا نہیں جائے گا۔ یہ معاشرے کو بیدار کرنے، منشیات کے ناسور کے خلاف متحد ہو کر لڑنے اور جدوجہد او رکامیابی کا وقت ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کوئی ایک اتھارٹی تنہا اس منشیا ت کے ناسورکے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتی بلکہ اس کا جذبہ ہر دِل میں بیدار ہونا چاہیے۔اُنہوں نے کہا،’’اودھمپور کے ہر گاؤں، بستی اور شہر کو مزاحمت کا قلعہ بننا چاہیے اور ہر گھر کو چوکس مورچے کے طور پر کھڑا ہونا چاہیے۔ میں ہر شہری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اِس مقصد کے لئے ایک سپاہی بن کر آگے آئے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو ’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کے جذبے کو اَپنانا چاہیے تاکہ تاریخ یہ درج کرے کہ 27 ؍اپریل کو اودھمپور میں اُمید، اِتحاد اور عزم کی شمع روشن ہوئی۔اُنہوں نے کہا،’’ہر کنبے کو اُٹھ کھڑا ہونا ہوگا تاکہ تاریخ اودھمپور کے متحد موقف، مشترکہ جدوجہد اور اِجتماعی کامیابی کو یاد رکھے اور ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھی جائے جو منشیات سے پاک ہو اور قوم کی تعمیر کے لئے وقف ہو۔آنے والے 83 دِنوں میں ہمیں معاشرے کی سوچ بدلنی ہوگی اور نشے میں پھنسے ہوئے اَفراد کو مجرم نہیں بلکہ ایسے مریض سمجھیں جو ہمدردی کے مستحق ہیں نہ کہ ملامت کے۔ بحالی کے لئے ان کا وقار بحال کرنا چاہیے اورانہیں دوبارہ معاشرے میں شامل کرنا چاہیے۔ اِجتماعی توانائی کو’ نشہ مکت جموں و کشمیر ‘مہم کی کامیابی کے لئے بروئے کار لایا جائے۔ بیداری کو جوابدہی میں تبدیل کریں، عوامی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے اس لڑائی کی قیادت میں خواتین اور نوجوانوں کے اہم کردار کو اُجاگر کریں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کے خلاف یہ جنگ مرحلہ وار شروع ہوگی، ہر ایک ہمت اور لگن کا تقاضا کرتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بیداری مہم کے ذریعے کنبوںکو منشیات کی لت کی علامات اور منشیات کے خطرات سے روشناس کرنا چاہیے اور انہیں باور کرناچاہیے کہ یہ خطرہ کہیںدور نہیں بلکہ ہمارے درمیان موجود ہے۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات مخالف بائیک ریلی کوہری جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا اور’ نشہ مکت جموں و کشمیر ‘مہم کے تحت منی اولمپکس کا آغاز کیا۔ اُنہوں نے نشے سے صحتیاب اَفراد میں منظوری نامے بھی تقسیم کئے اور نشہ مکت آئیڈیازچمپئن شپ کے فاتحین کو اعزاز سے نوازا۔










