یوم آزادی کے موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر کا پیغام

سری نگر// میرے پیارے بھائیو اور بہنو!
’امرت کال کھنڈ‘ میں آپ سب کو یوم آزاد ی کے موقعہ پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ میں اَپنے پیارے ترنگے کو سلام کرتا ہوں اور ان تمام آزادی پسندوں اور شہیدأ کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے پیر وا￿رکی اِس سر زمین کی حفاظت کے لئے عظیم قربانیاں دیں ۔میرا دِل بھارت ماں کے بہادر سپاہیوں کے تئیںدائمی شکرگزاری سے لبریزہے ۔آج مقدس یاد گاری دِن ہے ۔ یہ سر زمین لاتعداد آزادی پسندوں اور شہدأ کے خون پسینے سے بنی ہے ۔اُنہوں نے ہمارے پرچم کو بلند رکھا اور ہماری ترقی پیش رفت کی راہ ہموار کی ۔ہندوستان اتحاد ، جوش لگن اور پختہ عزم کے جذبے کے ساتھ متعدد چیلنجوں پر فتح حاصل کرتے ہوئے اَپنے آبائو اجداد کے نظریات اور اور شاندار مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی جی نے ہندوستان کی آزادی کے 75 ویں سال میں 130 کروڑ ہم وطنوں کی ایک پرچم ، ایک شناخت اور ایک جذبے کے نیچے لانے کے لئے ’’ ہر گھر ترنگا‘‘ مہم شروع کی ۔ یہ تہوار ہندوستان کو مضبوط اور خوشحال بنانے کا عہد کرنے کا موقع ہے۔آج کا عزم او رنئی نسل کی طاقت 2047 کے نئے ہندوستان کی تعمیرمیں ہماری رہنمائی کرے گی۔آج میں فوج ، پیر املٹری فورسز اور جموںوکشمیر پولیس کے بہادر سپاہیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اَپنی حیرت انگیز بہادری او رقربانی سے ہندوستان کے اتحاد اور سا لمیت کو برقرار رکھا ہے ۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سری نگر میں ان بہادر سپاہیوں کی یاد میں ایک گورو ستمبھ قائم کیا جائے گا جنہوں نے ہمارے پیارے مادر وطن کی دِفاع میں اَپنی جانیں قربان کی ہیں۔ مجھے جموںوکشمیر پولیس کے بہادر وں پر فخر ہے جنہوں نے یوم آزادی کے موقعہ پر 125 بہادر ی کے تمغے حاصل کئے ہیں ۔ ان کی قربانیاں ہمیں ہمیشہ متاثر کرتی رہیں گی۔ہمارے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں اَنمو ل ہیں لیکن ان کے کنبوں کو باوَقار زندگی گزارنے کی خاطر اِمداد فراہم کرنے کے لئے ٹھوس اَقدامات ضروری ہے ۔حکومت نے ڈیوٹی کے دوران شہید ہونے والے جموںوکشمیر کے فوجی جوانوں کے اہل خانہ کے لئے معاوضے کی رقم کو5 لاکھ روپے سے 25 لاکھ روپے تک بڑھادیا ہے۔ اِنتظامیہ نے جموںوکشمیر پولیس کے 12ویں جماعت تک کے شہید وارڈز کے اخراجات برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ فوجی سروس کے بعدجموںوکشمیر پولیس کی طرف سے کی جانے والی بھرتیوں میں 10فیصد ریزرویشن ملے گا۔ یوم آزادی کے موقعہ پر میں ولیج ڈیفنس کمیٹیوں کی تنظیم نو کو بھی اعلان کرتا ہوں ۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ مادر ہند کے بیٹے دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی عزت کی حفاظت کے لئے قربانی اور لگن کے جذبے کے ساتھ کام کریں گے۔
پیارے بھائیو اور بہنو !
