تعمیرات کاروں کی ای ٹینڈنرنگ کو10لاکھ روپے تک مستثنیٰ رکھنے کی وکالت
سرینگر//سینٹرل کانٹریکٹرز کارڈی نیشن کمیٹی885 کروڑ روپے کے واجبات کی واگزاری اور 10 لاکھ روپے تک کے ٹینڈروں کو ای ٹینڈرز سے مستثنیٰ رکھنے کے لیے 17 فروری سے نارتھ ،ساوتھ رابطہ مہم شروع کرے گی۔وی او آئی کے مطابق جے کے سی سی سی کے جنرل سیکریٹری فاروق ڈار نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے تعمیراتی ٹھکیداروں کی رقم واگزار نہیں کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کی مالی پوزیشن انتہائی خراب ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی ٹھکیداروں نے 2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد سرکاری دفاتر، عمارتوں، سڑکوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور پلوں کی بحالی و مرمت کا کام کیا، لیکن وہ اب مالی اداروں کے مقروض ہوچکے ہیں اور سود در سود کی ادائیگی نے انہیں بے روزگار کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، ان کے ساتھ منسلک میٹریل سپلائی کرنے والوں نے بھی ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، کیونکہ وہ اپنے واجبات ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔فاروق ڈار نے کہا کہ سابق مالیاتی کمشنر ارن مہتہ نے دو برس قبل ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں افسروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ سالانہ بچت رقومات میں سے ٹھیکداروں کے واجبات ادا کریں، تاہم وہ حکم بھی بے اثر ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے اور موجودہ حکومت بھی تین ماہ سے کام کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ مایوس ہوچکے ہیں۔فاروق احمد ڈار نے کہا کہ885 کروڑ روپے کی واگزاری کے لیے سینٹرل کانٹریکٹرز کارڈی نیشن کمیٹی نے شمال سے جنوب تک تعمیراتی ٹھیکیداروں میں رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس دوران آئندہ کے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ اس مہم کے دوران تمام سیاسی جماعتوں، بشمول حکومتی جماعت اور لیفٹننٹ گورنر سے بھی رابطہ کیا جائے گا تاکہ ٹھیکداروں کی محنت کی کمائی واگزار کی جا سکے۔فاروق احمد ڈار نے وزیر اعلیٰ کو یاد دلایا کہ جب انہوں نے سابق دور اقتدار میں ای ٹینڈرنگ کا حکم جاری کیا تھا تو تعمیرات کاروں نے انہیں اپنے تحفظات اور تکنیکی پیچیدگیوں سے آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ ٹینڈرنگ کے عمل میں 10لاکھ روپے تک کے ٹینڈروں کو ای ٹینڈرنگ سے مستثنیٰ رکھا جائے۔










