جموں//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گورنمنٹ کالج آف اِنجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (جی سی اِی ٹی) جموں میں گیارویں نیشنل کانفرنس اینڈ ایگزبشن آن ایمرجنگ اینڈ انوویٹوٹرینڈز اِن اِنجینئرنگ ٹیکنالوجی (این سی اِی آئی ٹی اِی آی ٹی) کا اِفتتاح کیا۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کو ثقافتی ورثے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں میں اِختراع پر مبنی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔یہ دو روزہ ایونٹ جی سی اِی ٹی جموں کی طرف سے اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کھڑگپور کے تکنیکی اِشتراک اور ورلڈ کنسورشیم آف یونیورسٹیز کے تعاون سے منعقد کیا ہے۔اِس موقعہ پر وزیراعلیٰ نے جی سی اِی ٹی میںنئی تعمیرشدہ سکول آف آرکیٹیکچر (ایس او اے) عمارت کا بھی اِفتتاح کیا جو 19.71 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے اور فیکلٹی و طلبأ کے لئے نیک خواہشات کا اِظہار کیا۔ اُنہوں نے فن تعمیر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے طلباکو مستقبل بین سوچ اَپنانے اور خطے کی ثقافتی و تاریخی شناخت سے جڑے رہنے کی تلقین کی۔اُنہوں نے کہا،’’جدیدیت کو اپنانا ضروری ہے لیکن یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ ہم اپنی جڑوں کو نہ بھولیں۔ ہر عمارت شیشے اور سٹیل سے نہیں بننی چاہیے۔ ہماری تعمیرات ہمارے ورثے اور ثقافتی اَقدار کی عکاسی کریں۔‘‘اُنہوں نے جموں و کشمیر میں سرکاری اور نجی تعمیرات میںثقافتی ورثہ کے تحفظ پر کم توجہ پر تشویش کا اِظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے کانفرنس کے موضوع کو اہم اور فکر انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بالخصوص آرٹیفیشل اِنٹلی جنس ( اے آئی) اور مشین لرننگ جیسی اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ اُنہوں نے اسے سیاحت کے تناظر میں’’آنکھیں کھولنے والا‘‘ قرار دیا۔اُنہوں نے وزیر سیاحت کے طور پر اپنے تجربے کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے اِستعمال سے جموں و کشمیر میں سیاحوں کے تجربے، منزلوں کے انتظام اور خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تاہم اُنہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کو روزگار پیدا کرنے کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ،’’ہمارے جیسے خطے میں جہاں بے روزگاری ایک مسئلہ ہے، ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ ٹیکنالوجی انسانی محنت کی جگہ نہ لے بلکہ اس کی معاون بنے۔ سیاحت صرف معیشت کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار کا ایک بڑا وسیلہ بھی ہے۔‘‘وزیراعلیٰ نے اِس بات پر زور دیا کہ سیاحوں کو جموںوکشمیرکی طرف راغب کرنا مشکل نہیں ہے لیکن دوبارہ آنے کے لئے انہیں ایک بہتر اور مسلسل خوشگوار تجربہ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اُنہوں نے مختلف سیاحتی شعبوں کا ذکر کیا جن میں ماتا ویشنو دیوی جیسا مذہبی سیاحت، سُچیت گڈھ جیسا سرحدی سیاحت اور وادی سمیت دیگر خطوں میں تفریحی سیاحت شامل ہے۔اُنہوںنے تمام طبقات میں بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ نے جی سی اِی ٹی میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس برس آڈیٹوریم کی تعمیر کے لئے فنڈز فراہم کئے جائیں گے تاکہ طلبأ اور تعلیمی سرگرمیوں کے لئے بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اُنہوں نے طلبأ کی جانب سے انکیوبیشن سینٹر کی درخواست پر مثبت ردِّعمل دیتے ہوئے یقین دِلایا کہ حکومت ادارے میں ایسا مرکز قائم کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی اور اس پر کام اِسی برس شروع کیا جائے گا۔ اُنہوں نے سٹارٹ اَپ کلچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار پیدا کرنے والا بنانا وقت کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا،’’ہم سب کوملازمت فراہم نہیں کر سکتے لیکن ہم ایسا ماحول ضرور بنا سکتے ہیں جہاں نوجوان اَنٹرپرینیور اور اِختراع کار بنیں۔ یہ ہماری ذِمہ داری ہے کہ ہم ان لوگوں کی مدد کریں جو خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت بنانے کی ہمت رکھتے ہیں۔‘‘اُنہوں نے حکومت کا اعادہ کرتے ہوئے یقین دِلایاکہ اِدارہ جاتی ڈھانچے اور معاون نظام کو مضبوط بنانے کے لئے تمام ضروری اِقدامات کئے جائیں گے تاکہ جی سی اِی ٹی ایک ممتاز اِدارے کے طور پر ترقی کرتا رہے۔اِس موقعہ پر وزیراعلیٰ نے کانفرنس کی اِی۔پروسیڈنگ جاری کی جس میں 28 شارٹ لسٹ شدہ مقالے اور پیغامات شامل تھے۔ اُنہوں نے مختلف نمائش سٹالوں کا بھی معائینہ کیا جہاں جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں سے آئے طلبا کے جدید ماڈلز اور منصوبے پیش کئے گئے تھے۔وزیر برائے تعلیم سکینہ اِیتو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم کے مستقبل کی تشکیل میں اِختراع اور تحقیق کے کردار پر زور دیا۔اُنہوں نے پاور کمپنیوں کی طرف سے لگائی گئی نمائش کا بھی دورہ کیا اور سکول آف اِنجینئرنگ سمیت اِدارے کی مختلف سہولیات کا دورہ کیا۔اُنہوں نے طلبأ کو نوکری تلاش کرنے والے نہیں بلکہ نوکری پیدا کرنے والے بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ سکول آف آرکیٹیکچر نہ صرف عمارتوں بلکہ معاشرے اور طرزِ زِندگی کی تشکیل میں اہم کردار اَدا کرے گا۔
ممبر اسمبلی نگروٹہ دیوانی رانا،آرگنائزنگ چیئرپرسن اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑگپور پروفیسر راجا دتہ اور پرنسپل/ڈائریکٹر جی سی اِی ٹی سمیرو شرما نے بھی خطاب کیا اور باہمی تحقیق، تعلیمی معیار اوراِختراع پر مبنی ترقی کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔جی سی اِی ٹی کے دو سابق طلبأ نے بھی اَپنے پیشہ ورانہ سفرکا اِشتراک کیا اور طلبأ کو محنت اور اِختراع کی ترغیب دی۔کانفرنس میں ملک بھر سے آئے ماہرین تعلیم، محققین، صنعت کاروں اور طلبأنے شرکت کی۔