ہندوستان ، جمہوریت ، پوری اِنسانیت کا اَمن او ربہبود چاہتا ہے لیکن ہم اَپنی آزادی ،خود مختاری اور سا لمیت کا پورے جوش و جذبے کے ساتھ دِفاع کرنے کے لئے بھی تیار ہیں ۔ ان لوگوں کو منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے جو ہمارے نوجوانوں کو مذموم پراکسی وار کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔پڑوسی ملک کی ایماء پر کام کرنے والے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو آخری ضرب لگائی جارہی ہے ۔ ہم دہشت گردی کو ختم کریں گے ۔ ہڑتال ، پتھرائو اور احتجاج ماضی بن چکے ہیں ۔ میں جموںوکشمیر کے ایک کروڑ 30لاکھ شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دہشت گردی اور بے گناہوں پر ہونے مظالم کے خلاف یک آواز ہو کر بات کریں۔آزاد ہندوستان کے اِس امرت کال میں جموںوکشمیر ایک نئی بلندی کو چھورہا ہے ۔ ایک مضبوط ، پُراَمن اور خوشحال یونین ٹیریٹری مسلسل تین برسوں میں تیزی سے ترقی پر گامزن ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔رشوت سے پاک نیا جموںوکشمیر مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اُبھررہا ہے۔میں نے گذشتہ برس اِس مُبارک دِن پر اٹل بہاری واجپائی جی کی دانشمندی کو سماجی اِنصاف او رہمہ گیر ترقی کے جذبے کے ساتھ اِنسانیت ، جمہوریت اور کشمیر یت کے لئے پکارا تھا۔ ہمیں آئین میں درج اقدار کے تئیں غیر متزلزل دیانت ، لگن او راٹوٹ لگن کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود اَنحصار بن کر شہریوں کی اُمید وں اور اُمنگوں کو پورا کرنا ہے ۔ 25 برس کے بعد ہمیں ہماری آنے والی نسلوں کو اِسی طرح پیار سے یاد کیا جانا چاہیئے جس طرح ہم ان عظیم آدمیوں کے تعاون کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے ایک نئے ہندوستان کی بنیاد رکھی۔ پنچایتی راج اِدارے ہر فرد کی ترقی او رسماج کے تمام طبقات کے مفادات کی حفاظت کے لئے عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں ۔ تمام مذاہب اور فرقوں کو آپس میں افہام و تفہیم اور موافقت سے ایک دوسرے کے رسوم و رواج سے ہم آہنگ کر کے کشمیریت کا پیغام پوری دُنیا تک پہنچایا جارہا ہے ۔ جموںوکشمیر کی ترقی کے سفر میں آبادی کے ہر طبقے کو برابر کا حصہ دار بنایا جارہا ہے ۔ ہمارے سامنے لاتعداد اِمکانات اور چیلنجز ہیں ۔ معاشی مساوات اور سماجی اِنصاف کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اختراعی صنعت کاروں ، دانشوروں ، ماہرین تعلیم ، کسانوں ، نوجوانوں اور خواتین کو اِکٹھا ہونا ہوگا۔ یہ ایک ایسا موقعہ ہے جب ہمیں ہندوستان کے شہری ہونے کے ناطے 75 برس کی کامیابیوں کی حفاظت اور توسیع کا عہد کرنا ہوگا۔اِس روحانی مقام نے صدیوں سے دُنیا کو حکمت اور جامع ثقافت سے نوازا ہے ۔ یہاں کی پہاڑی چوٹیاں شنکر اچاریہ کی عقیدت کی علامت ہیں اور بہتی ندیاں لعل دید کے بھکت گیتوں کا جشن مناتی ہیں ۔چنار کے پتے نندریشی کی روحانی خوشی کو مجسم کرتے ہیں اور دیودار کے درخت حبہ خاتون کی دھنیں گونجتے ہیں۔عبدالاحد آزاد ؔ صاحب نے لکھا ہے ؎
چلان چُھم شر حُبابن ، اِضطرابن،ولہ￿ ولن اَندر
یوان چُھم زندگی ہُند سوز سفر ان منزلن اَندر
ترجمہ میری خواہش پوری ہوتی ہے محبت میں، بے صبری میں ، جذبے میں ، مجھے زندگی کا جو ہر ملتا ہے سفروں میں منزلوں میں ۔جموں وکشمیر صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ ملک کے ثقافتی اور روحانی ورثے کی علامت ہے ۔کلہن نے راج ترنگنی میں لکھا ہے ۔
سندھیا دیوی جالان یاسمین دھتے نسالی گری
ترجمہ: سندھیا کے پانی کا ذائقہ نیکی کے وجود او رگناہ کی عدم موجودگی کی گواہی دیتا ہے۔
دیوی گنگا کے منبع سے مقدس بھید گیری پرواقع جھیل میں ایک ہنس کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔یہ ماں سرسوتی کی سرزمین ہے جو تمام خوبیوں کا مسکن ہے اور چیتنیا کا روشن خواب ہے ۔ ہرمکھ پہاڑ سے وندھیاس کی چوٹیوں تک ، جہلم سے پریاگ سنگم تک ، بیداگیری سے لے کر بابا کیدار ناتھ تک ، ہرسانس ، ہر دِل کی دھڑکن ہندوستان کی خوشبو اور ترنگے کی اعلیٰ شان کے لئے اُمنگیں رکھتی ہے ۔ ہزاروں او رلاکھوں رُکاوٹیں اور چیلنجز ہوسکتے ہیں لیکن ہر ایک ہندوستانی کو ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونا چاہیے اور ہندوستان کے مستقبل کا معمار بننا چاہیے ۔ یہ یوم آزادی کی قرار داد ہے۔
’’ایک انکور پھوٹ کر بولا کی میں ہار نہیں ہوں،
ایک الکا پند ہوں، تارا نہیں ہوں،
مرتیو پر جیون وجے ادھیوش کرتا،
مینار للکار ہن چارا نہیں ہن
مینامر للکار ہن چارا نہیں ہوں‘‘
ترجمہ :’’ایک پودے نے کہا کہ میں ہارا نہیں ہوں، میں الکاہوں ستارہ نہیں۔ زندگی موت پر غالب ہے ۔میں ایک لافانی چیلنج ہوں ، سرگوشی کرنے والا نہیں ، میں لافانی چیلنج ہوں ، سرگوشی کرنے والا نہیں۔‘‘
پیارے بھائیو او ربہنو !
