vote

2023میں پنچایتی اور بلدیاتی اداروں کی پانچ سالہ مدت ختم ہونے کے ساتھ ہی

جموں کشمیر میں اسمبلی ، بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات ایک ساتھ ہوں گے ، سیاسی سرگرمیاں تیز

سرینگر//جموں کشمیر میں پنچائتی، بلدیاتی اور اسمبلی انتخابات اگلے برس کے وسط میں منعقد کرائے جانے کا امکان ہے کیوں کہ اکتوبر 2023میں بلدیاتی اداروں اور پنچایتوں کی پانچ سالہ مدت مکمل ہورہی ہے ۔ ادھر ذرائع نے بتایا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے علاوہ انتظامیہ نے بھی اس کے لیے اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اگلے احکامات تک چیف الیکٹورل آفیسر کا چارج جوائنٹ چیف الیکٹورل آفیسر انیل سلگوترا کو سونپ دیا ہے۔سی این آئی کے مطابق اگر جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر رہی تو اگلے سال اپریل یا مئی 2023 میں اسمبلی انتخابات ہو سکتے ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہری بلدیاتی اداروں اور پنچایتوں کی پانچ سالہ مدت بھی اکتوبر 2023 میں مکمل ہونے جا رہی ہے۔ تینوں انتخابات ایک ساتھ ہونے کا امکان ہے۔اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ انتظامیہ نے بھی اس کے لیے اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اگلے احکامات تک چیف الیکٹورل آفیسر کا چارج جوائنٹ چیف الیکٹورل آفیسر انیل سلگوترا کو سونپ دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پنچایت ووٹر لسٹوں کی تیاری کا کام بھی اگلے ہفتے سے ضلع سطح پر شروع ہونے والا ہے۔ایسے میں ریاست میں تین بڑے انتخابات کا پس منظر تیار کیا جا رہا ہے۔ ان انتخابات کے پیش نظر بی جے پی، کانگریس، پی ڈی پی، این سی، اپنی پارٹی، عام آدمی پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں نے اپنی سرگرمی بڑھا دی ہے۔ اگلے مہینے جے پی نڈھا کے علاوہ، وزیر داخلہ امت شاہ کو بی جے پی کے سرکردہ رہنماؤں کے درمیان جموں و کشمیر کا دورہ کرنے کی تجویز ہے۔وہیں کانگریس لیڈر راہل گاندھی بھی بھارت جوڑو یاترا کے تحت اگلے ماہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ دوبارہ نیشنل کانفرنس کے صدر منتخب ہونے کے بعد پارٹی قائدین کو متحرک کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ پی ڈی پی، اپنی پارٹی، عام آدمی پارٹی بھی سیاسی میدان مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔حد بندی کمیشن کی رپورٹ کے تحت ووٹر لسٹوں کی سمری نظرثانی کا کام چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے مکمل کر لیا ہے۔ ساتھ ہی ریاستی الیکشن کمشنر کے کے شرما نے ضلعی سطح پر عہدیداروں کو یکم جنوری 2023 سے پہلے پنچایت ووٹر لسٹیں تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