جموں و کشمیر میں شدید بارشوں کا نیا سلسلہ، 11 اگست تک سیلابی ریلوں کا خطرہ

جموں و کشمیر میں شدید بارشوں کا نیا سلسلہ، 11 اگست تک سیلابی ریلوں کا خطرہ

محکمہ موسمیات کی وارننگ، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور پہاڑی سڑکوں پر پتھر گرنے کا خدشہ،حکام کو چوکس رہنے کی ہدایت

سرینگر// یو این ایس/جموں و کشمیر میں آئندہ چند روز کے دوران ایک مرتبہ پھر موسمی سرگرمی میں شدت آنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات نے 9 سے 11 اگست کے دوران جموں خطے کے متعدد اضلاع میں شدید سے بہت شدید بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے اچانک سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق 8 اگست کو جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کے ایک یا دو دور متوقع ہیں، جبکہ بعض مقامات پر مختصر دورانیے کی شدید بارش بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد 9 سے 11 اگست کے دوران بارش کی سرگرمی میں دوبارہ اضافہ متوقع ہے۔یو این ایس کے مطابق اس عرصے کے دوران بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کے چند دور متوقع ہیں، تاہم جموں ڈویژن کے بعض اضلاع میں شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے یہ بھی کہا ہے کہ کشمیر ڈویڑن کے بعض اضلاع میں مختصر دورانیے کی شدید بارش ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے 9 سے 11 اگست کیلئے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ موسلا دھار بارش اور شدید بارش کے نتیجے میں حساس علاقوں میں اچانک سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا بھی خدشہ ہے، جس کے باعث شہریوں اور متعلقہ محکموں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ماہر موسمیات ڈاکٹر مہندر سنگھ، چیف سائنٹسٹ اور انچارج ایگرو میٹرولوجی، زرعی یونیورسٹی-جموں کے مطابق 7 اگست کے بعد جموں ڈویڑن کے بیشتر علاقوں میں بارش کی سرگرمی میں عارضی کمی آنے کا امکان تھا، تاہم 10 اگست کے بعد بارش کا سلسلہ دوبارہ فعال ہونے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 اگست کو چناب ویلی، جموں، ادھم پور، ریاسی، راجوری اور پونچھ کے بالائی علاقوں اور دیگر حساس مقامات پر شدید مقامی بارش کے امکانات ہیں۔ ان علاقوں میں بعض مقامات پر بادل پھٹنے جیسے انتہائی موسمی واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔ان کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ چند روز تک جاری رہ سکتا ہے، جس دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کے واقعات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ خاص طور پر وہ سڑکیں اور علاقے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جہاں پہلے ہی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث زمین کمزور ہو چکی ہے۔ڈاکٹر مہندر سنگھ کے مطابق جموں شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ بارش کے وقفوں کے دوران موسم گرم اور مرطوب رہ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق 12 سے 17 اگست کے دوران بھی جموں و کشمیر کے کئی مقامات پر ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کے امکانات برقرار رہیں گے۔ بعض مقامات پر مختصر مگر شدید بارش کے دور بھی دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔اس طرح آئندہ تقریباً دس روز کے دوران موسم مکمل طور پر خشک رہنے کی توقع نہیں ہے، بلکہ وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔تازہ موسمی وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جموں و کشمیر میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شدید بارش، بادل پھٹنے اور اچانک سیلابی ریلوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون سے جولائی کے اختتام تک جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے کے 25 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن کے نتیجے میں اچانک سیلابی ریلے آئے اور 30 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان واقعات کا سب سے زیادہ اثر جموں خطے میں دیکھا گیا۔ان واقعات کے نتیجے میں کئی مقامات پر سڑکیں، پل، رہائشی ڈھانچے اور دیگر بنیادی سہولیات متاثر ہوئیں جبکہ بعض علاقوں میں زمینی رابطہ بھی عارضی طور پر منقطع ہوا۔تازہ موسمی صورتحال کے درمیان ادھم پور ضلع کے رام نگر علاقے میں بھی بارش سے متعلق ایک المناک واقعہ پیش آیا۔ حکام کے مطابق کاگھوٹ پنچایت کے علاقے میں شدید بارش کے نتیجے میں آنے والے اچانک سیلابی ریلے میں ایک میاں بیوی ڈوب گئے۔یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس خطرے کو اجاگر کرتا ہے جو پہاڑی ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں میں اچانک پانی بڑھنے کے باعث پیدا ہوتا ہے۔محکمہ موسمیات اور مقامی انتظامیہ نے لوگوں کو نالوں، دریاؤں کے قریب نشیبی علاقوں، لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے پہاڑی مقامات اور دیگر حساس علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔لوگوں کو خاص طور پر شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسمی صورتحال کے بارے میں سرکاری اطلاعات پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔متعلقہ انتظامیہ اور پولیس کو بھی حساس علاقوں میں چوکس رہنے، موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضروری انتظامات برقرار رکھنے کو کہا گیا ہے۔شدید بارش کے دوران جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کے واقعات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال میں جموں۔سری نگر قومی شاہراہ سمیت دیگر اہم پہاڑی سڑکوں پر ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے بادل پھٹنے اور شدید مقامی بارش کے امکان کے پیش نظر ڈرائیوروں اور مسافروں کو حساس مقامات پر خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ موسمی صورتحال اور بارش کی شدت کے مطابق ضرورت پڑنے پر متاثرہ علاقوں میں ٹریفک اور دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات نے مجموعی طور پر آئندہ دنوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش کی سرگرمی جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے، تاہم 9 سے 11 اگست کے درمیان جموں ڈویڑن کے بعض علاقوں میں شدید بارش کے امکانات کے باعث انتظامیہ کو خاص طور پر چوکس رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