تین برس پہلے وزیر اعظم نریندر مودی جی نے جموںوکشمیر میں جدید اور مساوی سماجی و اِقتصادی ترقی کی بنیاد رکھی تھی ۔ ان کی رہنمائی میں جموںوکشمیر قابل ذِکر کامیابیاں حاصل کررہا ہے ۔ بہت سی مشکلات اور چیلنجوں کے باوجود ہم گذشتہ مالی برس میں مجموعی طور پر 50,726 منصوبے مکمل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔گذشتہ تین برسوں میں ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد کی رفتار میں دوبارہ پیدا ہونے والے ادارہ جاتی فریم ورک کی وجہ سے پانچ گنا اِضافہ ہوا ہے ۔ اَضلاع پالیسیوں اور پروگراموں کے نفاذ کی بنیاد ہیں۔مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے ضلعی کیپکس کا بجٹ چا رگنا بڑھاکر 22,126 کروڑوپے کیا گیا ہے ۔بنیادی اِداروں جیسے پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اِداروں کو عام شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے فیصلہ سازی کے عمل میں فعال طو رپر حصہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے ۔اِس وقت تقریباً 20,000 ایسے کام او رمنصوبے زیر تکمیل ہیں جن کی شناخت صرف لوگوں نے کی ہے۔حکومت نے گذشتہ دو برسوں میں حکومت نے ان علاقوں کو ترقی دینے کی کوشش کی ہے جو اَب تک نظر انداز کئے گئے تھے۔ دَلتوں ، قبائلیوں اور سماجی و اِقتصادی طور پر پسماندہ طبقات نے مساوی حکمرانی کے نظام سے فائدہ اُٹھایا ہے ۔ اِسی طرح جموں و کشمیر یوٹی کی خواتین نے بھی فائدہ اُٹھایا ہے ۔ یونین ٹیریٹری نے کاروبار ، معیشت ، تعلیم ،ثقافت اور کھیل میدان میں کامیابی کے نئے اُفق حاصل کئے ہیں۔جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی اُمنگیں آج ملک کی اُمنگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی ہیں۔ ان کے خواب صرف ذاتی ترقی تک ہی محدود نہیں ہیںبلکہ معاشرے، قوم اور پوری اِنسانیت خاطر ایک اچھا مستقبل بنانے کیلئے ہیں۔ آج کے نوجوان غربت، بے روزگاری اور استحصال سے پاک مساوی معاشرے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو چیلنج کرے اور اِستعمال کرے۔ اِس طرح کے سماجی اور معاشی نظام کے قیام کے لئے اَمن ایک شرط ہے اور حکومت نے 21ویں صدی کے ان خوابوں کی تعبیر کی بنیاد رکھی ہے۔ میں نوجوانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اس وقت پوری دنیا کی ترقی کے لئے مشعل راہ ہے۔ ملک کے نوجوانوں نے دنیا بھر میں سائنسی اور تکنیکی ترقی کے تقریباً ہر شعبے میں اَپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ حکومت نے اس خلیج کو پاٹ دیا ہے اور ہمہ جہت ترقی کے لئے مواصلات کے تمام راستے کھول دئیے ہیں۔ آئیے ہم ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال جموں و کشمیر کی تعمیر کے لئے اَپنے عزم کا اعادہ کریں۔گذشتہ تین برسوں میں مکمل شفافیت کے ساتھ نوجوانوں کو 30 ہزار سرکاری نوکریاں فراہم کی گئی ہیں۔ بے ضابطگیوں کے بارے میں کچھ شکایات موصول ہوئی ہیں جن کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ہم قصوروار پائے جانے والوں کو سخت سزائیں یقینی بنائیں گے۔ اِنتظامیہ نے اس برس خالی اَسامیوں کو پُر کرنے کے لئے بھرتی مہم کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ مختلف پروگراموں کے تحت 5.2 لاکھ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو خود روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔ پرائم منسٹرز ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام کے تحت جموں و کشمیر گذشتہ مالی سال میں 21,640 مینوفیکچرنگ اور سروس یونٹس قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اِس طرح یہ ملک میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا خطہ بن کر اُبھرا ہے۔ اِس پروگرام کے تحت 1.73 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے جو کہ ہندوستان کی تمام ریاستوں اوریوٹیز میں سب سے زیادہ ہے۔مشن یوتھ کے تحت، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ممکن، تیجسوینی، رائز ٹوگیدر اور پرواز جیسی سکیموں سے کاروباری بننے کے مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔ ہم نے حوصلہ، ساتھ، اُمید اور ہوم سٹے پروگراموں کے ذریعے شہری اور دیہی خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنانے کی طرف اہم پیش رفت کی ہے۔ سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے تقریباً 5 لاکھ دیہی خواتین کو بااِختیار بنایا گیا ہے جس سے عدم تحفظ اور مایوسی کے احساس کو ختم کیا گیا ہے۔ اِنتظامیہ خواتین کو سرکاری ملازمتوں میں درپیش مسائل کے تئیں حساس ہے اور اس نے جموں اور کشمیر کے تمام اَضلاع اور دفاتر میں کریچ سہولیات قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خطے کی جامع ترقی کے لئے مناسب وسائل مہیا کئے گئے ہیں۔ سماجی اور اِقتصادی شعبے میں حکومتی اخراجات میں بالترتیب 43.83 فیصد اور 45.60 فیصد اِضافہ کیا گیا ہے۔ ترقی کے ثمرات ہرفرد تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تمام محکموں کی آن لائن خدمات کو پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ کے تحت مقررہ ٹائم لائنز کے ساتھ لایا گیا ہے تاکہ اَنتظامیہ عوامی خدمات کی فراہمی میں تاخیر کو کم کرکے عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔ ہم نے ہربرس 5 ؍اگست کو کورپشن سے آزادی کے لئے قرارداد کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِی۔ گورننس سروس ڈیلیوری میں جموں و کشمیر کو یوٹیز میں اوّل مقام حاصل ہے۔ 209 عوامی خدمات آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں اور اِن خدمات کے بارے میں عوام سے براہ ِراست رائے حاصل کرنے کے لئے ریپڈ اسسٹمنٹ سسٹم (آر اے ایس) قائم کیا گیا ہے۔ اَب تک موصول ہونے والے تاثرات سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر خدمات کے لئے منظوری کی درجہ بندی زائد اَز 80 فیصدہے۔ ’’آپکا موبائل، ہمارا دِفتر‘‘اقدام سے ہم عوامی خدمات کی فراہمی کو بغیر فیس اور کیش لیس بنانے کے اَپنیعزم پر پورا اُترے ہیں۔
پیارے بھائیو اور بہنو!
