ڈی آئی جیز سے ایس پیز تک 257 افسران ایک ایک پولیس اسٹیشن اپنائیں گے، عوام دوست پولیسنگ پر زور
سرینگر//جموں و کشمیر پولیس نے پولیسنگ کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کی سمت ایک اہم اور دور رس فیصلہ کرتے ہوئے مرکز کے ’’وکست بھارت،2047‘‘ وڑن کے مطابق مرکزی زیر انتظام علاقے کے تمام 257 پولیس تھانوں کے لیے سینئر پولیس افسران کو بطور ’’مینٹور‘‘ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ڈی آئی جی سے لے کر ایس پی رینک تک کے 257 افسران ایک ایک پولیس اسٹیشن کی سرپرستی اور رہنمائی کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔یو این ایس کے مطابق پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات کے مطابق اس منصوبے کا مقصد پولیس تھانوں کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا، عوامی اعتماد کو مستحکم کرنا، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا اور پولیسنگ کو زیادہ جوابدہ اور شہری مرکوز بنانا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس فیصلے کی بنیاد حالیہ ڈی جی پیز اور آئی جی پیز کانفرنس میں کی گئی سفارشات پر رکھی گئی ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ سینئر پولیس افسران کے تجربے، قیادت اور انتظامی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے زمینی سطح پر پولیس اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔ کانفرنس میں تجویز دی گئی تھی کہ منتخب بنیادوں پر پولیس تھانوں کو سینئر افسران کی نگرانی میں دیا جائے تاکہ ادارہ جاتی اصلاحات اور بہتر طرز حکمرانی کے اہداف حاصل کئے جا سکیں۔پولیس ہیڈکوارٹر کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف ڈی جی پیز اور آئی جی پیز کانفرنس کی روح کے مطابق ہے بلکہ اس سے پولیس اداروں کو مضبوط بنانے، یکساں اور منصفانہ پولیسنگ کو یقینی بنانے اور وکست بھارت-2047 کے وڑن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے گی۔احکامات کے مطابق یہ فہرست ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے مؤثر رہے گی اور اس مدت کے دوران نامزد افسران اپنے اپنے تھانوں میں مختلف شعبوں کا جائزہ لیتے رہیں گے۔ انہیں روزمرہ تفتیشی اور آپریشنل معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ ان کا کردار مکمل طور پر رہنمائی، نگرانی اور ادارہ جاتی بہتری تک محدود رہے گا۔یو این ایس کے مطابق پولیس ہیڈکوارٹر نے مینٹور افسران کے لیے ایک تفصیلی چارٹر آف ڈیوٹیز بھی مرتب کیا ہے۔ اس کے مطابق سینئر افسران پولیس اہلکاروں میں پیشہ ورانہ اخلاقیات، دیانت داری، عوامی خدمت کے جذبے اور جموں و کشمیر پولیس کی روایات و اقدار کو فروغ دینے کے لیے رہنمائی فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ شہری دوست پولیسنگ، کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگراموں اور عوام کے ساتھ بہتر روابط کے قیام پر خصوصی توجہ دیں گے۔مینٹور افسران کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ وہ پولیس اسٹیشنوں میں جرائم سے متعلق ریکارڈ، رجسٹرز اور دیگر سرکاری دستاویزات کی دیکھ بھال کے نظام کا جائزہ لیں اور اس حوالے سے ضروری مشورے فراہم کریں۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔احکامات میں کہا گیا ہے کہ سینئر افسران کرائم اینڈ کرمنل ٹریکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹمز اور انٹرآپریبل کریمنل جسٹس سسٹم کے تحت دستیاب ڈیجیٹل سہولیات کے استعمال کا جائزہ لیں گے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ پولیس اہلکار ان جدید پلیٹ فارمز سے مکمل استفادہ کریں۔