جموں و کشمیر کے اسکولوں کو ہمارے جدید ایڈ ٹیک نظام سے بااختیار بنایا جائے گا
سرینگر//جموں و کشمیر کے تقریباً 50 اسکولوں نے ’لیڈ‘(لرنگ،ایجوکیشن ڈیولپمنٹ)کے مربوط اسکول ایڈ ٹیک نظام کو اپنے تعلیمی نظام کا حصہ بنا لیا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق لیڈ کے بین الاقوامی معیار کے نصاب اور کثیر الجہتی تدریسی طریقے طلباء کو مضامین کی گہرائی سے سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔لیڈگروپ کے چیف ایگزیکٹو افسرسومیت مہتا، نے کہا کہ ہمارے ملک میں زیادہ تر طلباء کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم دستیاب نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’ہماری کوشش ہے کہ ہم جموں و کشمیر کے اسکولوں کو ہمارے جدید ایڈ ٹیک نظام سے بااختیار بنائیں تاکہ وہ بھی بڑے شہروں کے اسکولوں کی طرح اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کر سکیں۔‘‘مہتا نے بتایا کہ لیڈکے نظام کے تحت تقریباً 50 اسکولوں نے کامیابی کے ساتھ نصاب کو اپنایا ہے اور 1000 سے زیادہ اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔ ڈاکٹر وسیم حنیف، صدر سولس انٹرنیشنل، نے کہا کہ لیڈکے تدریسی ماڈیولز اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والی تشخیص نے طلباء کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری لائی ہے۔نیو کنونٹ اسکول کی پرنسپل، مسز اسیا یعقوب، نے کہا کہ لیڈگروپ کا نظام ان کے اسکول کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوا ہے۔ سنجے سنگھ، سینئر ایجوکیشنسٹ، نے بھی لیڈکے تدریسی طریقوں کی تعریف کی ہے، جنہوں نے انہیں ایک مؤثر اور پراعتماد استاد بنا دیا ہے۔