ٹرانسپورٹ کا بنیادی ڈھانچہ کسی بھی خطے کی معاشی اور سماجی تبدیلی کے لئے ایک شرط ہے۔ گذشتہ دو برسوں میں سڑک اور ٹنل کے بنیادی ڈھانچے کو ترجیح دی گئی ہے اور ایک مضبوط سڑک نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے 1 لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔گذشتہ برس جموں و کشمیر نے 6,450 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جموں و کشمیر ملک میں سب سے طویل سڑک کی لمبائی کے ہدف کو حاصل کرنے میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس سے پہلے روزانہ 6 کلومیٹر سڑک کی لمبائی بنتی تھی جو بڑھ کر 20 کلومیٹر یومیہ ہو گئی ہے۔ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت جموں و کشمیر ملک میں چوتھے نمبر پر ہے۔ گذشتہ دو برسوں میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے کُل 169 پل بنائے گئے ہیں اور گذشتہ مالی برس میں 7,610 کلومیٹر سڑک کی لمبائی میکڈیمائز کی گئی ہے جو پہلے تقریباً 2500سے 3000 کلومیٹر ہوا کرتی تھی ۔ جموں اور سری نگر کے درمیان سفر کا وقت 12 گھنٹے سے کم کر کے 7 گھنٹے کیا گیا ہے۔ آزادی کے بعد کے 70 برسوں میں جموں و کشمیر 14000-15000 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں کامیاب رہا جب صرف گذشتہ ڈیڑھ سال میں 56000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں ۔ اس میں سے اس سال اپریل میں عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی موجودگی میں 38080 کروڑ روپے کی تجاویز کیلئے سنگِ بنیاد کی تقریب منعقد کی گئی ۔ جموں و کشمیر اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کی درجہ بندی میں یو ٹی کے زمرے میں سرفہرست اداکار کے طور پر ابھرا ہے ۔ کاروبار کرنے کے ماحول کو آسان بنانے کیلئے 18 محکموں کی 150 ای خدمات سنگل ونڈو پورٹل پر دستیاب کرائی گئی ہیں جنہیں مرکزی حکومت کے ذریعے چلائے جانے والے نیشنل سنگل ونڈو پورٹل کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے ۔ معروف غیر ملکی سرمایہ کاروں جیسے ایمار ، لولو اور ڈی پی ورلڈ کے ساتھ دستخط کئے گئے ایم او یوز کے نتایج جلد ہی زمین پر نظر آئیں گے ۔ میڈیسٹی کے قیام کیلئے 4400 کروڑ روپے کی مالیت کی22 تجاویز کو منظوری دی گئی ہے جس سے یو ٹی میں ایم بی بی ایس کی نشستوں کی تعداد میں بھی 1000 نشستوں کا اضافہ ہو گا ۔ جموں و کشمیر کے دستکاری کے بھر پور ورچ کو عالمی منڈی فراہم کرنے کیلئے دستکاری اور ہینڈ لومز کے 8 کلسٹر قائم کئے جا رہے ہیں ۔ دستکاری کا محکمہ دستکاری سے وابستہ تمام کاریگروں کی مردم شماری کا عمل مکمل کر رہا ہے ۔ سنٹرل کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ نے گذشتہ سال 5851 یونٹس قائم کئے ہیں جن کے ذریعے روزگار کے تقریباً 47000 نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں ۔ سرینگر میں سلک ویونگ فیکٹری جو کئی برسوں سے بند تھی دوبارہ بحال ہو گئی ہے ۔ دستکاری کے کاریگروں کو آرٹیسن کریڈٹ کارڈ کے تحت دی جانے والی مالی امداد کو ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے ۔ کارخندہ اسکیم کے تحت 26 نئے یونٹس قائم کئے گئے ہیں ۔ قیمتی دستکاری کیلئے عالمی منڈی میں جگہ حاصل کرنے اور ان کی برآمدات کو بڑھانے کیلئے 7 دستکاریوں ، قالین ، پشمینہ ، سوزنی ، خاتمبند ، اخروٹ ووڈ کارونگ ، پیپر ماشی اور کانی شال کو جی آئی ٹیگ کیا گیا ہے ۔ پیارے بھائیو اور بہنو ، انتظامیہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں بجلی کے قدیم نیٹ ورک اور نظام کو تبدیل کرنے کیلئے تندہی سے کام کر رہی ہے ۔ این ایچ پی سی کے تعاون سے پن بجلی کے پانچ بڑے منصوبوں پر کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اگلے تین برسوں میں ہم پچھلے 70 برسوں میں مجموعی طور پر پیدا کی گئی بجلی کی مقدار پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے ۔ پچھلے دو برسوں میں ترسیل کی صلاحیت 8234 ایم وی اے سے بڑھا کر 11016 ایم وی اے کر دی گئی ہے اور تقسیم کی صلاحیت 12745 ایم وی اے سے بڑھا کر 16574 ایم وی اے کر دی گئی ہے ۔ جموں اور سرینگر شہروں میں 95000 سمارٹ میٹر لگائے گئے ہیں اور معیاری اور قابلِ اعتماد بجلی کیلئے مارچ 2023 تک 6 لاکھ اسمارٹ میٹر لگائے جائیں گے ۔ جہاں مجموعی طور پر ملک کیلئے فی کس توانائی کی کھپت 1208 یونٹس ہے وہیں جموں و کشمیر کیلئے یہ 1384 یونٹس پر نمایاں طور پر زیادہ ہے ۔ نیتی آیوگ کے پائیدار ترقی کے انڈیکس میں جموں و کشمیر کو سب سے آگے کے زمرے میں درجہ دیا گیا ہے ۔ جموں و کشمیر صحت کے 12 پیرا میٹرز پر قومی اوسط سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ جہاں پورے ملک میں نوزائدہ بچوں کی اموات کی شرح 24.9 فی 1000 پیدائش ہے وہیں جموں و کشمیر میں یہ شرح سنگل ہندسہ یعنی 9.8 پر آ گئی ہے ۔ اسی طرح جہاں ملک میں نوزائدہ بچوں کی اموات کی شرح 35.2 تھی جموں و کشمیر کیلئے یہی شرح 16.3 ہے ملک کیلئے 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح 41.9 اور جموں و کشمیر کیلئے 18.5 ہے ۔ مجموعی طور پر ملک کیلئے پیدائش کے وقت جنس کا تناسب 929 ہے اور جموں و کشمیر کیلئے یہ 976 ہے ۔ ادارہ جاتی پیدائش کیلئے قومی اوسط 88.6 فیصد ہے جبکہ جموں و کشمیر کیلئے یہی شرح 92.4 فیصد ہے ۔ مکمل حفاظتی ٹیکے لگانے والے بچوں کی قومی اوسط 83.8 فیصد ہے جبکہ جموں و کشمیر کیلئے یہ 96.5 فیصد ہے ۔ متوقع عمر کی قومی اوسط شرح 69.4سال ہے جبکہ جموں و کشمیر کیلئے یہی شرح 74 ہے ۔ جموں و کشمیر کووڈ ویکسی نیشن اور کووڈ منیجمنٹ میں پورے ملک میں ایک رول ماڈل کے طور پر ابھرا ہے ۔ صرف گذشتہ مالی سال میں ہی صحت کے شعبے میں 159 پراجیکٹس 670 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کئے گئے ہیں ۔ موجودہ مالی سال میں ہم نے 220 صحت کی دیکھ بھال کے منصوبوں کو مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کی لاگت 1757 کروڑ روپے ہے۔ پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کی 80 فیصد آبادی کا احاطہ کیا گیا ہے اور حکومت عام لوگوں کی صحت کی دیکھ بھال پر یومیہ 1.7 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے ۔ جموں و کشمیر کیلئے پانی کی اوسط کوریج 57.86 فیصد ہے جو کہ قومی اوسط 50.30 فیصدسے بہت زیادہ ہے ۔ تمام اسکولوں ، آنگن واڑی مراکز اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کو نلکے کے پانی کے کنکشن فراہم کئے گئے ہیں اور حکومت اگلے سال تک ہر گھر تک پانی فراہم کرنے کے خواب کو پورا کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔ پی ایم ڈی پی کے منصوبے پالیسی فالج کی وجہ سے طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھے لیکن صرف گذشتہ دو برسوں میں 53 میں سے 30 منصوبے تمام رکاوٹوں کو ختم کر کے مکمل کر لئے گئے ہیں ۔ باقی 23 منصوبوں میں سے 12 منصوبے رواں مالی سال میں مکمل کئے جائیں گے ۔ دریائے چناب پر دُنیا کے بلند ترین ریلوے پُل کی تعمیر کا کام زور و شور سے جاری ہے اور کشمیر کو کنیا کماری سے ریلوے سے ملانے کا خواب اگلے سال تک شرمندہ تعبیر ہو جائے گا ۔ کسان جموں و کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ پچھلے دو برسوں میں حکومت نے اپنے حالات کو بہتر بنانے کیلئے بہت سے پالیسی فیصلے کئے ہیں ۔ جے اینڈ کے ماہانہ فارم آمدنی کے لحاظ سے پورے ملک میں تیسرے نمبر پر ہے ۔ جموں و کشمیر زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں اصلاحات کیلئے بہتر کارکردگی دکھانے والی ریاستوں کے زمرے میں ملک میں 5 ویں نمبر پر ہے ۔ پرواز سکیم کے تحت 2500 ہیکٹر سے زائد زرعی اراضی کو ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن کے تحت لایا گیا ہے اور کشمیری پھلوں اور سبزیوں کو عالمی منڈی فراہم کی گئی ہے ۔ شاہ پور کنڈی پراجیکٹ جو چار دہائیوں سے زیر التوا تھا بالاخر 2793 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جا رہا ہے ۔ یہ منصوبہ اگلے سال مارچ تک مکمل ہو جائے گا اور اس سے 32173 ہیکٹر اراضی سیراب ہو گی ۔ پیارے بھائیو اور بہنو، محکمہ ریونیو میں کچھ بنیادی اصلاحات اور اقدامات شروع کئے گئے ہیں ۔ آپ کی زمین آپکی نگرانی پروجیکٹ کے تحت جمع بندی ، گرداوری ، میوٹیشن اور موسوی جیسے ریونیو ریکارڈ کو ڈیجٹل طور پر عام شہریوں کیلئے دستیاب کرایا گیا ہے جو پٹواری یا تحصیلدار کے دفتر میں گئے بغیر ان ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں ، اس کے علاوہ اصلاح کیلئے درخواستیں بھی داخل کر سکتے ہیں ۔ اب تک تمام 20 اضلاع کے 16 لاکھ شہریوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا ہے ۔ زمین کے تمام مالکان کو اردو ، ہندی اور انگریزی تین زبانوں میں زمین کی پاس بُک جاری کی جا رہی ہیں ۔ اراضی کے ریکارڈوں کی تخفیف بھی کی جا رہی ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لوگ مقبول زبانوں میں اپنے ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکیں ۔ یہ سہولت پروجیکٹ کیلئے پہلے مرحلے میں جموں اور سرینگر کے اضلاع میں فراہم کی جا رہی ہے ۔ ان لینڈ پاس بکس کے ساتھ زمین کے مالکان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی زمین کو بطور مالیاتی اثاثہ استعمال کر کے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے آسانی سے قرض حاصل کر سکیں ۔ سوامیتوا سکیم کے تحت جموں و کشمیر اونر شپ کارڈ جاری کرنے والا ملک کا پہلا یو ٹی بن گیا ہے ۔ سرینگر پورے ملک میں پہلا ضلع ہے جس نے اس اسکیم کے تحت 100 فیصد سیچوریشن حاصل کی ہے ۔ آزادی کے بعد سے اب تک جموں و کشمیر میں سرکاری عمارتوں میں صرف 300 پٹوار خانے کام کر رہے تھے ۔ رواں سال مارچ میں شروع کی گئی خصوصی مہم کے تحت ایک ماہ کے دوران سرکاری عمارتوں میں 1662 پٹوار خانے قائم کئے گئے ہیں ۔ ریونیو انتظامیہ میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت نے پٹواریوں کیلئے عوام کے سامنے آنے کیلئے مخصوص اوقات مقرر کئے ہیں ۔ ریونیو ریکارڈ میں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری کو روکنے کیلئے موبائل اور آدھار نمبروں کو ریونیو ریکارڈ کے ساتھ سیڈنگ کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ محکمہ ریونیو کی 24 خدمات کو پبلک سروس گارنٹی ایکٹ کے تحت لا کر عوام کو ان خدمات کی مقررہ مدت میں فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ جنگلات کے حقوق کے قانون کے تحت قبائلی بھائیوں کو پانی ، جنگل اور زمین پر حقوق دئیے گئے ہیں اور اس طرح ان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہے ۔ حکومت قبائلی نوجوانوں کیلئے پچھلے 44 برسوں میں بنائے گئے مجموعی تعداد سے زیادہ ہوسٹل مکمل کرے گی ۔ 1.69 لاکھ قبائلی بچوں کو وظائف فراہم کئے جا رہے ہیں اور بہترین کارکردگی دکھانے والے 100 بچوں کو این ای ای ٹی اور جے ای ای کیلئے کوچنگ فراہم کی جا رہی ہے ۔ اسی طرح قبائلی برادری کے 100 ہونہار بچوں کو سول سروسز کے امتحانات کیلئے کوچنگ فراہم کی جائے گی ۔ قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والے 2000 نوجوانوں کو ہنر کی تربیت دی جا رہی ہے اور ہوسٹل میں زیر تعلیم 800 قبائلی طلبا کو ٹیبلٹ اور اسپورٹس کٹس فراہم کی گئی ہیں ۔ اس سال سے تمام نقل مکانی کرنے والی آبادی کو سمارٹ کارڈ دئیے جا رہے ہیں تا کہ انہیں سفر میں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ حکومت جموں و کشمیر کی طرف سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے سامان اور مویشیوں کی نقل و حمل کیلئے 40 ٹرک فراہم کئے گئے ۔ مرکزی اور یو ٹی حکومت کشمیری پنڈتوں کی بحالی اور فلاح و بہبود کیلئے پوری طرح پر عزم ہے ۔ انتظامی سطح پر مخلصانہ کوششیں جاری ہیں اور عوام کو بھی اس مقصد کے حصول کیلئے آگے آنا چاہئیے ۔ 6000 ملازمتوں میں سے 5502 آسامیوں پر تقرریاں کی گئی ہیں اور 458 آسامیوں پر بھرتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گا ۔ ہم عزت مآب پی ایم پیکج کے تحت تعینات ملازمین کے مطالبات کو کافی حد تک حل کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ پی ایم ڈی پی کے تحت ان کی واپسی کی سہولت کیلئے 6000 ٹرانزٹ رہائش گاہوں کی تعمیر جو بہت سست تھی ، نے ایک نئی تحریک حاصل کی ہے ۔ 1000 یونٹس مکمل ہو چکے ہیں اور اس سال مزید 1100 یونٹس مکمل ہو جائیں گے ۔ مزید یہ کہ حکومت نے باقی 3900 یونٹس کو ڈیڑھ سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ تمام پی ایم پیکج اور اقلیتی ملازمین کو محفوظ مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے ۔ ملازمتیں اور رہائش اگرچہ اہم ہیں لیکن ان کی بحالی اور بہبود کا واحد حل نہیں ، اس لئے دیگر کوششیں بھی کی جا رہی ہیں ۔ کشمیری پنڈتوں اور دیگر بے گھر برادریوں کو جو بے گھر ہونے کا سامنا کر رہے ہیں ، 1997 میں نافذ جموں و کشمیر بے گھر غیر منقولہ جائیداد ایکٹ کو لاگو کر کے انصاف فراہم کیا گیا ہے ، جو گذشتہ سال سے نافذ ہے ۔ رواں سال جون تک 8000 شکایات موصول ہوئیں جن کی بنیاد پر 6500 شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے 2414 کنال اراضی ناجائیز قبضوں سے واگذار کروائی گئی جس سے ان 6500 خاندانوں کو تین دہائیوں کے بعد انصاف فراہم کیا گیا ۔ تمام بڑی سماجی بہبود کی اسکیمیں ۔ مشن اندر دھنش ، بڑھاپا پنشن ، بیوہ پنشن ، معذوری پنشن ، سپلیمنٹری نیوٹریشن ، ایس سی پری میٹرک اسکالر شپ ، ایس سی پوسٹ میٹرک اسکالر شپ ، اقلتی پری میٹرک اسکالر شپ ، اقلیتی پوسٹ میٹرک اسکالر شپ ، شوگر اور فوڈ گرین سبسڈی ، پوشن ابھیان ، نیوٹریشن ٹریکر ، یو جی اے ایل اے ، اجولا ، سوبھاگیہ ، پی ایم کسان سمان ندھی ، پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا ، کسان کریڈٹ کارڈ پچھلے تین برسوں میں 100 فیصد تک پہنچ گئے ہیں ۔ سوبھاگیہ یوجنا کے تحت 8.57 لاکھ استفادہ کنندگان کو بجلی کے کنکشن فراہم کر کے اس کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ اجولا اسکیم کے تحت 12.41 لاکھ دیہی خواتین کو ایل پی جی کنکشن فراہم کئے گئے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کو ترقی کی کوششوں سے فائدہ پہنچے ۔ پیارے بھائیو اور بہنو ، اس سال جموں و کشمیر کا دورہ کرنے والے ریکارڈ 12 ملین سیاح مرکزی زیر انتظام علاقے میں ہونے والی مجموعی ترقی اور تبدیلی کی گواہی دیتے ہیں ۔ یہ محکمہ سیاحت کی اب تک کی سب سے زیادہ سیاحوں کی شخصیت ہے ۔ جموں و کشمیر کے مکینوں کی رات کے فلائٹ اپریشن کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے ۔ آزادی کے امرت مہوتسو کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر جموں و کشمیر میں 75 آف بیٹ سیاحتی مقامات تیار کئے جا رہے ہیں ۔ جموں و کشمیر بالی ووڈ کیلئے شوٹنگ کا پسندیدہ مقام رہا ہے ۔ کئی دہائیوں کے بعد فلم سازوں کو راغب کرنے کیلئے گذشتہ سال ایک جامع فلم پالیسی کا آغاز کیا گیا تھا اور اس پالیسی کے نوٹیفکیشن کے ایک سال کے اندر فلموں اور ویب سیریز کی شوٹنگ کی 140 اجازت نامے جاری کئے گئے ہیں ۔ پہلے ہر سال محض 2 سے 3 لاکھ نوجوانوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کے مواقع ملتے تھے ۔ ہم نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور گذشتہ سال 17.5 لاکھ نوجوانوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا گیا تھا ، حکومت نے 35 لاکھ نوجوانوں کو کھیلوں کے مواقع فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ فیفا کے معیاری تجدید شدہ اور اپ گریڈ بخشی سٹیڈیم کو نوجوان کھلاڑیوں کیلئے وقف کیا گیا ہے اور تمام پنچائتوں میں کھیل کے میدان قائم کئے گئے ہیں ۔ تمام 20 اضلاع میں رگبی ، فُٹ بال ، کرکٹ ، والی بال ، کبڈی اور ہاکی کیلئے خواتین کی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ۔ باصلاحیت اور ہونہار اسپورٹس پرسنز کے کیرئیر کی ترقی کو محفوظ بنانے کیلئے نئی اسپورٹس پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے اور 2014 سے 2021 تک کا بیک لاگ دور کرنے کیلئے سرکاری خدمات میں ان کی تقرری کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ یو ٹی کے تمام 20 اضلاع میں 22 انڈور ملٹی پرپز ہال بنائے گئے ہیں اور قومی سطح کے ٹورنامنٹس کی میزبانی کیلئے 40 جدید ترین کھیلوں کے میدان بنائے گئے ہیں ۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی سفارشات کے مطابق یو ٹی کے تعلیمی نظام کو تبدیل کیا گیا ہے اور اسے ترتیب دیا گیا ہے ۔ آؤ اسکول چلیں مہم کے ذریعے پسماندہ طبقات کے 1.7 لاکھ طلباء کو کلاس رومز میں واپس لایا گیا ہے ۔ جموں و کشمیر نے اساتذہ کی تربیت کے لائلٹی پروگرام میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے ۔ نیشنل اچیومنٹ سروے میں یو ٹی کو ملک میں پرایمری تعلیم میں نمبر1 اور مڈل اسکول کی تعلیم میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے ۔ یو ٹی کے دور دراز علاقوں میں نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے 50 ڈگری کالج قائم کر کے گریجویٹ سطح پر 25000 اضافی نشستیں فراہم کی گئی ہیں ۔ گذشتہ 70 برسوں میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں یہ سب سے بڑا اضافہ ہے ۔ تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں یکساں تعلیمی کلینڈر متعارف کرایا گیا ہے ۔ پیارے بھائیو اور بہنو ، جب ہم اپنی آزادی کے 75 سال منا رہے ہیں ، عالمی نظام ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے ۔ جموں و کشمیر کے تمام شہریوں ، کسانوں ، نوجوانوں ، مزدوروں ، خواتین ، کاریگروں ، صنعت کاروں ، انجینئروں ، اساتذہ ، دستکاروں اور عوامی نمائندوں کو جموں و کشمیر کے اگلے 25 سال کے سفر کیلئے نئی قرار داد کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی ۔ آج اس پر مسرت موقع پر میں جموں و کشمیر کے لوگوں سے مطالبہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ جموں و کشمیر کے وقار اور سربلندی کو بحال کرنے کا ایک سنہری موقع ہے ۔ آئیے آنے والی نسلوں کیلئے خود انحصار جموں و کشمیر بنائیں اور اپنے ا ٓباؤ اجداد کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کریں ۔ آئیے ایک ایسا معاشرہ بنائیں جہاں ہر شہری ملک کی ترقی کے سفر میں ساتھی ہو اور عزت و وقار سے بھر پور زندگی بسر کرے ۔ آئیے ایک ایسا سماجی نظام بنائیں جس سے ہرفرد کو فائدہ ہو ۔ آئیے ہم ان سازشوں کے خلاف متحد ہوں اور ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں جنہوں نے جموں و کشمیر کو دہائیوں سے اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے ۔ آج ہمیں اپنے علاقے کے ہر انچ کا دفاع کرنے اور چیلنجوں کو مواقع میں تبدیل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرنا چاہئیے ۔ مستقبل نوجوانوں کا ہے ۔ آئیے ہم جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کی تعمیر میں نوجوان مردوں اور خواتین کی مکمل حمائت کا عزم کریں ۔ جموں و کشمیر آگے بڑھ رہا ہے ۔ میں سماج کے ہر طبقے سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایک خوش ، پرامن اور خوشحال جموں و کشمیر کیلئے اپنا گراں قدر حصہ ڈالیں ۔ یہ صرف اعتماد اور بقائے باہمی کی طاقت پر ہے کہ ہم جموں و کشمیر کے یو ٹی کیلئے سنہری مستقبل بنا سکتے ہیں ۔ آئیے ہم جموں و کشمیر کو نشہ مکت ، بھرشٹا چار مکت اور روزگار یُکت بنانے کا عہد کریں ۔ آئیے ہم رام دھاری سنگھ دنکر جی کی خطوط پر جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کی طرف چلتے ہیں ۔
آزادی کا یہ تاج بڑے تپ سے بھارت نے پایا ہے
مت پوچھو اس کیلئے دیش نے کیا کچھ نہیں گنوایا ہے
ہے پھوٹ رہی لالیما تِمر کی ٹوٹ رہی گھنکارا ہے
جے ہو ! کی سورگ سے چھوٹ رہی آشیش کی جیوتی دھارا ہے
ہو جہاں ستیہ کی چنگاری سُلگھے سُلگھے وہ جوالا بنے
کھوجے اپنا اُتکرش ابھے دُردھانت شکھا وکرال بنے
آگے وہ لکش پُکار رہا ہانکتے ہوا پر یان چلو
سردھانو پر دھرتے ہوئے چرن میگھوں پر گاتے گان چلو
میگھوں پر گاتے گان چلو
جئے ہند