اس کے ساتھ ساتھ ’’ای-بیٹ‘‘ نظام، مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو پولیسنگ میں شامل کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ جرائم کی روک تھام، نگرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔پولیس تھانوں کے بنیادی ڈھانچے اور ماحول کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مینٹور افسران تھانوں کی عمارتوں، رہائشی کوارٹروں، صفائی ستھرائی، تزئین و آرائش، بیت الخلاؤں کی دستیابی اور صفائی، حوالات کے حالات اور عوام کے استقبال کے لیے قائم استقبالیہ مراکز کا معائنہ کریں گے۔ مقصد یہ ہے کہ پولیس اسٹیشنوں کو زیادہ خوشگوار، منظم اور عوام دوست بنایا جائے تاکہ شہری بلا خوف و جھجھک اپنی شکایات درج کرا سکیں۔یو این ایس کے مطابق پولیس ہیڈکوارٹر نے واضح کیا ہے کہ مینٹور افسران کسی بھی صورت میں جرائم کی تفتیش، مقدمات کی نگرانی، آپریشنل معاملات، مالیاتی امور یا سروس سے متعلق شکایات کے ازالے میں مداخلت نہیں کریں گے کیونکہ یہ تمام معاملات ضلعی پولیس دفاتر، رینج پولیس ہیڈکوارٹرز اور زونل پولیس ہیڈکوارٹرز کے دائرہ اختیار میں رہیں گے۔حکم نامے کے مطابق متعدد اہم پولیس تھانوں کو سینئر افسران کی نگرانی میں دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی رئیس محمد بٹ کو سری نگر کے تاریخی شیرگڑی پولیس اسٹیشن کا مینٹور مقرر کیا گیا ہے، جبکہ راجیو پانڈے کو نشاط پولیس اسٹیشن اور سری دھر پاٹل کو جموں کے جنی پورہ پولیس اسٹیشن کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔اسی طرح مبشر لطیفی کو نگروٹہ، راجیشور سنگھ کو گول، جتیندر سنگھ جوہر کو گاندھی نگر، سوارن سنگھ کو کاناچک اور زاہد منہاس کو گھروٹہ پولیس اسٹیشن کا مینٹور مقرر کیا گیا ہے۔دیگر اہم تقرریوں میں رمیش انگرال کو ریناواری، طاہر سجاد بھٹ کو سائبر پولیس اسٹیشن جموں، امود ناگپورے کو پہلگام، امرت پال سنگھ کو رہمبل، سنجے کوٹوال کو ماتا ویشنو دیوی بھون، شیلندر سنگھ کو گنگیال، بینام توش کو پنچیری، جوگندر سنگھ کو میران صاحب اور شمشیر حسین کو اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ جموں کا مینٹور مقرر کیا گیا ہے۔مزید برآں رندیپ کمار کو پورمنڈل، پون پریہار کو جی آر پی منوال، یوگل منہاس کو پیر میتھا، ارون گپتا کو رام بن، وریندر منہاس کو رام گڑھ، سنجے پریہار کو اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ ادھم پور، شاہین وحید کو کٹھوعہ، وویک شیکھر شرما کو لکھن پور، موہن شرما کو سٹی جموں، راج پال سنگھ منہاس کو دھرم کنڈ، منیش کمار کو رامسو، گورو مہاجن کو گرسائی، رمنیش کمار کو گنڈوہ، سچن گپتا کو دھرم شال، وشال منہاس کو مینڈھر، ڈاکٹر اجے شرما کو لوران، سنیل کمار کیسر کو بلاور اور شیوالی کوٹوال کو ستواری پولیس اسٹیشن کی نگرانی سونپی گئی ہے۔پولیس حکام کا ماننا ہے کہ یہ منفرد اقدام نہ صرف پولیسنگ کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کو مزید مستحکم کرے گا۔ سینئر افسران کی براہ راست رہنمائی سے تھانوں کی کارکردگی، نظم و نسق، ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی خدمات میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے، جو بالآخر جموں و کشمیر میں جدید، جوابدہ اور عوام دوست پولیسنگ کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔










