1550عیسوی میں شاہ میر کی جانب سے تعمیرکئے جانے والے فٹ برج کو نئے طرز پر تعمیر کرنے پرلوگ خوش

فٹ برج کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کار پارکننگ اور صفائی کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جائیں /مقامی لوگ

سرینگر//سیاحت کو فروغ دینے کے لئے جموں وکشمیر انتظامیہ کی ایک او رکارروائی شاہ میر کی جانب سے 1550 عیسوی میں تعمیرکئے گئے پل کو سمارٹ سٹی اسکیم کے تحت تعمیر کیاجارہاہے تاکہ اس فٹ برج کے قیام سے جہاں مقامی لوگوں کو کاروبار میں وسعت ہوگی وہی پھر سے شہرخاص کے ا س علاقے میں سیاحوں کی آمدکرسلسلہ بھی شروع ہوگا ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق جموںو کشمیرانتظامی کونسل نے شہرخاص کے حبہ کدل علاقے میں تاریخی فٹ برج جوحبہ کدل کے نام سے زبانی ز دعام ہے کوزیروبرج کے طرز پر تعمیرکرنے کافیصلہ کیااور اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔فٹ برج کونئے طرز پرتعمیرکرنے پرمقامی لوگوں نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اس سے لوگوں کے مشکلات کم ہونگے تاہم علاقے میں اس فٹ برج کولوگوں نے گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے استعمال کرنا شروع کیاتھاانتظامیہ کوچا ہے کہ جس انداز سے سمارٹ سٹی اسکیم کے تحت اس پل کی تعمیرکا کام ہاتھ م لیاگیاہے اسکے لئے لازمی ہے کہ پہلے علاقے میں کارپارکنگ کابھی انتظام کیاجائے تاکہ زیروبرج کے طرز پر تعمیرکئے جانے والے پل سے لوگ لطف اندوز ہوسکیں او ریہ سیاحوں کی کشش کابھی مرکز بنیں ۔مقامی لوگوں نے پل کی تعمیرکو بڑا اقدام قرار دیتے ہوئے کہاکہ برسوں پرانی شکایت کا سرکار نے ازالہ کیاتاہم ضلع انتظامیہ میونسپل کارپوریشن سرینگر کے ذمہ داروں کوچاہے کہ حبہ کدل اور اس کے آس سپاس رہنے والے لوگوں کی جانب سے جو گندگی اور غلاظت دریامیں ڈالی جارہی ہے ا سے روکاجائے تاکہ ایک صاف ستھرے ماحول میں لو گ رہ بھی سکے اور سیاح بھی ا س علاقے کارُخ کرسکے ۔پل کونئے طرز پر تعمیرکرنے پر لوگوں نے اطمنان اظہارکرتے ہوئے کہا ا س سے کاروبا رکوضرور فروغ ملے گا تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر اقدامات جن میں صفائی اورکارپارکنگ لازمی ہے ا سکی طرف خصوصی توجہ دی جائے ۔حبہ کدل کے اردگرد دو خوبصوت مندر اور مسجدبھی ہے جو ا سکی خوبصورت میں مزیدنکھار لانے کاموجب بنے ہے ۔ماضی میں حبہ کدل جہاں کشمیری پنڈتوں کے لئے مرکز تھا وہی اکثریتی طبقے کے لئے تجارت کا ایک اہم علاقہ بھی ماناجاتا تھا انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام پر لوگوں نے سرہانہ کرتے ہوئے کہا کہ دیرعائددرست عائد کے مسداق سرکار نے ان کے مطالبے کوپورا کیاجسکے لئے وہ داد کے قابل ہے ۔