جنگلی درندہ کو پکڑنے کیلئے کوئی سازوسامان ، افرادی قوت کی کمی : محکمہ وئلڈ لائف
ہندوارہ//شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہندواڑہ کے ہریل علاقے میں ایک تیندوے کے حملے میں محکمہ جل شکتی کا ایک 50سالہ ملازم شدید زخمی ہوا جوSKIMS میں اپنی زندگی کی جنگ لڑرہا ہے ۔جے کے این ایس نمہ نگار طارق راتھر کے مطابق ہرل ہندوارہ میں تیندوے نے ایک سرکاری ملازم پر اس وقت ہوا جب وہ دربل میں اپنے آبائی گاؤں میں پانی پوائنٹ کو کھولنے کے لئے جا رہا تھا جس دوران تیندوے نے اس پر اچانک حملہ کرکے اسے شدید زخمی کرڈالا۔ زخمی شخص کو بعد میں ضلع اسپتال ہندواڑہ منتقل کیا گیا جہاں سے اسے جی ایم سی بارہمولہ ریفر کیا گیا۔ جی ایم سی بارہمولہ کے ڈاکٹروں زخمی شخص کی حالت نازک دیکھ کر سکمز صورہ ریفر کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس شخص کی گردن اور ٹھوڑی میں شدید چوٹیں آئی ہیں اور اس کی مجموعی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ معمر شخص پر حملہ کرنے والا تیندوا وہی ہے جس نے حال ہی میں مونبل علاقے میں ایک بچے کی چیرپھاڑ کرکے مار ڈالا تھا۔ جب بلاک وائلڈ لائف آفیسر فاروق احمد پیر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس درندے کو پکڑنے میں بے بسی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہمارے پاس گھومنے والے درندے کو پکڑنے کے لیے کوئی خاطر خواہ سازوسامان یا افرادی قوت نہیں ہے کیونکہ حالیہ ماضی میں جانوروں کے حملوں کے ایک سلسلے کے بعد زیادہ تر دستیاب ذرائع اور ملازمین کو بارہمولہ لے جایا گیا ہے۔










