تل ابیب/ایجنسیز //اسرائیلی فوجیوں کی خودکشی کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہوگیا ہے۔ اپریل میں 8 اہلکاروں نے موت کو گلے لگا لیا۔اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 کے دوران کم از کم 8 اسرائیلی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے خودکشی کی جس سے اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی بحران کے بڑھتے ہوئے خدشات سامنے آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے آغاز سے اب تک کم از کم 10 سروس فوجیوں نے اپنی جان لی ہے جن میں سے 6 صرف اپریل میں رپورٹ ہوئے۔اپریل میں 8 سروس فوجی اور پولیس اہلکار خودکشی سے ہلاک ہوئے جن میں 3 ریزرو اہلکار جو غزہ جنگ میں شریک رہے تھے وہ بھی جان سے گئے جبکہ 2 پولیس افسران کی خودکشی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔اسرائیلی فوجیوں کی خودکشی کا یہ رجحان 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونیوالی غزہ جنگ کے بعد سے مسلسل بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2023 کے آخری مہینوں میں 7 سروس اہلکاروں نے خودکشی کی۔ 2024 میں یہ تعداد 21 رہی، 2025 میں 22 کیسز رپورٹ ہوئے جو گزشتہ 15 برسوں میں سب سے زیادہ تھے۔اسرائیلی فوجیوں کی خودکشیوں میں اضافے کی ممکنہ وجوہات غزہ جنگ کے باعث شدید ذہنی دباؤ، مسلسل طویل فوجی خدمات، بعض اہلکاروں کو ماہر نفسیات سے ملے بغیر فارغ کرنا، کمانڈرز کی جانب سے خدمت جاری رکھنے کا دباؤ بتایا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2023 کے بعد سے شدید پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کے شکار فوجیوں کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 اور 2025 میں خودکشی کرنے والے اسرائیلیوں میں کم از کم 75 فیصد وہ فوجی تھے جو غزہ سے واپس آئے تھے۔H/A










